Friday, 03 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. New Castle Se Scotland Tak

New Castle Se Scotland Tak

نیو کاسل سے سکاٹ لینڈ تک

نیو کاسل سے جڑے وسیع سمندر کے ساحل پر میں کھڑا تھا۔ آج کا دن جیسے وقت کے کسی نرم اور اداس ورق پر لکھا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ سمندر کی شوریدہ لہریں ساحل کے پتھروں سے آکے ٹپکتی اور واپس چلی جاتی۔ سینٹ میری آئی لینڈ St Mary's Island کا یہ صاف ستھرا سمندر دیکھ کے مجھے کراچی یاد آ گیا۔ دل میں ایک ہوک اٹھی۔ ہم نے اپنے سمندروں کو بھی نہ بخشا۔

ہوا کے تیز جھونکوں میں نرم سبز گھاس کو روندتے میں وہاں نصب لاتعداد لکڑی کے پائیدار بینچوں میں سے ایک پر جا بیٹھا۔ تھوڑی دیر بعد احساس ہوا یہ بینچ نہ تھے، یہ تو اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کی یاد میں نصب کتبے نصب تھے۔ ہر بینچ ایک کہانی تھا اور اس پہ نصب ہر تختی ایک جدائی کا نوحہ۔ کچھ پھول اور کچھ کندہ لفظ جانے والے کی کہانی کے ساتھ۔ جس بینچ پر میں بیٹھا، اس پر ایلن Alan نامی ایک شخص کا ذکر تھا، جو 1952 میں پیدا ہوا اور 2019 میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی بیوی کے لکھے الفاظ نے محبت کی ایک کہانی بیان کر دی۔

"وقت دھندلا سکتا ہے مگر یادیں کبھی نہیں مرتیں، تم مجھے ہمیشہ یاد رہو گے، میرا انتظار کرنا جلد ہی آ ملوں گی۔ تمہاری سیو"

"یہ جملہ میرے دل میں پیوست ہوا۔ اس لمحے یوں لگا جیسے نارتھمبرلینڈ کاؤنٹی کے اس شہر نیو کاسل کی طرح دورسمندر کے اس پار موجود ڈنمارک اور ناروے کے شہر بھی اسی طرح کی کہانیوں اور یادوں سے آباد ہوں گے۔

مسعود نے آواز دی، اٹھو یہیں بیٹھے رہو گے، سفر لمبا ہے، واپس بھی آنا ہے۔ میں نے سیو اور ایلن کو وہیں چھوڑا کہ وہاں سے نکل کر مسعود نے مجھے انگلینڈ کے بارڈر پہ موجود آخری اور قدیم گاؤں کی طرف لے کے جانا تھا جس کا نام کوبرج Corbridge ہے۔

شام کا دھندلکا اتر رہا تھا ہم وہاں پہنچے تو سورج کی سنہری روشنی گاؤں کی پرانی عمارتوں پر ایسے پڑ رہی تھی جیسے ماضی اپنے راز آہستہ آہستہ ظاہر کر رہا ہو۔ یہاں ایک سولہویں صدی کا قدیم چرچ اور سترہویں صدی کا پرانا ٹاور اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے، مگر اس گاؤں کی اصل کہانی ان سے بھی کہیں پرانی ہے۔ رومی عہد میں یہ ایک اہم فوجی مرکز تھا، جہاں سے لشکروں کی آمد و رفت ہوتی تھی۔ پانچویں صدی عیسوی یہ تاراج ہوا اوراس کی اہمیت کم ہوئی، مگر اس کے آثار آج بھی اس کی تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر پتھر، ہر گلی کسی گزرے ہوئے زمانے کی داستان سنانے کو بےتاب ہے۔ گاوں میں موجود چند دوکانیں، ایک پب، پوسٹ آفس اور باربر شاپ جدید دور میں چھپے ایک قدیم وقت کی کہانی بیان کر رہے تھے۔

ہم نے وہاں ایک مختصر قیام کے بعد سفر جاری رکھا، کیونکہ مسعود کا ارادہ تھا کہ ہم کیلڈ فاریسٹ Kielder Forest کو عبور کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کی سرحد تک پہنچیں۔ یہ برطانیہ کے بڑے مصنوعی جنگلات میں شمار ہوتا ہے، جو ڈھائی سو مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ گاڑی کی کھڑکی سے باہر سبز میدان، دور تک پھیلے درخت اور ڈھلتی شام کا منظر دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہا تھا۔ کبھی حال آنکھوں کے سامنے ہوتا، کبھی ماضی کی یادیں ذہن میں ابھرتیں۔ مسعود نے گاڑی میں ہلکا میوزک آن کر رکھا تھا۔ مجھے نو برس قبل کا وہ سفر یاد آیا جب میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ انہی راستوں سے گزر کے فورٹ ولیم پہنچا تھا۔ وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے۔ آج کا گزرتا وقت بھی کچھ برسوں بعد ماضی کی پرچھائیاں بن جائے گا۔

آخرکار ہم سکاٹ لینڈ کے سرحدی قصبے جیڈ برگ (جیڈ برا) Jedburgh پہنچے، جہاں مغرب کی ملگجی روشنی میں ایک چھوٹی سی دکان کے باہر گاڑی رکی۔ یہاں سے اب نیو کاسل اور ایڈنبرا برابر فاصلے پر تھے۔ مسعود وقت کی قلت کے باعث چاہنے کے باوجود بھی مجھے ایڈنبرا نہ لے جا سکا۔ میں دراصل وہاں جا کے پہاڑی پہ موجود قلعے میں ٹیپو سلطان کی تلوار دیکھنا چاہ رہا تھا جسے میں نے پچھلے دورے میں بھی مسں کر دیا تھا۔

مگر ٹیپو کی تلوار فش اینڈ چپس کی خوشبو نے فوراً بھلا دی۔ اے بے ٹیک اوے Abbey take away کے اندر موجود اسکاٹش خاتون نے ہمیں بے حد گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ اس کے انداز میں ایک ماں جیسی شفقت تھی، اس نے ہماری عمریں پوچھیں، ہماری قومیت کا اندازہ لگایا۔ مسعود کو وہ سپینش سمجھ رہی تھی۔ مجھے وہ عرب سمجھ رہی تھی تاہم۔ آخرکار ہم نے جب بتایا کہ ہم پاکستانی ہیں تو وہ کھلکھلا کر ہنسی۔ اس سفر میں اب مجھے ایک فرق محسوس ہوا، انگلینڈ کی نسبت اسکاٹ لینڈ کے لوگوں میں ایک والہانہ پن، بےساختہ محبت اور اپنائیت زیادہ نظر آئی۔ شائید گورے کچھ سنابری کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ خاتون ستر برس کی عمر میں بھی پوری توانائی کے ساتھ کام کر رہی تھی اور اس کے چہرے پر زندگی کی روشنی جھلک رہی تھی۔ اس نے ہمیں جلدی جلدی کھانا بنا کر دیا، جیسے کوئی ماں اپنے بچوں کی بھوک مٹانے میں جلدی کرتی ہے۔

خاتون سے کھانا وصول کرتے ہوئے میں نے سامنے موجود پرانے قلعے کی ہسٹری پوچھی۔ دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگی، یہ مجھ سے بھی بہت پرانا ہے، سولہویں صدی عیسوی کا، مگر بہت مظلوم ہے، اس کو تین بار گوروں نے جلایا ہے۔ یہ بات بتاتے ہوئے سکاٹش اور گوروں کے بیچ تاریخی مخاصمت کو وہ ایک لمحے میں بیان کر گئی۔

واپسی پہ پھر میں نے دیکھا۔ میلوں میل وسیع سبزہ زار خالی پڑے تھے۔ پھر میلوں فاصلے کے بعد ایک چھوٹا سا ٹاؤن یا گاؤں، قرینے، نفاست اور سکون کا امتزاج۔ مجھے پھر پاکستان یاد آیا۔ یہ وسیع قطعے پاکستانیوں کے پاس ہوتے تو اب تک ان کے دس دس، پانچ پانچ مرلے کے پلاٹ بنا کر بیچ چکے ہوتے۔ ایک بار پھر برصغیر اور مغرب میں فرق نظر آیا۔ برطانیہ، یورپ سے لے کر ایتھنز اور ترکی تک، حتی کہ ایران اور سینٹرل ایشیا بھی، ایک جیسا تمدن، ترتیب اور سوک سینس رکھتے ہیں۔ مگر جوں ہی انڈیا، پاکستان، بنگال شروع ہوتا ہے، میرے 'خمیر میں مضمر ایک خرابی'، نظر آتی ہے۔ اگلے پانچ سو سال میں بھی ہم یہاں نہیں پہنچ پائیں گے۔

راستے میں موجود صاف شفاف پانی کی جھیلیں دیکھ کے پھر کراچی والے یاد آگئے جنہوں نے بڑی محنت سے برسہا برس لگا کے اپنا واحد سمندر بھی گندہ کر دیا اور اب ٹینکروں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

سکاٹ لینڈ چھوڑ کے پھر انگلینڈ داخل ہوئے۔ مگر اس بار شفاف فضاء سے کھنچی گئی ڈھیر ساری آکیسجن ہمارے پھیپھڑوں میں تھی اور ساتھ میں اس اجنبی مھربان سکاٹش خاتون کی مسکراہٹکی یاد، جسے ہم شائید کبھی دوبارہ نہ دیکھ پائیں گے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

New Castle Se Scotland Tak

By Muhammad Idrees Abbasi