Qurtaba Ka Aahni Tajdar
قرطبہ کا آہنی تاجدار

سایہ گہرا ہو رہا ہے اور قرطبہ کے قصرِ خلافت کے اس تنہا دالان میں صرف میری سانسوں کی اکھڑتی ہوئی آواز گونج رہی ہے۔ باہر رات کی سیاہی میں اندلس کا آسمان ساکت ہے، لیکن میرے سینے کے اندر یادوں کا ایک طوفان برپا ہے۔ وہ جو مجھے سنگدل کہتے تھے، جو مجھے غاصب اور بے رحم امیر کے نام سے پکارتے تھے، کاش وہ ایک پل کے لیے اس بوڑھے، مرتے ہوئے شخص کی روح میں جھانک سکتے۔
میرے سامنے میز پر اندلس کا نقشہ پھیلا ہوا ہے، جس پر جابجا خون کے سرخ دھبے اور میری شاہی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ وہ سلطنت ہے جسے میں نے اپنے خون، اپنی نیندوں اور اپنی راتوں کا چین گنوا کر بچایا ہے۔ شمال کی سرحدی پٹیوں سے لے کر قرطبہ کی گلیوں تک، میں نے بغاوتوں کے سانپوں کے سر کچلے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ میری تلوار کبھی میان میں نہیں گئی۔ وہ سچ کہتے ہیں، کیونکہ اگر میں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی تلوار میان میں ڈال لیتا، تو آج اندلس کا نام و نشان مٹ چکا ہوتا اور فرانک (Franks) کے گھوڑے قرطبہ کی جامع مسجد میں بندھے ہوتے۔
میری عمر اس وقت پچاس سال کے قریب ہے، لیکن مسلسل جنگوں، اندرونی غداریوں اور سلطنت کے بھاری بوجھ نے مجھے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔ میری آنکھیں بند ہو رہی ہیں، لیکن ذہن ماضی کے ان خونریز معرکوں کی طرف جا رہا ہے جہاں سے میری زندگی کا اصل سفر شروع ہوا تھا۔
میں اس عظیم اور مظلوم بنو امیہ کے خون سے ہوں، جسے دمشق میں عباسیوں نے مٹانے کی کوشش کی تھی۔ میرے دادا، عبد الرحمن الداخل، جنہیں دنیا "صقر القریش" (قریش کا عقاب) کہتی ہے، وہ لاشوں کے ڈھیر سے نکل کر، افریقہ کے صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے تنِ تنہا اندلس پہنچے تھے۔ انہوں نے یہاں ایک ایسی سلطنت کھڑی کی جو دنیا کے لیے رشک کا باعث بنی۔ میرے والد، ہشام اول، ایک متقی اور عادل انسان تھے، جن کے دور میں اندلس نے امن کا سانس لیا۔
جب سنہ 180 ہجری (796 عیسوی) میں میرے والد کا انتقال ہوا اور میں نے اندلس کی باگ ڈور سنبھالی، تو میری عمر محض پچیس سال تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ میں اپنے والد کی طرح رعایا پر شفقت کروں گا، علم کی مجلسیں سجاؤں گا اور امن کا سفیر بنوں گا۔ لیکن تخت پر بیٹھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ تاج پھولوں کا نہیں، بلکہ دہکتے ہوئے انگاروں کا ہے۔
سلطنت کے چاروں طرف حسد، لالچ اور غداری کے بادل منڈلا رہے تھے۔ میرے اپنے چچا، سلیمان اور عبداللہ، میری جوانی کو میری کمزوری سمجھ کر میری ہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عیسائی بادشاہوں سے ہاتھ ملا لیا تاکہ مجھے قرطبہ کے تخت سے ہٹا سکیں۔ اسی وقت مجھے معلوم ہوگیا کہ اگر مجھے بنو امیہ کے اس آخری چمن کی حفاظت کرنی ہے، تو مجھے اپنے اندر کے رحم دل نوجوان کو مارنا ہوگا اور ایک آہنی انسان بننا ہوگا۔
باہر کی دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ شمال کی سرحدوں پر موجود فرانک (Frankish Empire) کی عظیم سلطنت تھی، جس کا سربراہ شاہ شارلمین (Charlemagne) تھا۔ وہ پورے یورپ کا طاقتور ترین عیسائی بادشاہ تھا، جس کا خواب اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانا تھا۔
جب میرے چچا نے بغاوت کی، تو شارلمین کے بیٹے، لوئس (Louis the Pious) نے موقع غنیمت جانا۔ عیسائی فوجوں نے ایک ٹڈی دل لشکرکے ساتھ ہماری شمالی سرحدوں، جنہیں ہم "ثغر" (The Marches) کہتے ہیں، پر حملہ کر دیا۔ سنہ 801 عیسوی میں، ایک طویل اور ہولناک محاصرے کے بعد، اندلس کا سب سے اسٹریٹجک اور خوبصورت سرحدی شہر، بارسلونا، مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔
بارسلونا کا گرنا میرے دل پر ایک کاری ضرب تھا۔ قرطبہ میں لوگ خوفزدہ تھے اور سرحدوں پر موجود عیسائیوں کے حوصلے بلند ہو چکے تھے۔ فرانک کے سپاہی ہمارے سرحدی علاقوں میں لوٹ مار کر رہے تھے، مسجدوں کو گرایا جا رہا تھا اور مسلم خاندانوں کو قیدی بنایا جا رہا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ روایتی قبائلی فوج، جو صرف مالِ غنیمت کے لیے لڑتی تھی یا کسی قبیلے کی عصبیت پر اکٹھی ہوتی تھی، اس منظم یورپی سیلاب کو نہیں روک سکتی۔
یہی وہ وقت تھا جب میں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے اندلس کی عسکری تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ میں نے عرب اور بربر قبائل پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ ان کی وفاداریاں ہر روز بدلتی تھیں۔
میں نے کثیر رقم خرچ کرکے غلاموں، بربروں اور یورپی خطوں سے آئے ہوئے جنگجوؤں پر مشتمل ایک مکمل پیشہ ور، منظم اور وفادار فوج تیار کی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا اندلس کے کسی قبیلے یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا صرف ایک ہی خدا تھا اور ایک ہی امیر، یعنی میں۔ یہ میری "مملوک" (کرائے کی پیشہ ور فوج) تھی، جو لوہے کی زرہیں پہنتی تھی اور جن کے ڈسپلن کے سامنے کوئی نہیں ٹک سکتا تھا۔
لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ میں نے غیر ملکیوں کی فوج کیوں بنائی، لیکن میں تا تھا کہ اندلس کا دفاع کسی قبیلے کی غیرت سے نہیں، بلکہ لوہے کے نظم و ضبط سے ہی ممکن ہے اور میری اس فوج نے جلد ہی اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا۔
جیسے ہی میری یہ نئی فوج تیار ہوئی، میں نے خود اپنے گھوڑے کی لگام تھامی اور شمال کی طرف مارچ کر دیا۔ وہ سفر بڑا کٹھن تھا۔ اندلس کے دشوار گزار پہاڑی راستوں، دریاؤں اور گھنے جنگلات کو عبور کرتے ہوئے ہم فرانک کی حدود میں داخل ہوئے۔
میدانِ جنگ میں، میرے سامنے شارلمین کے نامور جرنیل اور اس کے بیٹے کی فوجیں تھیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ قرطبہ کا یہ امیر محلوں میں رہنے والا کوئی عیاش شہزادہ ہے۔ لیکن جب میری مملوک فوج نے عیسائیوں کے لشکر پر حملہ کیا، تو زمین دہل اٹھی۔ یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی، یہ اندلس کی بقا کی جنگ تھی۔
میں نے اپنے سپاہیوں سے کہا: "شمال کے ان پہاڑوں کو دیکھو! اگر آج تم نے انہیں پیچھے نہ دھکیلا، تو کل یہ تمہاری عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیں گے۔ فرانک کو بتا دو کہ عبد الرحمن الداخل کا خون ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا!"
ہم نے بارسلونا پر دوبارہ حملہ کیا۔ معرکے اتنے شدید تھے کہ دن کا اجالا خون کے دھوئیں میں چھپ جاتا تھا۔ میری فوج نے فرانک کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ ہم نے نہ صرف بارسلونا کو متعدد بار عیسائیوں کے چنگل سے چھڑایا بلکہ فرانک کو اندلس کی سرحدوں سے بہت پیچھے دھکیل دیا۔ شاہ شارلمین اور اس کے بیٹوں کو معلوم ہوگیا کہ جب تک قرطبہ کے تخت پر ایک اموی عقاب بیٹھا ہے، وہ پیرینیز (Pyrenees) کے پہاڑوں کو عبور نہیں کر سکتے۔ ہم نے شمال میں ایک ایسا مضبوط دفاعی حصار قائم کر دیا جس نے آنے والی کئی دہائیوں تک اندلس کو محفوظ کر دیا۔
کاش میری جنگیں صرف بیرونی دشمنوں کے خلاف ہوتیں۔ ایک سپہ سالار کے لیے سب سے بڑا دکھ تب ہوتا ہے جب اس کے اپنے لوگ، اس کے اپنے شہر کے باشندے اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپیں۔
قرطبہ کے کچھ لوگ، جن میں بعض کٹر مذہبی رہنما اور قاضی بھی شامل تھے، میری سخت گیر پالیسیوں اور میری غیر ملکی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے لگے۔ وہ بھول گئے کہ اگر یہ فوج نہ ہوتی، تو عیسائی ان کے گھروں کو جلا چکے ہوتے۔ سنہ 818 عیسوی میں، جب میں شمال کی مہمات میں مصروف تھا، قرطبہ کے ایک جنوبی محلے "الربض" (Arrabal) میں ایک بہت بڑی بغاوت کھڑی ہوگئی۔
ہزاروں مشتعل لوگوں نے محل کا گھیراؤ کر لیا۔ وہ میری موت کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ میری زندگی کا سب سے تاریک اور خطرناک دن تھا۔ محل کے اندر میرے چند سو سپاہی تھے اور باہر ایک بپھرا ہوا سمندر۔ اس لمحے، میں نے اپنے سچے اور وفادار کمانڈر، عبید اللہ کو دیکھا۔ میں نے اس سے کہا: "قرطبہ جل رہا ہے۔ اگر آج ہم نے نرمی دکھائی، تو کل اندلس میں انارکی ہوگی اور دشمن ہمیں آسانی سے نگل جائے گا۔ ربض کے اس ہنگامے کو اس طرح کچلو کہ آنے والی نسلیں بغاوت کا نام لیتے ہوئے بھی کانپ اٹھیں!"
ہم نے محل کے دروازے کھولے اور میری زرہ پوش فوج ربض کے باغیوں پر ٹوٹ پڑی۔ وہ ایک ہولناک دن تھا، جس پر میں آج بھی اکیلے میں روتا ہوں۔ لیکن وہ ایک کڑوی دوا تھی جو اندلس کے جسم کو بچانے کے لیے ضروری تھی۔ بغاوت کچل دی گئی اور قرطبہ میں دوبارہ کبھی کسی کو امن و امان تباہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔
اب رات کا آخری پہر ہے اور شمع کی لو مدہم ہو رہی ہے۔ میرے جسم کا خون ٹھنڈا ہو رہا ہے اور موت کا فرشتہ میرے سرہانے کھڑا ہے۔
لوگ تاریخ کی کتابوں میں میرے بارے میں کیا لکھیں گے؟ شاید وہ مجھے "الربضی" کہیں گے کیونکہ میں نے ربض کی بغاوت کو سختی سے کچلا تھا۔ شاید وہ مجھے ایک بے رحم اور جابر حکمران کے روپ میں دکھائیں گے۔ لیکن خدا گواہ ہے، میں نے جو کچھ کیا، اس سلطنتِ اندلس کی بقا کے لیے کیا۔ میں نے اس کی سرحدوں کو فرانک کے عیسائی سیلاب سے محفوظ رکھا، میں نے اندلس کو ایک ایسی طاقتور اور منظم فوج دی جس نے اسے آنے والی دو صدیوں تک دنیا کا سب سے محفوظ خطہ بنا دیا۔ میں نے اپنے دور میں کبھی کسی بیرونی دشمن کو اندلس کی حرمت پامال کرنے نہیں دی۔
میں، بنو امیہ کا وہ بیٹا، جس نے تاریخ کے تپتے ہوئے صحرا میں سلطنت کی کشتی کو طوفانوں سے نکالا۔۔ میں، اندلس کا تیسرا اموی امیر۔۔ الحکم اول (Al-Hakam I)۔۔ اب اپنے دادا عبد الرحمن الداخل اور اپنے والد ہشام کے پاس جا رہا ہوں۔ یا اللہ، میرے فیصلوں کی نیت کو دیکھنا، میری سختی کو میری رعایا کے لیے میرا دفاع سمجھنا۔
[امیر الحکم اول: الحکم اول اندلس (Spain) میں بنو امیہ کے تیسرے امیر تھے، جنہوں نے سنہ 796 سے 822 عیسوی تک حکومت کی اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے سلطنت کا شیرازہ بکھرنے سے بچایا۔ آپ کو اپنے دورِ حکومت میں چچا زاد بھائیوں کی بغاوتوں، قرطبہ کے اندرونی ہنگاموں اور شمال سے یورپی فرانک (Franks) کے سیلاب کا یکساں سامنا تھا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے آپ نے روایتی قبائلی فوج پر انحصار ختم کرکے اندلس کی تاریخ میں پہلی بار "مملوک" نامی ایک پیشہ ور، مستقل اور منظم غیر ملکی فوج کھڑی کی۔ اسی باقاعدہ فوج کی بدولت آپ نے شاہِ شارلمین اور اس کے بیٹوں کی جارحیت کو کچلا، بارسلونا کو کئی بار عیسائیوں کے چنگل سے آزاد کرایا اور اندلس کو ایک طویل مدتی دفاعی حصار فراہم کیا۔]

