Thursday, 05 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. 5 February Kashmiri Bhaiyon Ke Sath Yakjehti Ka Din

5 February Kashmiri Bhaiyon Ke Sath Yakjehti Ka Din

5 فروری کشمیری بھائیوں کےساتھ یکجہتی کادن

پانچ فروری پاکستان بھر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے تحت بھی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ ان تقریبات میں مقبوضہ کشمیر سمیت کشمیر کے تمام حصوں اور اس خطے میں بسنے والے کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جاتا ہے۔ یہ تقریبات پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی بھی مناتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں، ان کے حقِ خود ارادیت کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ جو ظلم و ستم جاری ہے اس کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہ دن کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر خصوصی حیثیت رکھتا ہے۔

تاہم اس دن کو سرکاری طور پر منانے کا آغاز 2004ء میں ہوا، جب اُس وقت کے وزیرِ اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی اور وزیرِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے یومِ یکجہتیٔ کشمیر کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا۔ پانچ فروری 2004ء کو وزیرِ اعظم جمالی نے آزاد کشمیر کے دارالخلافہ مظفرآباد میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور جموں و کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ تب سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ہر سال اسی دن یہ مشترکہ اجلاس منعقد ہوتا ہے اور وزیرِ اعظم پاکستان یا اُن کا نامزد نمائندہ اس اجلاس میں ضرور شرکت کرتا ہے۔

دو ہزار چار میں کشمیر کمیٹی کے قیام کے بعد حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی کشمیر کاز اور کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مہم کا باقاعدہ آغاز ہوا اور رفتہ رفتہ اس میں تیزی دیکھنے کو ملی، لیکن اس مہم کو تقویت اُس وقت ملی جب کشمیر پر خصوصی مہارت اور بصیرت رکھنے والے پاکستان کے سینئر سیاست دان مولانا فضل الرحمٰن کو دو ہزار آٹھ میں اس کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ وہ بلا تعطل دو سیشنز میں دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار اٹھارہ تک بلا مقابلہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور کشمیر کاز کے لیے انہوں نے انتہائی موثر جدوجہد کی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مختلف ممالک کے دورے کیے، تنظیموں اور عالمی اداروں سے ملاقاتیں کیں، بحث و مباحثے کیے، انہیں پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس مؤقف کی حمایت کے لیے درخواستیں بھی کیں۔ ان کی کوششیں کافی حد تک کامیاب ہوئیں اور ان دس برسوں میں مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر نمایاں طور پر اجاگر رہا۔ انہوں نے مختلف ممالک کے دورے کیے اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے: فرانس (5 نومبر 2008) برطانیہ (سال 2010 اور 20 ستمبر 2012 بذریعہ خط) ایران (12 جنوری 2009)انڈیا (19 اکتوبر 2011)سعودی عرب (17 جنوری 2015) آسٹریلیا (20 اکتوبر 2011)۔

چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمٰن نے درج ذیل عالمی و بین الاقوامی اداروں میں بھی مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا:

اقوامِ متحدہ (UNO)

او آئی سی (OIC)

سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ

اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر کشمیری قیادت سے بارہا ملاقاتیں اور مسلسل رابطے کیے گئے، تاکہ کشمیری عوام کی آواز عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکے۔

اپریل 2017 میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے جنرل سیکریٹری کو کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف سے باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ جنوری 2015 میں پارلیمنٹ ہاؤس پاکستان میں کشمیر کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں کشمیر کی تازہ صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

فروری 2014 میں چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمٰن کی خصوصی ہدایت پر ایک وفد نے اقوامِ متحدہ کو کشمیر کے حوالے سے منظور شدہ قراردادوں کی یاد دہانی کروائی اور عالمی برادری سے ان پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح یکم اگست 2014 کو پارلیمنٹ ہاؤس پاکستان میں کشمیر کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اقوامِ متحدہ سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا اور بعد ازاں فروری میں جنرل سطح پر اس سلسلے کو آگے بڑھایا گیا۔

ان تمام سعی و محنت اور مسلسل کوششوں کے باوجود نہ تو انہیں کوئی صلہ دیا گیا اور نہ ہی ان کے کردار اور کام کو مزید آگے بڑھایا گیا، بلکہ اس کے برعکس ان کی شدید کردار کشی کی گئی اور ان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا کہ وہ کشمیر کمیٹی سے چمٹے ہوئے ہیں اور اس کے بغیر ان کا کوئی وجود نہیں۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے، تاریخ میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ ان کی یہ کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور جو اقدامات ان کے دورِ چیئرمین شپ میں ہوئے وہ شاید نہ اس سے پہلے دیکھے گئے اور نہ بعد میں۔

بدقسمتی سے، جب انہوں نے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کو خیر باد کہا اور یہ کمیٹی دیگر افراد کے حوالے کی گئی تو نہ تو ان افراد کی اس کمیٹی کے ساتھ کوئی نسبت تھی، نہ کوئی مطالعہ، نہ کوئی بصیرت اور یوں ان کی سابقہ تمام کوششوں کو بالکل خاک میں ملا دیا گیا۔ دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے لے کر دو ہزار چھبیس تک، تاحال اس کمیٹی کا وجود ہی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اس کا کوئی نام و نشان، کوئی کردار ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔

اگرچہ انفرادی طور پر اور سیاسی، سماجی و مذہبی تنظیموں کی سطح پر پانچ فروری کے موقع پر یومِ یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے، لیکن حکومتی سطح پر دو ہزار اٹھارہ کے بعد اس حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ نہ اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا، نہ ہی کوئی ایسی سنجیدہ کوشش سامنے آئی جس کے ذریعے ہمارے کشمیری بھائیوں کو ان کے حقِ خود ارادیت کے مطابق فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بزرگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے نجات کے لیے کوئی ٹھوس حکمتِ عملی اپنائی گئی۔

تادمِ تحریر اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی یا عملی اقدام نظر نہیں آتا اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں کشمیر کمیٹی کو محض کاغذات کی حد تک چھوڑ دیا گیا ہے۔ بیانات تو دیے جاتے ہیں، مگر عملی جدوجہد، مؤثر سفارتی ملاقاتیں اور سنجیدہ اقدامات کہیں دکھائی نہیں دیتے، جو بلاشبہ ایک لمحۂ فکریہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کمیٹی کوایک بارپھر فعال کیاجائے اوراس میں ایسےرجال کارلئےجائیں جواس کےپس منظراورموقف سےشناساہوں تاکہ حقیقی سطح پر اس کارول نمایاں ہوں اور کشمیری بھائیوں کو اس سے کچھ فائدہ بھی حاصل ہو۔

Check Also

Dam Torti Hamari Riwayati Sahafat

By Nusrat Javed