Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Tayyab Ilyas
  4. Ilm Ki Aag

Ilm Ki Aag

علم کی آگ

گاؤں کی وہ لائبریری اب شاید نقشے میں بھی پوری طرح موجود نہ ہو، مگر میری یاد میں وہ آج بھی اسی طرح آباد ہے جیسے جاڑے کی رات میں کسی دور کچے گھر کی روشن کھڑکی۔ باہر نیم کا درخت تھا، اس کی شاخوں پر شام اترتی تو یوں لگتا جیسے پرندوں نے اندھیرے کو چونچوں میں بھر کر وہاں رکھ دیا ہو۔ اندر مٹی، کاغذ، دیمک مار دوا، چمڑے اور وقت کی ملی جلی خوشبو تھی۔ الماریوں میں رکھی کتابیں کسی لشکر کی مانند صف بستہ نہ تھیں، وہ بزرگوں کی طرح بیٹھی تھیں، کسی کی جلد پھٹی ہوئی، کسی کے اوراق زرد، کسی کے کناروں پر کسی گم نام طالب علم کی پنسل کی لکیر۔ اس خاموش کمرے کے بیچ ایک بڈھا جلد ساز بیٹھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دھند تھی مگر ہاتھوں میں ایسی روشنی کہ پھٹی ہوئی کتاب اس کے سامنے آکر اپنا وقار واپس پا لیتی۔

اس کے ہاتھ عجیب تھے۔ انگلیوں کے پوروں پر گوند کی باریک تہہ جمی رہتی، ناخنوں کے کناروں میں وقت کا زرد رنگ اتر آیا تھا، ہتھیلیوں پر چھری، سوئی، دھاگے اور کاغذ کے لمس نے ایسی لکیریں کھینچ دی تھیں جیسے کسی پرانے نقشے پر دریا خشک ہو کر نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ کتاب کی ریڑھ کی ہڈی سیدھی کرتے ہوئے ایسے جھکتا تھا جیسے کسی بیمار بچے کی سانس سن رہا ہو۔ کبھی غالب کا دیوان اس کے سامنے کھلا ہوتا، کبھی تاریخ کی وہ دبیز جلد جس پر پچھلے پچاس برس کے طالب علموں کی انگلیوں کی گرد جمی تھی، کبھی اقبال کی نظموں کا بوسیدہ نسخہ۔ وہ ہر کتاب کو اس کے مزاج کے مطابق چھوتا تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ کون سا ورق ذرا سی سختی سے رنجیدہ ہو جائے گا۔

ایک شام وہاں ایک نوجوان آیا۔ کپڑے نفیس، جوتے چمکتے ہوئے، بالوں میں شہر کی تیزی، آنکھوں میں وہ بے چینی جو آج کل ہر دوسرے چہرے پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس نے آتے ہی لائبریری کو یوں دیکھا جیسے آدمی کسی پرانے فرنیچر کی دکان میں راستہ بھول کر آگیا ہو۔ اس نے بڈھے سے کہا کہ وہ پڑھنا چاہتا ہے، مگر جلدی۔ اسے کوئی ایسا راستہ بتایا جائے کہ کم وقت میں ڈگری مل جائے، اچھی نوکری لگ جائے، لوگ نام کے آگے دو چار حروف دیکھ کر کھڑے ہو جائیں۔ اس نے علم کا ذکر بھی کیا، مگر اس کے لہجے میں علم نہیں، سند کی کھنک تھی۔ وہ پڑھنا نہیں چاہتا تھا، وہ دکھائی دینا چاہتا تھا۔

بڈھے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، پھر چراغ کی لو سیدھی کی۔ رات ہو چلی تھی۔ تیل کے چراغ کی زرد روشنی میں اس کا چہرہ اور زیادہ پرانا اور زیادہ سچا لگنے لگا۔ اس نے دھیرے سے کہا، بیٹا، علم وہ آگ ہے جو اپنے ہی سینے کی لکڑی مانگتی ہے۔ یہ کسی اور کی ہتھیلی سے نہیں جلتی، نہ استاد کی آہ سے، نہ باپ کی جیب سے، نہ زمانے کی سفارش سے۔ جس نے اپنی نیند، اپنی خواہش، اپنی سہولت اور اپنی انا اس آگ کے حوالے نہ کی، اس کے حصے میں صرف راکھ آتی ہے، روشنی نہیں۔

نوجوان ہلکا سا مسکرایا، جیسے اسے کوئی قدیم بات سنائی گئی ہو جس کا موجودہ زمانے میں مصرف نہ ہو۔ بولا، حضرت، زمانہ بدل گیا ہے۔ اب قابلیت سے زیادہ کاغذ چلتا ہے۔ دیوار پر آویزاں سندیں، دفتر کے دروازے، شناخت، مرتبہ، رشتہ، سب کچھ انہی سے تو ملتا ہے۔ بڈھا ہنسا نہیں، صرف اس نے ایک پھٹی ہوئی کتاب کے ورق سیدھے کرتے ہوئے کہا، چیرٹی سے کوئی نہیں پڑھتا اور جسے صرف سہولت پڑھاتی ہے، وہ پہلے امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے، چاہے نتیجے کے کاغذ پر امتیاز ہی کیوں نہ لکھا ہو۔

مجھے اس لمحے اقبال کا مصرع یاد آیا:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

مگر ہمارے نصیب میں اب اکثر مٹی نم نہیں کی جاتی، اس پر صرف مہریں لگائی جاتی ہیں۔ نوجوان نسل کے دلوں میں سوال کم، مقابلہ زیادہ ہے۔ وہ کتاب کھولنے سے پہلے پوچھتے ہیں اس کا فائدہ کیا ہے، اس سے نوکری ملے گی یا نہیں، اس باب سے کتنے نمبر آئیں گے۔ جیسے علم کوئی باغ نہ ہو، بس ایک دکان ہو جہاں سے مقررہ نرخ پر کامیابی خریدی جا سکے۔

پھر میں نے شہر کے اُن تعلیمی قلعوں کو یاد کیا جہاں دیواریں بلند ہیں مگر فکر پست۔ ہمارے ملک کی بہت سی جامعات اب علم کی خانقاہیں نہیں رہیں، سندوں کی چکیاں بن گئی ہیں۔ راہداریوں میں قدموں کی آہٹ بہت ہے، ذہنوں میں خاموشی کم۔ ہال بھرے ہوتے ہیں، مگر کتابوں سے نہیں، نقل شدہ اسائنمنٹوں سے۔ ایک طالب علم دوسرے سے مسودہ مانگتا ہے، دوسرا تیسرے سے اور یوں خیال کی جگہ فوٹو کاپی لے لیتی ہے۔ استاد منبر پر کھڑے ہیں مگر برسوں سے شاید خود کوئی کتاب مکمل نہ پڑھی ہو۔ ان کی گفتگو میں حوالوں کی تازگی نہیں، پرانے نوٹس کی باسی مہک ہے۔ سوال کرنے والا طالب علم انہیں گستاخ معلوم ہوتا ہے اور رٹ لینے والا ذہین۔

فیض کا ایک مصرع ایسے ہی موسموں کے لیے کہا گیا معلوم ہوتا ہے:

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

مگر ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ناامیدی بھی پوری نہیں، کیونکہ ہم نے ناکامی کے معنی ہی بدل دیے ہیں۔ جو سوچ نہ سکے، وہ بھی کامیاب، جو سوال نہ کر سکے، وہ بھی نمایاں، جو عمر بھر کتاب سے بے وفائی کرے، اس کے نام کے ساتھ بھی القاب کے ہار۔ یہ کیسی بستی ہے جہاں عقل کی قیمت کم اور فریم کی قیمت زیادہ ہے؟

میں واپس اسی لائبریری میں آتا ہوں۔ وہ نوجوان ابھی بھی بیٹھا ہے، مگر اب اس کے چہرے پر پہلی سی شوخی نہیں۔ بڈھا ایک پرانی جلد پر سنہری ورق چڑھا رہا ہے۔ اس کی سوئی چلتی ہے تو لگتا ہے جیسے وقت کی پھٹی ہوئی قمیص رفو ہو رہی ہو۔ چراغ کی لو کبھی تیز، کبھی مدھم۔ باہر رات گہری ہوچکی ہے۔ دور کہیں کتے بھونکتے ہیں، کہیں بیلوں کی گھنٹی بجتی ہے، کہیں کسی گھر میں ماں اپنے بچے کو آخری لوری دے رہی ہے اور اس چھوٹے سے کمرے میں ایک بوسیدہ کتاب، ایک بوڑھا جلد ساز، ایک بے قرار نوجوان اور ایک چراغ پوری تہذیب کا مقدمہ لکھ رہے ہیں۔

بڈھے نے اچانک ایک اور کتاب کھولی۔ پہلے صفحے پر کسی پرانے قاری نے غالب لکھ چھوڑا تھا:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

اس نے نوجوان سے کہا، بیٹا، خواہش بری نہیں ہوتی، مگر جب خواہش مرتبے کی ہو اور محنت محض دکھاوے کی، تب آدمی اپنے اندر سے خالی ہو جاتا ہے۔ ڈگری دروازہ کھول سکتی ہے، مگر اندر داخل ہو کر بیٹھنے کے لیے علم چاہیے اور دیر تک ٹھہرنے کے لیے کردار۔ سند تمہیں تعارف دے گی، شعور تمہیں معنی دے گا۔

نوجوان نے پہلی بار سامنے رکھی کتاب کو ہاتھ لگایا۔ شاید اسے محسوس ہوا کہ کاغذ بھی سانس لیتا ہے اور لفظ بھی آدمی کو دیکھتے ہیں۔

بڈھے نے چراغ کی بتی ذرا اور اوپر کی اور آہستہ سے کہا، ہمارے عہد کو ڈگری نہیں، جلتے ہوئے چراغ درکار ہیں۔ ایسے چراغ جو اندھیروں سے سمجھوتا نہ کریں، جو تیز ہوا میں بھی اپنے شعلے کی حفاظت جانتے ہوں، جو دوسروں کے لیے راستہ بنیں مگر پہلے خود جلنا سیکھیں۔

اصل تعلیم یہی ہے۔ یہ انسان کو روزگار سے پہلے بیداری دیتی ہے، دلیل سے پہلے دیانت، تقریر سے پہلے تفکر اور کامیابی سے پہلے ظرف۔ علم مانگا نہیں جاتا، کمایا جاتا ہے، دیا نہیں جاتا، جل کر حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی آگ اگر سینے میں اتر جائے تو آدمی بے نام ہو کر بھی معتبر ہو جاتا ہے اور اگر یہ آگ نہ ہو تو دیوار بھر سندیں بھی محض سرد کاغذ رہ جاتی ہیں۔

Check Also

Haikal e Sulemani

By Javed Chaudhry