Wednesday, 08 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Nelson K Muhammad Malik

Nelson K Muhammad Malik

نیلسن کے محمد مالک

لندن آؤں تو ساجد عباسی جو رشتے میں میرے برادر ان لاء لگتے ہیں، ہمیشہ میری میزبانی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ دیکھنے میں جتنی وجہیہ شخصیت کے مالک ہیں، من کے اس سے بھی زیادہ اچھے ہیں۔ مری اور گردونواح سے آنے والے دوست احباب اور عزیزوں کے لئے ان کی بانہیں ہمیشہ وا رہتی ہیں۔ اس دفعہ پہنچا تو حسب روایت انھوں نے پرجوش استقبال کیا لیکن ساتھ ہی وہ علیل ہو گئے۔ لیکن علالت کے باوجود انھوں نے جھٹ سے میرا نوید کے ہمراہ نوٹنگھم کا پروگرام ترتیب دے ڈالا۔ جہاں سے آگے مسعود کے ہمراہ نیو کاسل اور دیگر شہروں کے سفر سفر کی روداد میں پہلے ہی تحریر کر چکا ہوں۔

لندن واپسی پر ساجد مجھے آج میرے ایک سسرالی عزیز محمد مالک کے ہاں لے گئے جن کے حال ہی میں جواں سال بیٹے نوید کی ناگہانی موت پہ ہم نے تعزیت کرنی تھی۔ محمد مالک برطانیہ کے شمالی حصے میں واقع ایک چھوٹے مگر اہم قصبہ نیلسن کے رہائشی ہیں، جو اپنے صنعتی ماضی اور بڑی ایشیائی آبادی کی وجہ سے خاص پہچان رکھتا ہے۔

نیلسن کا قصبہ لنکاشائر میں واقع ہے اور لندن سے تقریباً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں تک پہنچنے میں عام طور پر تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں، چاہے سفر ریل کے ذریعے ہو یا سڑک کے ذریعے۔

محمد مالک صاحب کے ہاں پہنچتے پہنچتے خاصی تاخیر ہوگئی کیونکہ میں نے آج لندن میں کچھ دیگر عزیزوں سے ملاقات بھی کرنی تھی۔ مالک صاحب سرے کاؤنٹی میں مورڈن کے علاقے میں ہمارے منتظر تھے جہاں ان کی بڑی بیٹی قیام پذیر ہیں۔

برطانوی نژاد محمد مالک ہمارے رات گئے پہنچنے کے بعد بھی ہمارے انتظار میں جاگ رہے تھے اور انھوں نے ہمارا پرجوش استقبال کیا۔ مالک صاحب شکل و شباہت سے خود بھی گورے لگتے ہیں کیونکہ ان کی والدہ سکاٹش آئرش تھیں جن کی شادی پاکستانی نژاد ماسٹر خلیل سے ہوئی تھی۔ مالک صاحب جب بولنا شروع ہوئے تو ٹھیٹ میرپوری زبان میں بول رہے تھے۔ رسمی تعزیت کے بعد انھوں نے جب اپنی کہانی سنائی تو کافی دیر میں ماضی کے لندن میں معلق رہا۔

مالک کے والد ماسٹر خلیل کوٹلی (باغ) کے علاقے سے 1958 میں ہجرت کرکے برطانیہ میں آئے تھے، جب لندن میں بگھیوں اور قدامت پرست گوروں کا راج تھا اور برصغیر کا قبضہ چھوڑے گوروں کو ابھی گیارہ برس ہی گزرے تھے۔

ماسٹر خلیل کے نیلسن میں قیام کی وجہ نیلسن کی تاریخ میں یہاں کپڑے کی ملیں تھیں جن میں ایشیائی بندے مزدوری کی خاطر آتے تھے۔ اسی صنعت کی ضرورت نے برصغیر، خصوصاً پاکستان اور کشمیر سے لوگوں کو یہاں آنے پر آمادہ کیا۔ یوں وقت کے ساتھ یہ قصبہ ایک کثیر الثقافتی معاشرہ بن گیا جہاں مختلف تہذیبیں ایک ساتھ پروان چڑھتی رہیں۔

آبادی کے لحاظ سے نیلسن اب بھی ایک چھوٹا شہر ہے جہاں تقریباً پینتیس ہزار کے قریب لوگ آباد ہیں۔ تاہم اس کی خاص بات یہاں کی مسلمان آبادی ہے جو مجموعی آبادی کا بڑا حصہ بن چکی ہے۔ اندازاً یہاں نصف سے زیادہ لوگ مسلمان ہیں۔ یہاں کی پاکستانی کمیونٹی زیادہ تر آزاد کشمیر کے علاقوں، خصوصاً میرپور اور اس کے گرد و نواح سے تعلق رکھتی ہے۔ ان لوگوں نے محنت مزدوری سے آغاز کیا، مگر اب وہ کاروبار، دکان داری، ٹیکسی سروس اور دیگر چھوٹے بڑے شعبوں میں مضبوط مقام بنا چکے ہیں۔ نئی نسل تعلیم کی طرف بھی تیزی سے مائل ہو رہی ہے، جس سے معاشی اور سماجی حالات میں بہتری آ رہی ہے۔

مالک صاحب کی داستان جاری تھی، مگر میرا ذہن میر پوری کشمیریوں کی طرف چلا گیا جو آج دیگر پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ابتدائی طور پہ برمنگھم اور پھر بریڈ فورڈ، نیلسن، لٹن، شیفلیڈ اور لیڈز میں بڑی تعداد میں آباد ہوئے۔ ایوب خان کے پاکستان کے شمال پہ دو احسان ہیں، ایک اسلام آباد دارلحکومت جس کی بدولت مری، کشمیر، ہزارہ اور ہری پور کے لوگ مستفید ہوئے اور دوسرے میرپور اور گردونواح کے کشمیری جو منگلا ڈیم کی تعمیر کے باعث انگلینڈ منتقل ہوئے۔

دوران گفتگو مالک صاحب کا نٹ کھٹ پوتا نویا ہمارے درمیان کھیل رہا تھا، یہ ان کشمیریوں کی تیسری نسل ہے، جو اب مکمل برٹش بورن اینڈ بریڈ ہے اور اسے نہیں معلوم کہ اس کی جڑیں کس دیس سے ملتی ہیں۔ یہ نسل جب بڑی ہوگی تو اسے صرف اتنا معلوم ہوگا کہ کہ پاکستان دنیا کے نقشے پہ ایک ملک ہے اور بس۔ لیکن شائید نسل در نسل کا ارتقاء یہی ہے جیسے محمد مالک صاحب کے والد ماسٹر خلیل کا شجرہ مہاراجہ ہری سنگھ اور رنجیت سنگھ سے جا ملتا ہے لیکن آج ان کی اولاد ٹھیٹ میرپوری بولتی ہے۔

مالک صاحب پیرانہ سالی کے باوجود محو گفتگو تھے لیکن میری آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں، رخصت کی اجازت چاہی اور رات کے پچھلے پہر جب اہلیان لندن ایسٹر منا کے سو چکے تھے، میں اور ساجد لندن کی سڑکوں پہ اپنے اپنے خیالوں میں گم ساؤتھ کرائیڈن روانہ ہوئے۔ میں لندن کی روشنیاں دیکھ رہا تھا ایک دن بعد میں پھر لندن سے جدا ہو کے اپنے دیس روانہ ہو جاؤں گا، میرے دوست عبدالرزاق کا فیورٹ گیت میرے کانوں میں گونج رہا تھا، دو پل رکا خوابوں کا کارواں اور پھر چل دئیے تم کہاں ہم کہاں۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Bahaduri, Buzdili Ya Samajhdari?

By Rauf Klasra