Wednesday, 01 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Malot Sattian Ka Masood

Malot Sattian Ka Masood

ملوٹ ستیاں کا مسعود

نہیں معلوم تھا، 1975 میں بچھڑنے والا وہ چمکتی آنکھوں والا مسکراتا چہرہ، تقریباً اکیاون سال بعد میری خدمت کرے گا اور ایسی بھرپور خدمت کرے گا کہ پانچ دہائیوں کی جدائی کا احساس ہی مٹ جائے گا۔

نٹ کھٹ، شرارتی آنکھوں والا، ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے والا ملوٹ ستیاں کا مسعود پرائمری اسکول تک میرے ساتھ رہا۔ ہر وقت اضطراری کیفیت میں مبتلا، پڑھائی میں ایوریج مگر کرکٹ کا دیوانہ۔ پھر راستے جدا ہو گئے، ہم اپنی اپنی جدوجہد میں مصروف ہوئے اور بچپن کی رفاقت وقت کی گرد میں کہیں دب گئی، مگر مسعود کا چہرہ اور اس کی کرکٹ کہانی میری یادوں میں ہمیشہ قائم رہی۔ مسعود میرا گرائیں تھا، مری کے ملحقہ علاقے ملوٹ ستیاں سے اور سابق ہیڈ ماسٹر سکول نمبر 8، اسلام آباد مرزا مبارک مرحوم اس کے والد تھے، جو اپنے بیٹے کے کرکٹ کھیلنے کے سخت خلاف ہوتے تھے۔

مسعود کو کرکٹ سے شغف تو تھا مگر اُس زمانے میں مجھے اندازہ نہ تھا کہ وہ والد کی مخالفت کے باوجود آگے چل کر اعلیٰ درجے کی کرکٹ تک پہنچ جائے گا۔ اس نے محنت کا دامن نہ چھوڑا، کاؤنٹی کرکٹ کھیلی، لندن میں میچز کھیلے اور وہاں اس کی ملاقاتیں بڑے کھلاڑیوں سے ہوئیں، جن میں Ian Botham بھی شامل تھا۔ پرانے انگریز کوچز کے ساتھ اس کے تعلقات بنے اور یوں اس نے اپنے ہنر کو مزید نکھارا۔ بالآخر اسے لندن میں ورک پرمٹ ملا اور وہ انیس سو نوے کی دہائی میں لندن مستقل آن بسا، جہاں اس نے شروع کےچند سال گزارے۔

پھر اس کی زندگی نے ایک نیا رخ لیا اور وہ لندن سے تقریباً دو سو اسی میل دور ایک خوبصورت ساحلی شہر نیوکاسل (Newcastle) میں جا بسا۔ یہیں سے اس کی اصل جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس نے نہ صرف خود کرکٹ کھیلی بلکہ کوچنگ بھی شروع کی۔ شہر در شہر، ملک در ملک اس نے میچز کروائے اور پاکستان سپر لیگ کے مقابلوں میں بھی اس کا کردار رہا۔ اس کی دوستی اور ہم نشینی وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام اور شعیب اختر جیسے بڑے ناموں کے ساتھ رہی۔ اس نے ان سے سیکھا بھی اور اپنے تجربات ان کے ساتھ بھی شئیر کئے۔

وقت گزرتا رہا اور زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔ کچھ پہلے سال اچانک ہمارے اسکول کے ساتھیوں کا ایک گروپ بنا، جہاں معلوم ہوا کہ مسعود لندن میں آباد ہے۔ پھر رابطہ ہوا اور ایسا مضبوط ہوا کہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مسعود کی یاداشت بلا کی تھی، بچپن کی دوستیاں اور واقعات اسے ازبر تھے۔ پھر دو ہزار پچیس میں میرا لندن آنا ہوا، مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ اس سال دوبارہ آیا تو میں نے طے کیا کہ اس بار یہاں ضرور اکٹھے ہوں گے۔

لندن پہنچنے سے قبل مسعود سے فون پہ بات ہوئی اور اس نے ملاقات کا پروگرام کنفرم کیا۔ لندن پہنچ کے میرے پلان کے مطابق اس نے مجھے رابن ہڈ کے شہر نوٹنگھم سے پک کرنے کا پروگرام بنایا جہاں میں گذشتہ رات اپنے دوست نوید کے ہمراہ پہنچا۔ مسعود حسب وعدہ ٹھیک چار بجے اپنی گاڑی پہ نوٹنگھم پہنچ گیا۔

نوٹنگھم میں گزشتہ دو روز خنک ہواؤں کے بعد آج دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ مسعود مجھے راستے بھر اپنی زندگی کی کہانی سناتا رہا، وہ آج بھی اسی جذبے اور جوش سے بول رہا تھا، جو اس کی شخصیت کا حصہ تھا۔ کچھ لوگوں پہ وقت اثر نہیں کرتا، مسعود ان میں سے ایک ہے۔

نیو کاسل اور دو دیگر شہروں ڈارلنگٹن اور سنڈرلینڈ میں مسعود نے دس سال قبل "کاس پاس" (Kaspas) کے نام سے ڈیزرٹس کی دکانوں کا سلسلہ شروع کیا، جو اب کامیابی سے چل رہا ہے۔ سب سے پہلی برانچ اس نے ساحلی شہر نیو کاسل میں کھولی، جہاں اس کا گھر تھا۔ پھر ڈارلنگٹن (Darlington) میں اپنی ذاتی ملکیت میں یہ دکان قائم کی اور پھر تیسری برانچ سنڈرلینڈ میں کھولی۔ مسعود کی کامیابیوں کا سفر پھر پاکستان پہنچا، جہاں سپر مارکیٹ اسلام آباد میں اس نے چوتھی برانچ قائم کی۔

نوٹنگھم سے ڈارلنگٹن تقریباً ڈھائی گھنٹے کی مسافت پہ ہے۔

یہ تمام شہر لندن (London) کے شمال میں واقع ہیں۔ ٹھنڈے موسم، دلکش مناظر اور گھنے جنگلات سے بھرپور۔ ان راستوں پر سفر کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے اپنی خوبصورتی کے خزانے کھول دیے ہوں۔ یہی راستے آگے چل کر ایڈنبرا (Edinburgh) اور اسکاٹ لینڈ (Scotland) تک جا پہنچتے ہیں۔ مسعود نے نہ صرف مجھے ان شہروں کی سیر کرائی بلکہ اپنی محنت، جدوجہد اور خلوص سے یہ بھی ثابت کیا کہ سچی دوستی وقت اور فاصلے کی محتاج نہیں ہوتی۔

انگلینڈ کے آخری شہر نیوکاسل (Newcastle) میں ہم رات گیارہ بجے پہنچے جہاں مسعود کا عالیشان مینشن ہے۔ شہر اس وقت سنسان تھا مگر مسعود نے لگے ہاتھوں مجھے یہاں کے مختلف مقامات دکھائے۔ اس نے بتایا کہ اس ساحلی شہر کی تاریخ کتنی قدیم ہے، کیسے صنعتی انقلاب کے دوران نیوکاسل ایک اہم تجارتی مرکز بنا۔ ہم سڑکوں پر چلتے ہوئے دریائے ٹائن کے قدیم پلوں سے گزرے، جو نیوکاسل کو اس کی خوبصورتی اور تاریخی ورثے میں ایک خاص مقام دیتے ہیں۔ مسعود نے پھر مجھے نارتھمبرلینڈ Northumberland کے بارے میں بتایا جو نیو کاسل اور دیگر علاقوں سمیت کبھی برطانیہ کے شمال میں اسکاٹ لینڈ کی سرحد کے قریب واقع ایک قدیم خطہ ہے جس کی تاریخ نہایت پرانی اور جنگوں سے بھرپور رہی ہے۔ یہاں قدیم زمانے میں رومیوں نے اپنی مشہور دیوار Hadrian's Wall تعمیر کی جو آج بھی موجود ہے۔ بعد ازاں یہ علاقہ اینگلو سیکسن دور میں ایک طاقتور ریاست کا حصہ بنا اور صدیوں تک انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان جھگڑوں کا مرکز رہا۔

مسعود کے ساتھ یہ سفر صرف شہر در شہر نہیں تھا بلکہ خوابوں کی تعبیر کا ایک سفر تھا۔ مسعود نے مجھے سکھایا کہ محنت اور استقلال سے انسان اپنے خواب حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ مسعود ایسے پاکستانی نژاد لوگوں کی ایسی Success سٹوریز برطانیہ کے چپے چپے میں بکھری پڑی ہیں۔ یہ وہ ٹوٹےتارے ہیں جو کامیابی کی تلاش میں اپنے مدار سے نکلے اور اس اجنبی معاشرے سے اپنے ٹیلنٹ اور محنت کی بدولت خراج وصول کیا۔

مجھے مسعود پہ رشک آیا، میں یہ سوچ رہا تھا، کبھی تاریخ نے اپنا پہیہ دہرایا تو میں اب بچپن میں مسعود کا دامن پکڑ لوں گا اور اسے کہوں گا مجھے بھی کرکٹ سکھاؤ، میں نے بھی کاؤنٹی کھیلنی ہے اور لندن میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے ہیں۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Millenium Ki Raat

By Ashfaq Inayat Kahlon