Saturday, 25 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Naqqash Bhai Ki Naqqar Khane Mein Awaz

Naqqash Bhai Ki Naqqar Khane Mein Awaz

نقاش بھائی کی نقار خانے میں آواز

گذشتہ روز ہمارے دوست نقاش عباسی اقبالین نے اپنے پیج پہ ایک تیکھا مگر چونکا دینے والا جملہ تحریر کیا۔ موضوع پنجاب کی ایک بڑی سیاسی شخصیت کے بھائی کی مبینہ مداخلت تھا، جو خود بغیر کسی عوامی یا آئینی عہدے کے ضلع مری کے مختلف اداروں میں اثرانداز ہوتے اور ترقیاتی امور نمٹاتے نظر آتے ہیں، جو درحقیقت منتخب نمائندوں کا کام ہے۔ اس تحریر پر آنے والے تبصروں نے نقاش کو یہ کہنے پہ مجبور کر دیا کہ منجھے ہوئے اور پرانے سیاسی لوگ بھی اس سکہ رائج الوقت نظام کو قبول کئے ہوئے ہیں تو تبدیلی کہاں سے آئے گی۔

اس بحث نے بہرحال ایک پرانا مگر تلخ سوال دوبارہ زندہ کر دیا۔ پہلا یہ کہ کیا واقعی ہمارے ہاں اختیار اُن کے پاس ہے جنہیں عوام منتخب کرتے ہیں، یا کہیں اور سے ڈوریں ہلتی ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ کیا ترقیاتی منصوبوں کو prioritize کرنے اور ان کے حقیقی اور دور رس نتائج بھانپنے کا نظام درست ہے۔ پہلے سوال کا جواب ہاں میں ہے اور دوسرے کا نفی میں ہے، جب کہ ہونا اس کے الٹ چاہیے تھا۔

پچھلے سال میں نے اپنے ہم زلف کے چھوٹے بھائی فیصل کا ٹورونٹو میں کامیاب بزنس ماڈل دیکھا جو بنیادی طور پہ بلڈر ہے اور متعدد ہاؤسنگ یونٹس بنا کے بیچ چکا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ مسی ساگا میں اپنے سادہ سے دفتر میں محض چند ایک مخلص پارٹنرز کے اور مختصر ٹیم کے ہمراہ بڑے پیمانے پہ تعمیرات کا کام کر رہا ہے، مگر اصل بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ ہر تعمیراتی منصوبے کی منظوری کے لئے انھیں کونسل سے منظوری کے لیے ایک سے ڈیڑھ سال کی مربوط پلاننگ، لاتعداد سوال و جواب، ڈرائنگز، ڈیزائن کی کڑی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بعد اس منصوبے کی این او سی ملتی ہے اور مجال ہے کہ اس دوران ملک ریاض کا پہیہ لگانے والا فارمولا کہیں چلتا ہو۔

اسی سوچ کے تسلسل میں ذہن چند روز قبل کے سفرِ لندن کی طرف چلا گیا، جہاں مجھے ویسٹ منسٹر پیلیس (ہاؤس آف پارلیمنٹ) اور اس سے جڑے بکنگھم پیلیس کو پھر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہاں ایک ایسا نظام دکھائی دیتا ہے جہاں صدیوں پر محیط بادشاہت اور جمہوریت (ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز) ایک متوازن ڈھانچے میں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ ادارے مضبوط ہیں، روایات مستحکم ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اختیار کا تعین واضح ہے۔

وہیں پاکستانی نژاد شخصیات کی کامیابی کی کہانیاں بھی سننے کو ملیں۔ برمنگھم کے سابق میئر نیاز احمد کے داماد سہیل عباسی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ نیاز احمد صاحب نے بس ڈرائیوری سے سفر شروع کیا اور شہر کی قیادت تک پہنچے۔ وہیں پہ سعیدہ وارثی کی داستان بھی ہم نے سنی اور دیکھی جو گوجر خان سے تعلق رکھتی تھیں مگر برطانوی سیاست کے اعلیٰ ایوانوں تک جا پہنچیں۔ لندن کے مئیر صادق خان کی کامیابی اور دیگر قومیتوں کے لوگوں کی مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جہاں نظام شفاف ہو، وہاں ترقی کا راستہ خاندانی نسبت نہیں بلکہ صلاحیت اور جدوجہد سے بنتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں ایک عجیب سا "ملغوبہ نظام" گزشتہ کئی دہائیوں سے پروان چڑھ رہا ہے، یہ جمہوریت، آمریت اور شخصی انانیت کا ایک ایسا مرکب ہے، جس میں اصل طاقت اکثر پردے کے پیچھے بیٹھی قوتوں کے پاس ہوتی ہے، جبکہ اسٹیج پر موجود چہرے محض نمائشی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ عوام کے سامنے جو فیصلے پیش کیے جاتے ہیں، ان کی ڈوریں اکثر کہیں اور سے ہل رہی ہوتی ہیں۔

یہ کوئی ایک دور یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ مختلف ادوار میں ہم نے دیکھا کہ غیر منتخب افراد، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہوں یا مخصوص حلقوں سے تعلق رکھنے والے بااثر لوگ، عملی طور پر ریاستی معاملات میں اثرانداز ہوتے رہے۔ مفاد پرستوں کا یہ گروہ ہر دور حکومت میں معراج پہ بیٹھے سیاستدانوں کا جپھا مار لیتا ہے، ان میں سرمایہ دار بھی ہوتے ہیں، صنعتکار بھی ہوتے ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں سے تو پراپرٹی ڈیلرز اور مافیا (کارٹلز) کے لوگ سب سے آگے ہوتے ہیں اور ان پارٹیوں کو حکومت میں لانے والے حقیقی کارکنان کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں ایک ایسا نظام وجود میں آ چکا ہے جو بظاہر جمہوری ہے مگر اس کی روح میں غیر اعلانیہ کنٹرول اور چند لوگوں کے مفادات کی جھلک صاف محسوس ہوتی ہے۔

مزیدبرآں میگا منصوبہ جات سے لے کر گلیوں نالیوں تک، منصوبہ جات کو تعین کرنے کا نظام سٹیج پہ بیٹھے اداکاروں اوران کے کرونیز کے ہاتھ ہوتا ہے، سٹیج کے عقب میں موجود ڈائریکٹرز عمومی طور پہ لاتعلق رہتے ہیں، ادارے میرٹ کی عدم موجودگی، وسیع تر کرپشن اور سیاسی اثر رسوخ کے باعث ایسی فیصلہ سازی میں لاتعلق رہتے ہیں اور سیکریٹری، کمشنر و ڈی سی صاحبان کسی غلط منصوبہ بندی کو مصلحتاً چیلنج نہیں کرتے۔ نتیجتا" پاکستان بے ثمر مردہ میگا منصوبوں کا قبرستان بن چکا ہے اور لاتعداد قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس نظام میں تبدیلی کب اور کیسے آئے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسی ساختیں محض خواہشات سے نہیں بدلتیں۔ اس کے لیے مضبوط ادارے، اجتماعی شعور اور ایک مسلسل عوامی دباؤ درکار ہوتا ہے۔ دنیا کی مستحکم جمہوریتوں نے بھی یہ مقام ایک دن میں حاصل نہیں کیا، یہ ایک طویل جدوجہد، احتساب اور ارتقاء کا نتیجہ ہے۔

تاہم ایک نئی امید بھی جنم لے رہی ہے۔ دنیا تیزی سے ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات نے معلومات کو عام کر دیا ہے۔ اب حقائق کو چھپانا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ جیسے جیسے شفافیت بڑھے گی، ویسے ویسے اس قسم کے مصنوعی اور غیر رسمی نظاموں کے لیے اپنی بقا برقرار رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔

فی الحال حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس نظام کے اندر رہتے ہوئے بہتری کی کوشش جاری رکھیں، مگر امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوام کی مسلسل آواز، چاہے کتنی ہی مدھم کیوں نہ ہو، بالآخر اثر دکھاتی ہے۔

شاید وقت ابھی نہ آیا ہو، مگر یہ یقین ضرور ہے کہ جب شعور، ٹیکنالوجی اور عوامی دباؤ ایک نقطے پر جمع ہوں گے تو تبدیلی ناگزیر ہو جائے گی۔

اور تب تک ہم شجرِ امید سے وابستہ رہتے ہوئے بہتر کل کی آس رکھ سکتے ہیں، کہ عوام کی سسکیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔ لہذا نقاش بھائی مایوس نہ ہوں، شجر سے پیوستہ رہیں اور نقار خانے میں آواز بلند کرتے رہیں!

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Tareekh e Tabari Ka Ilmi Chiragh (8)

By Asif Masood