Wednesday, 25 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Salam Ya Abu Ayub Ansari

Salam Ya Abu Ayub Ansari

سلام یا حضرت ابو ایوب انصاری

میں اور میرا دوست عبدالرزاق شام ڈھلے ایوب سلطان پہنچے۔ یہاں ترکی میں حضرت ایوب انصاری ایوپ سلطان کے نام سے مشہور ہیں۔۔ ٹرام سے اتر کے دائیں طرف دیکھیں تو کیبل کار (Eyüp–Pierre Loti Teleferik Line) نظر آتی ہے جو پہاڑی کے ساتھ ساتھ اوپر بلند مقام پہ پیرا لوٹی کی چوٹی پہ چڑھتی ہے جہاں سے باسفورس اور پار سامنے صدیوں پرانا آباد استنبول کا خوبصورت نظارہ ہے۔ اس پہاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہم نے مزار شریف پہنچنا تھا۔ ڈھلوان پہاڑی پہ سینکڑوں قبریں نظر آتی ہیں۔ یہ دراصل ایوپ سلطان قبرستان کا حصہ ہے، جس کی بنیاد عثمانی دور میں 15ویں صدی کے وسط میں پڑی، جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد اس علاقے کو روحانی مرکز کے طور پر آباد کیا۔ اس کے بعد یہاں دفن ہونا ایک اعزاز سمجھا جانے لگا اور صدیوں کے دوران یہ پہاڑی بتدریج قبروں سے بھر گئی۔

کیبل کار 2005 میں عوام کے لیے کھولی گئی، تاکہ زائرین اور سیاح آسانی سے اس تاریخی پہاڑی تک پہنچ سکیں۔ اس سے پہلے لوگ یا تو پیدل اس قبرستان کے بیچ سے گزرتے ہوئے اوپر جاتے تھے یا سڑک کے ذریعے۔

پہاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہم بالآخر دربار شریف کے مرکزی محرابی دروازے پہ پہنچے جس کے سامنے وسیع احاطہ ہے اور پار سامنے جدید طرز پہ بنی دوکانیں۔ پہاڑی کے ساتھ مسلسل ایک رو میں درجنوں چھوٹی دوکانیں ہیں جہاں بتاشے، جلیبیاں اور پھولوں کی بجائے سووینئر ملتے ہیں۔

آج خنک موسم اور بارش کی وجہ سے زائرین کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ صحابی رسول ﷺ کے مرقد منورہ کے اردگرد ترک زائرین خاموش ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ یہاں منظر پاکستانی دربارں سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ نہ کوئی ہلہ گلہ، نہ شور شرابہ، بس فضا میں ایک خاص تقدس اور خاموشی۔ مرد و زن جذب و مستی کی کیفیت میں ہاتھ باندھے، سر جھکائےحاضری دے رہے تھے۔

مدینہ کی نرم گلیوں سے نکل کر قسطنطنیہ کی فصیلوں تک پہنچنے والی ایک داستان ہے، جو تاریخ، عقیدت اور فتوحات کے سنگم پر کھڑی نظر آتی ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ان خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ہجرت کے وقت حضور ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا، مگر زندگی کے آخری ایام میں ان کا دل ایک اور آرزو سے بندھا رہا، اسلام کے پرچم کو قسطنطنیہ کی دیواروں تک لے جانا۔ اسی جذبے کے تحت وہ پہلی اسلامی مہم کے ساتھ اس شہر تک پہنچے، جہاں وہ بیمار ہوئے اور تقریباً 52 ہجری (672–674 عیسوی) کے دوران وفات پا گئے۔

روایات کے مطابق انہوں نے وصیت کی کہ انہیں شہر کی فصیل کے قریب دفن کیا جائے، تاکہ قیامت تک ان کی قبر اسلام کی اس جدوجہد کی گواہی دیتی رہے۔ چنانچہ اسلامی لشکرنے انہیں قسطنطنیہ کی دیواروں کے قریب دفن کر دیا، حالانکہ وہ مدینہ کے رہنے والے تھے۔ اس طرح ان کی تدفین دراصل ایک مجاہد کی وصیت کی تکمیل تھی، نہ کہ کسی ہجرت یا مستقل سکونت کا نتیجہ۔

صدیاں گزرتی رہیں، سلطنتیں بدلتی رہیں اور ان کی قبر وقت کی دھول میں گم ہوگئی۔ پھر 1453 میں جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو ان کے روحانی استاد آق شمس الدین نے اس مقام کی نشاندہی کی جہاں یہ عظیم صحابی مدفون تھے۔ اس دریافت کے بعد 1458–1459 کے قریب ان کی قبر پر باقاعدہ مزار تعمیر کیا گیا اور ساتھ ہی ایک عظیم الشان مسجد بھی قائم کی گئی، جو آج ایوب سلطان مسجد کے نام سے جانی جاتی ہے۔

یہ مزار صرف ایک قبر نہیں رہا بلکہ عثمانی سلطنت کی روحانی علامت بن گیا۔ ہر نیا سلطان یہاں آ کر "تلوارِ عثمان" کی رسم ادا کرتا، گویا اپنی حکومت کو ایک صحابی کے قدموں میں جھکا کر جائز قرار دیتا تھا۔ اس کے بعد پورا علاقہ، جو آج ایوپ سلطان ضلع کہلاتا ہے، تقدس کا مرکز بن گیا اور لوگ خواہش کرتے کہ ان کی قبریں بھی اسی خاک میں ہوں جہاں ایک صحابی آرام فرما ہیں۔

ترکی کے عوام کی محبت کا عالم یہ ہے کہ آج بھی ہزاروں لوگ روزانہ یہاں حاضر ہو کر دعائیں مانگتے ہیں۔ اسے استنبول کے مقدس ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں صبح کی نمازوں سے لے کر خصوصی مواقع تک ایک روحانی کیفیت طاری رہتی ہے۔

وقت کے ساتھ اس مزار کی کئی بار مرمت اور تجدید کی گئی۔ خاص طور پر عثمانی دور میں مختلف سلاطین نے اسے بہتر بنایا، جبکہ 19ویں صدی میں سلطان محمود ثانی نے اس کی از سر نو تعمیر کروائی۔ جدید دور میں بھی 2012 کے بعد ایک بڑی بحالی (restoration) کی گئی جس میں پرانی لکڑی، چھت اور دیواروں کو محفوظ کرتے ہوئے مکمل مرمت کی گئی اور 2014 میں اسے دوبارہ زائرین کے لیے کھولا گیا۔

یوں یہ مزار محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے، جہاں ایک صحابی کی آخری خواہش، ایک فاتح سلطان کا خواب اور ایک پوری قوم کی عقیدت ایک ہی جگہ جمع ہو کر ایک ایسی داستان بناتی ہے جو صدیوں سے دلوں کو اپنی طرف کھینچتی چلی آ رہی ہے۔

مرقد منورہ پہ ایک آخری نظر ڈالی اور پھر تھکے قدموں سے میں باہر نکلا۔ اب نہ جانے زندگی میں کبھی دوبارہ حاضری ہوگی یا نہیں۔ ہلکی بارش کی پھوار جاری تھی۔

باہر احاطے کے پار میں عبدالرزاق کو لے کے گیا جہاں ایک مشہور بیکری اپنی تازہ گرم روٹی، سمیٹ (ترک بریڈ)، پوغاچا (بَن نما بریڈ) اور سادہ مگر نہایت لذیذ کیک اور پیسٹریز کے لیے جانی جاتی ہے۔ چونکہ یہ علاقہ خود ایک روحانی اور سیاحتی مرکز ہے، اس لیے یہاں صبح سے شام تک زائرین اور مقامی لوگ مسلسل آتے رہتے ہی، اسی لیے اس بیکری پہ اکثر آپ کو لمبی لائن لگی نظر آتی ہے۔ بیکری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ "تاریخی تندور" والی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے، یعنی پتھر کے تندور (stone oven) میں بنی ہوئی بریڈ، جس کا ذائقہ واقعی الگ محسوس ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اسی علاقے میں مٹھائی اور ڈیزرٹ کے شوقین لوگ اکثر Eyüp Sultan Tulumbacısı یا Antephan Künefe Eyüp بھی جاتے ہیں، جہاں ٹرکش ڈیلائٹ کے ساتھ ساتھ گرم گرم کنافہ اور تلُمبہ ملتا ہے اور یہ بھی کافی رش والی جگہیں ہیں۔

بیکری سے لی گئی لذیذ آئٹمز ہم نےساتھ گلی میں موجود ایک تاریخی قہوہ خانہ میں ٹرکش چائے کے ساتھ کھائیں۔ یہاں درجنوں ترک مرد و زن موجود تھے جو بیس لیرا ادا کرکے بلیک قہوہ نوش کر رہے تھے۔ ترکی آنے کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ اب ہم نےایمینینو Eminonu کا رخ کرنا تھا، جو استنبول کا مرکزی سیاحتی مقام ہے جہاں سے رات کے وقت آبنائے مرمرہ کے اردگرد رنگ برنگی روشنیاں، کروز اور عظیم الشان غلطہ Galata برج نظر آتا ہے جو ایمینیو اور کاراکوئے کو آپس میں ملاتا ہے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Salam Ya Abu Ayub Ansari

By Muhammad Idrees Abbasi