Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Shab e Barat: Fazeelat, Haqiqat Aur Etedal Ki Raah

Shab e Barat: Fazeelat, Haqiqat Aur Etedal Ki Raah

شبِ براءت: فضیلت، حقیقت اور اعتدال کی راہ

ماہِ شعبان المعظم اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جو رمضان المبارک کی تمہید اور تیاری کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اسی ماہ کی پندرھویں شب، جسے شبِ براءت کہا جاتا ہے، امتِ مسلمہ میں خاص اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں یہ رات صدیوں سے توجہ کا مرکز رہی ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کے گرد بعض غیر متوازن تصورات اور غیر ثابت شدہ اعمال بھی جمع ہوتے چلے گئے۔ ایسے حالات میں جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور اس کے اکابر علماء کا موقف نہایت واضح، متوازن اور شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہے، جو ہمیں افراط و تفریط دونوں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

لفظ براءت عربی زبان میں نجات، خلاصی اور گناہوں سے بری ہونے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے شبِ براءت وہ رات ہے جس میں بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی رحمت و مغفرت کا امیدوار بنتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس رات کا ذکر لیلۃ النصف من شعبان کے نام سے ملتا ہے۔ اگرچہ ان احادیث کے اسناد میں کلام کیا گیا ہے، مگر محدثین کرام کا اصولی فیصلہ یہ ہے کہ یہ روایات مجموعی طور پر اس رات کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کے اکابر، خصوصاً حضرت مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا محمد تقی عثمانی دامت برکاتهم اور دیگر اہلِ علم نے واضح کیا ہے کہ شبِ براءت کی فضیلت کو سرے سے رد کرنا بھی درست نہیں اور اس کے نام پر من گھڑت اعمال کو دین کا حصہ بنا لینا بھی گمراہی ہے۔ اصل راستہ وہی ہے جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے عمومی طرزِ عبادت سے ثابت ہے۔

احادیث میں آتا ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت کے ساتھ آسمانِ دنیا کی طرف توجہ فرماتے ہیں اور بے شمار بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں، لیکن چند بداعمال لوگ اس عمومی مغفرت سے محروم رہ جاتے ہیں، جن میں مشرک، کینہ پرور، قطع رحمی کرنے والا اور ناحق قتل کا مرتکب شامل ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ شبِ براءت کی اصل تیاری صرف نوافل کی کثرت نہیں بلکہ دلوں کی صفائی، باہمی تعلقات کی درستگی اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔

اس رات انفرادی طور پر عبادت کرنا مستحب ہے۔ نفل نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، درود شریف اور خصوصی طور پر استغفار و توبہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، لیکن شریعت نے اس رات کے لیے کسی خاص نماز، کسی مخصوص تعدادِ رکعات یا کسی اجتماعی عبادت کا حکم نہیں دیا۔ اس لیے ان چیزوں کو لازم سمجھنا یا دوسروں پر تھوپنا درست نہیں۔

اسی طرح پندرھویں شعبان کے روزے کے بارے میں بھی اعتدال کی راہ اختیار کی جاتی ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ سے پورے شعبان میں نفلی روزوں کی کثرت ثابت ہے، اس نسبت سے اس دن کا روزہ رکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے واجب، سنتِ مؤکدہ یا لازمی سمجھنا غلط ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے علماء نے ہمیشہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ نفلی عمل کو فرض یا لازم کا درجہ دینا شریعت میں تحریف کے مترادف ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شبِ براءت کے نام پر کئی ایسی رسومات رائج ہو چکی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ چراغاں، آتش بازی، مخصوص ناموں سے گھڑی ہوئی نمازیں، قبرستانوں میں ہنگامہ آرائی اور رات بھر کے اجتماعی مظاہرے نہ قرآن سے ثابت ہیں نہ حدیث سے۔ ان تمام بدعات سے کھل کر منع کیا گیا ہے اور امت کو خبردار کیا ہے کہ ایسی رسومات عبادت کو روحانیت کے بجائے رسم بنا دیتی ہیں۔

قبرستان جانا بذاتِ خود جائز بلکہ باعثِ عبرت ہے، کیونکہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، لیکن اسے شبِ براءت کے ساتھ اس طرح خاص کر دینا کہ گویا یہ لازم ہو، درست نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قبروں کی زیارت خاموشی، ادب اور دعا کے ساتھ ہو، نہ کہ شور و غل اور اجتماعی ہجوم کے ساتھ۔

شبِ براءت کا سب سے بڑا پیغام محاسبۂ نفس ہے۔ یہ رات ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ کیا ہماری نمازیں درست ہیں کیا ہم حلال و حرام کا خیال رکھتے ہیں کیا ہمارے دلوں میں کسی کے لیے کینہ، حسد یا بغض تو نہیں کیا ہم والدین، رشتہ داروں اور معاشرے کے حقوق ادا کر رہے ہیں اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہو تو محض ایک رات کی عبادت ہمیں حقیقی نجات نہیں دلا سکتی۔

اکابر علمائے کرام کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ شبِ براءت کو ایک انقلابی موڑ بنایا جائے، جہاں سے گناہوں کو چھوڑنے، زندگی سنوارنے اور اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کا سفر شروع ہو۔ یہی وہ فکر ہے جو اکابرِ دیوبند کی تعلیمات کا خلاصہ ہے اور جو آج بھی ہماری اجتماعی اصلاح کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شبِ براءت نہ تو محض ایک تہوار ہے اور نہ ہی ایک رسمی تقریب، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ جو لوگ اس رات کو سنت کے مطابق، اخلاص کے ساتھ اور بدعات سے بچتے ہوئے گزارتے ہیں، وہی درحقیقت اس کے حقیقی فیض سے مستفید ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فہمِ دین، اخلاصِ نیت اور اپنی زندگیوں کو سنت کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Tareekh e Lawa: Mitti, Mehnat Aur Yaadon Ka Tasalsul

By Asif Masood