Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Sarfaraz
  4. Pathar Ho Jao Ya Loha

Pathar Ho Jao Ya Loha

پتھر ہوجاؤ یا لوہا

Dr. Sean McMahon نے سینٹ ایڈمنڈ ہال، آکسفورڈ یونیورسٹی سے ارتھ سائنسز میں تعلیم حاصل کی ،اور آنجہانی مارٹن بریزیئر (امریکی ارتقائی نظریہ دان، ماہر حیاتیات، سائنسی مصنف اور معلم) کے زیر سایہ فلکیات میں دلچسپی لینی شروع کی۔ اس دلچسپی نے اسے زمین اور مریخ پر زیر زمین ماحول کی رہائش کے بارے میں چلنے والی ڈاکٹریٹ ریسرچ کے لیے یونیورسٹی آف ایبرڈین پہنچا دیا ،اور پھر اس نے کیلیفورنیا میں NASA ریسرچ سینٹر میں انٹرنشپ بھی کی۔ اپنی پی ایچ ڈی کے بعد اس نے ڈیریک بریگز کی لیب میں پوسٹ ڈاکٹورل تحقیق بھی کی۔ ان دنوں موصوف اسکاٹ لینڈ میں ایڈنبرا کے UK Center for Astrobiology فلکیات میں چانسلر کے فیلو کے طور کام کر رہے ہیں۔

Dr. Sean McMahon ایک تحقیق کر رہے تھے جو مریخ پر ممکنہ حیات کے بارے میں تھی جس کے لئے وہ اربوں سال پرانے فوسلز کا مطالعہ کر رہے تھے جس کے دوران دریافت ہوا کہ چھوٹے جانداروں کے پرانے ترین فوسلز اب لوہے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

یہاں رک کر ذرا فوسل کو سمجھ لو،یہ لفظ کلاسیکی لاطینی سے لیا گیا ہے ،جس کی لفظی معنی ہیں "کھدائی کے ذریعے حاصل کیا گیا"۔ جیسے ہڈیاں، خول، خارجی ڈھانچے، جانوروں یا جرثوموں کے پتھر کے نشانات، کیمیائی طور پر محفوظ اشیاء، لکڑی یا تیل میں محفوظ اشیاء اور ڈی این اے کی باقیات وغیرہ وغیرہ۔تاریخ میں پہلا انسانی فوسل 1857 میں جرمنی میں ایک کان میں کام کرنے والوں کو ملا ۔

1891 میں انڈونیشیا میں ایک انسانی فوسل ملا ،جس کی عمرکا اندازہ تقریبادس لاکھ سال کیا گیا ۔ اس کا نام Jawa man رکھا گیا ۔ اسی طرح 1991 میں Malawi سے ایک انسانی فوسل ملا، جس کی عمرکا اندازہ تقریبا پچیس لاکھ سال کیا گیا۔محققین 15 سالوں سے ایتھوپیا کی افار علاقائی ریاست میں ایک ریسرچ پروجیکٹ کے مطالعہ پر کام کر رہے تھے ،کہ جب 16 فروری 2016 کو ایک قدیم اوپری جبڑے کا پتہ چلا۔ انہوں نے 16 گھنٹے کے دوران علاقے میں مزید ٹکڑوں کی تلاش کی ،اور باقی کھوپڑی برآمد کی۔ یہ 3.8 ملین سال پہلے زندہ رہنے والے ابتدائی انسانی اجداد سے تعلق رکھنے والی ایک "قابل ذکر مکمل" کھوپڑی کی دریافت تھی ۔

فاسلز بن جانا بذات خود ایک حیران کن معجزہ ہے، کیوں کہ ہڈی کو پتھر بننے کے لئے پانچ چیزوں کا نہ صرف ہونا ،بلکہ بالکل ٹھیک مقدار میں ہونا انتہائی ضروری ہے۔ (1) 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت (2) بہت زیادہ مقدار میں نمی (3) بے حد زیادہ دباؤ (5) انتہائی آکسیجن ۔ اور یہ سب کچھ دس ہزار سال تک مسلسل موجود رہے۔ یہ سب کچھ ہو تو ہڈیوں والا جاندار کے گوشت کے ڈی کمپوز ہونے کے بعد ڈھانچہ دھیرے دھیرے ہڈیوں سے پتھر میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹرشین نومبر 2019 نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا جس کے مطابق کینیڈا سے ملنے والے چھوٹے جانداروں کے پرانے ترین فوسلز اب لوہے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر شین کے مطابق یہ اس دنیا میں ملنے والے پرانی ترین حیات کا ثبوت ہو سکتا ہے جو 4.2 ارب سال پرانی ہے۔ اس دنیا کی کل عمر ہی 4.5 ارب سال ہے۔ ذیل میں ان کے تحقیقی مقالے کا لنک لکھا ہے جس نے مجھے اس موضوع پر سوچنے کی تحریک دی:

https://royalsocietypublishing.org/doi/10.1098/rspb.2019.2410#d1e1173

ہم سب جانتے ہیں کہ کفار ایک سوال اٹھایا کرتے تھے ،کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے طریقے سے اٹھائے جائیں گے؟قرآن میں سورۃ اِسراء کی آیت 49 میں یہ سوال موجود ہے ۔اور الله نے سورۃ اِسراء کی اگلی ہی آیت میں اس کا ایک عجیب جواب دیا ہے۔سورۃ اِسراء آیت 50:

قُلۡ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًاۙ

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔

یہاں لوہے کے لفظ سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے رب ذولجلال نے کہا ہو ،کہ چاہے تم مر جاؤ، مرنے کے بعد تمام مشکل ترین درجات سے گزر کر فوسلز بھی بن جاؤ اور فوسل بننے کے چار ارب سال تک دبے رہنے کے بعد لوہا بھی بن جاؤ، تب بھی میں تمہیں زندہ کر کے اٹھا دوں گا۔ ہے نہ عجیب ۔

ہمیں تو ابھی 2019 میں محض اندازہ ہوا ہے کہ پتھر سے لوہا بننا بھی شاید شاید ممکن ہے!!لیکن بات اس سے بھی آگے کی ہے ۔ یقیناً ابھی شاید ڈاکٹر شین جیسے کئی محققین نے کام کرنا ہے ،کیونکہ اس سے اگلی ہی آیت ہے:سورۃ اِسراء آیت 51:"یا کوئی اور چیز(بن جاؤ) جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو"

Check Also

Blood Activism, Samaji Khidmat Ka Dil

By Asif Ali Yaqubi