Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Aaina Unko Dikhaya To Bura Maan Gaye

Aaina Unko Dikhaya To Bura Maan Gaye

آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

گزشتہ روز پشاور کے نشتر ہال میں منعقد ہونے والا ینگ لیڈر کنونشن بظاہر ایک معمول کی سیاسی تقریب معلوم ہوتا تھا، لیکن اس کے دامن سے اٹھنے والے سوالات پورے صوبے کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے تھے اس تقریب میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شرکت کی اور حسب روایت اپنے مخصوص انداز میں پرجوش اور جذباتی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ باقی صوبوں میں جعلی حکومتیں قائم ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک "اصلی حکومت" برسرِ اقتدار ہے۔ یہ وہ الفاظ تھے جو شاید تالیاں بجانے اور محفل کو گرم کرنے کے لیے تو کافی تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے والے الفاظ عوام کے دلوں میں بھی گونج پیدا کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ زخم پر نمک کی طرح اثر بھی کرتے ہیں۔

اس موقع پر اسلامیہ کالج پشاور کی ایک نوجوان، پُرعزم اور باہمت طالبہ، فاطمہ خان، نے نہ صرف ہمت دکھائی بلکہ وہ سوال پوچھا جو برسوں سے ہر محبِ وطن کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ اس نے وزیراعلی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر یہ "اصلی حکومت" ہے تو پھر یہ صوبہ ترقی کیوں نہیں کر سکا کیوں یہاں روزگار کم، تعلیم کمزور اور ادارے پسماندہ ہیں، جبکہ وہ صوبے جنہیں آپ جعلی حکومتیں کہتے ہیں، ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں جس پر وزیراعلی نے طالبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاید آپ کا تعلق یا تو اے این پی سے ہے یا جمعیت سے اور مزید فرمایا کہ ترقی آپ کسے کہتی ہے مجھے بھی سمجھائیے۔ بجائے اس ہےکہ سہیل آفریدی طالبہ کے سوال کا اطمینان بخش جواب دیتے اور انہیں اپنی کارکردگی دکھاتے مگر افسوس ان کا رویہ سطحی تھا طالبہ کے سوال میں سیاست نہیں تھی، بلکہ پورے صوبے کے عوام کی ترجمانی اور چیخ چھپی ہوئی تھی، یہ سوال عوام کی شدید مایوسی اور انتظار کا عکاس تھا۔

کنونشن کے اختتام پر۔ فاطمہ خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلی کو یاد دلایا کہ پی ٹی آئی پندرہ برس سے خیبر پختونخوا کی سیاست پر قابض ہے۔ پندرہ برس کسی بھی حکومت کے لیے ایک مکمل دور ہوتا ہے، ایک ایسا عرصہ جس میں پالیسی، وژن اور عملی اقدامات کی بنیاد پر صوبہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکتا تھا۔ مگر اس پندرہ سالہ دورِ حکومت کا حاصل صرف مردہ باد اور زندہ باد کے نعرے ہیں۔ یہ سوال محض ایک طالبہ کا نہیں بلکہ اس پورے صوبے کی جیتی جاگتی تصویر ہے، جسے ہر شخص روزانہ دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے اور اس کی بے بسی میں شریک ہے۔

طالبہ نے سب سے بڑا الزام یہ لگایا کہ اس دورِ حکومت میں نوجوانوں کو تعمیر کی بجائے تصادم کی طرف دھکیل دیا گیا۔ جذبات کو سیاست کا ایندھن بنایا گیا، نوجوانوں کے دلوں میں تبدیلی کے نام پر اسٹیٹ اور فوج کے خلاف نفرت پیداکی گئی اور ان کے خوابوں کو زہر سے بھر دیا گیا۔ نوجوان جیلوں میں چلے جاتے ہیں، ان کے والدین راتوں کو بےچینی میں جاگتے ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید ہی اس درد کو محسوس کر پائیں۔ صرف وہی کارکن رہا ہو پاتے ہیں جو اثر و رسوخ کے دائرے میں آجاتے ہیں، جن پر پارٹی کی خصوصی مہربانی ہوتی ہے باقی سب پر کٹھن وقت اور سخت حالات آ جاتے ہیں۔ کوئی ان کا پوچھنے والا نہیں ہوتا

فاطمہ خان نے واضح کیا کہ صوبے میں پی ایچ ڈی ہولڈر طلبہ بھی بے روزگار ہیں، اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہیں، اسپتال ادویات سے خالی ہیں، ڈاکٹر کم اور مریض زیادہ ہیں، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، پانی، بجلی اور گیس عوام کے لیے عذاب بن چکے ہیں اور حکمران صرف دوروں اور دعوؤں میں مصروف ہیں۔ یہاں عملی اقدامات کی کوئی صورتِ حال موجود نہیں، صرف تصویریں اور میڈیا میں دکھاوے کے لیے اقدامات نظر آتے ہیں۔

یہ سوال بظاہر ایک طالبہ کا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پورے خیبر پختونخوا کی آواز تھی، وہ آواز جو برسوں سے دبائی جارہی تھی۔ یہ وہ چیخ تھی جو ہر محب وطن کے دل میں گونج رہی تھی اور جسے حکومت کی نعرہ بازی اور نعروں کی سیاست نے خاموش کیا ہوا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ صوبے جنہیں وزیراعلیٰ جعلی حکومتیں کہتے ہیں، وہاں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، عوام کی خدمت میں رکاوٹیں کم ہیں اور انتظامی مشینری فعال ہے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے حکومت کو صرف سیاست کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت کا منصب سمجھ کر اسے عملی شکل دی اور صوبے کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں حکومت برائے سیاست کا تماشہ جاری ہے۔

سیاست برائے حکومت تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن حکومت برائے سیاست عوام کی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ مذاق ہے۔ ہر روز نیا چہرہ اقتدار کے ایوانوں میں آتا ہے، مگر پالیسیاں اور وژن وہی پرانی رہتی ہیں۔ عوام کے حقوق پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں اور مسائل کا حل فقط فائلوں کی زینت بن کر رہ جاتا ہے۔ طالبہ کے اٹھائے گئے سوالات دراصل عوام کی ترجمانی تھے اور اس کی واضح تشرہح یہ تھی:

حالِ دل ہم نے سنایا تو برا مان گئے
آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

تین بار اعتماد کرنے کے باوجود انہیں مایوسی ملی، ہر بار چہرے بدل گئے، لیکن پالیسیاں نہیں بدلیں۔ وزرائے اعلیٰ صرف پارٹی قیادت کے نمائندے کے طور پر آئے، عوام کے مسائل کے لیے نہیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ جن لوگوں نے ووٹ دیا وہ بھی نادم ہیں اور جنہوں نے نہیں دیا وہ بھی پریشان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام آخر جائیں تو کس کے پاس جائیں۔

شاید پی ٹی آئی کے پاس یہ آخری موقع تھا، مگر اس موقعے کو بھی انہوں نےگنوا دیا۔ اب صوبے کی عوام آہستہ آہستہ یہ نتیجہ اخذ کر رہی ہیں کہ ملک بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کا نعرہ محض ڈھونگ تھا، اب حقیقی تبدیلی کے لیے کسی اور کی طرف نظریں لگی ہوئی ہیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب حکمران صرف نعرے لگاتے ہیں، وعدے کرتے ہیں اور عمل سے گریز کرتے ہیں، تو معاشرہ زوال کے دہانے پر آ جاتا ہے۔ یہی حال اس وقت خیبرپختونخوا کاہے، خیبر پختونخوا کے عوام آج بھی امید کی روشنی کےمتلاشی ہیں، مگر یہ امید اب عملی اقدامات اور حقیقی ترقی کی صورت میں ہی پوری ہو سکتی ہے اوراس کےلئے تبدیلی کی تبدیلی ناگزیرہے۔

Check Also

Jab Qalam Asar Dikhane Lage

By Asif Masood