Reham Ki Maut: Aik Sawal Jis Ka Jawab Kisi Ke Pas Nahi
رحم کی موت: ایک سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں
بارسلونا میں اس ہفتے ایک پچیس سالہ لڑکی مٹی کے حوالے کر دی گئی۔ اس کا نام نولیا کستیو تھا۔ ریڑھ کی ہڈی کے ایک سنگین زخم نے اس کی زندگی کو ایسی اذیت میں بدل دیا تھا جس میں دن اور رات، نیند اور جاگ، امید اور تھکن سب ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئے تھے۔ اس نے عدالت سے درخواست کی کہ اسے وہ حق دیا جائے جسے اسپین کی زبان میں رحم کی موت کہا جاتا ہے۔ باپ نے مخالفت کی۔ مخالفت بھی عام نہیں تھی۔ عیسائی وکلا اس کے ساتھ تھے۔ پانچ عدالتوں نے، پھر یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے بھی، اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ مگر باپ لڑتا رہا۔ یہ قانونی جنگ چھ سو ایک دن چلتی رہی۔ آخرکار اس کی رحم کی موت کی درخواست پر عملدرامد ہوا اور ہسپتال کے عملے نے اس کی خودکشی میں طبی معاونت فراہم کی۔ اس کے آخری الفاظ تھے، میں اب مزید نہیں چل سکتی۔
اب سوال یہ ہے کہ یہاں ظالم کون تھا؟ بیٹی جو مرنا چاہتی تھی؟ باپ جو اسے زندہ رکھنا چاہتا تھا؟ عدالت جو قانون کے مطابق فیصلہ دے رہی تھی؟ یا وہ طب جو جسم کو تو کھینچتی چلی جاتی ہے مگر درد کا حساب نہیں رکھ پاتی؟ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی مرتبہ سمجھتا ہے کہ زندگی صرف سانس کا نام نہیں اور موت صرف دل بند ہو جانے کا واقعہ نہیں۔
رحم کی موت کا تصور نیا نہیں۔ اس کی جڑیں قدیم یونان تک جاتی ہیں۔ سقراط کے زمانے میں بھی یہ سوال موجود تھا کہ کیا انسان کو ایسی موت کا حق ہونا چاہیے جو بے عزتی، ذلت اور ناقابل برداشت تکلیف سے بچا لے؟ یونانی مفکرین میں اس پر اختلاف تھا لیکن ایک دھارا ایسا ضرور تھا جو وقار کے ساتھ مرنے کے خیال کو انسانی اختیار کا حصہ سمجھتا تھا۔
پھر قرون وسطیٰ آئے۔ یورپ میں کلیسا نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ زندگی خدا کی ملکیت ہے۔ انسان نہ اسے اپنی مرضی سے شروع کر سکتا ہے نہ ختم کر سکتا ہے۔ اسلام اور عیسائیت دونوں میں بنیادی اصول یہی ہے کہ جان عطیہ ہے، ملکیت نہیں۔ انسان امانت دار ہے، مالک نہیں۔
لیکن اس بحث کی تاریخ میں سب سے تاریک باب نازی جرمنی ہے۔ ہٹلر کے عہد میں رحم کی موت کا لفظ ایک خوفناک پردہ بن گیا۔ معذوروں، ذہنی مریضوں اور کمزور سمجھے جانے والے ہزاروں لوگوں کے قتل کو چھپایا گیا۔ اس مہم کو آج دنیا ایکشن ٹی فور کے نام سے جانتی ہے اور اس میں کم از کم ستر ہزار افراد مارے گئے۔ یہ قتل رحم کے نام پر ہوا، حالاں کہ اس میں نہ رحم تھا نہ انسانیت۔
پھر جدید دنیا نے ایک نیا موڑ لیا۔ نیدرلینڈز 1973، اوریگن امریکا 1997، بیلجیم 2002، کینیڈا 2016 اور اسپین 2021 میں اس راستے کو قانونی شکل ملی۔ اسپین میں صرف 2021 سے اب تک 2,400 سے زیادہ درخواستیں آ چکی ہیں اور 1,100 سے زائد منظور ہو چکی ہیں۔
رحم کی موت کے حق میں سب سے بڑی دلیل ذاتی اختیار ہے۔ میرا جسم میرا ہے، میری تکلیف میری ہے، میری زندگی میری ہے، لہٰذا اس کے اختتام کا فیصلہ بھی میرا ہونا چاہیے۔ بعض اوقات زندگی کو طول دینا انسانیت نہیں، ظلم ہوتا ہے۔
مخالفت کرنے والوں کے پاس بھی کم زور دلیل نہیں۔ مذہب کہتا ہے جان اللہ کی امانت ہے۔ پھر اس قانون کے غلط استعمال کا خوف ہے، بہت حقیقی خوف۔ اگر قانون نے دروازہ کھول دیا تو کیا بوڑھے، معذور، ڈپریشن کے مریض غیر محسوس دباؤ میں یہ فیصلہ نہیں کریں گے؟
تکلیف کی توثیق کون کرے؟ ڈاکٹر جسم کو پڑھتا ہے، روح کو نہیں۔ عدالت قانون کو دیکھتی ہے، رات بھر جاگ کر کراہنے والے وجود کو نہیں۔ خاندان محبت کرتا ہے اور محبت اکثر اپنی خواہش کو دوسرے کی ضرورت سمجھ بیٹھتی ہے۔
نولیا کستیو کا معاملہ اسی لیے اتنا المناک ہے۔ اس کا باپ اس سے محبت کرتا تھا۔ مگر یہی محبت اس کے لیے چھ سو ایک دن کا عذاب بن گئی۔ باہر سے دیکھیے تو باپ کی محبت دکھائی دیتی ہے، اندر سے دیکھیے تو بیٹی کی قید نظر آتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں محبت اور اختیار ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔
ہم اس بحث کو اکثر آسان بنانا چاہتے ہیں۔ یا تو کہتے ہیں یہ سراسر قتل ہے، یا کہتے ہیں یہ سراسر آزادی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس میں مذہب، طب، قانون، خاندان اور ذاتی اذیت سب ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں اور کوئی بھی تنہا فیصلہ نہیں کر پاتا۔
اس کا جواب شاید نہ مذہب کے پاس ہے، نہ سائنس کے پاس، نہ عدالت کے پاس۔ جواب شاید صرف اس شخص کے پاس ہوتا ہے جو اس درد کے اندر زندہ ہے۔

