Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Chishtian Ke Sapoot Ki Deyar e Ghair Meinrehlat

Chishtian Ke Sapoot Ki Deyar e Ghair Meinrehlat

چشتیاں کے سپوت کی دیار غیر میں رحلت

معروف روحانی سکالر سید سرفراز شاہ صاحب کی ایک تازہ ترین ٹی وی کلپ دیکھ رہا تھا، جس میں نے انھوں نے صوفی برکت علیؒ اور امام بری سرکارؒ کی پیشینگوئیوں کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر شروع ہوگیا ہے۔ امت مسلمہ کو لیڈ کرنے کے ساتھ ساتھ دس گیارہ ماہ میں یہ زبردست معاشی استحکام حاصل کرنے جا رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب دنیا سے لوگ پاکستان میں نوکریوں کے حصول کے لیے آئیں گے۔

مجھے دو روز قبل لندن کے ہاسپیٹل میں بستر مرگ پہ پڑے چشتیاں کے ظفر اقبال یاد آگئے جن کی روح شائید آج سرفراز شاہ صاحب کی بات سن کے مسکرا رہی ہوگی اور کہہ رہی ہوگی، ہمارے بعد ہی اے غم زندگی، سنورنا تھا تو نے۔۔

دو روز قبل لندن میں میرے دوست اور عزیز ساجد عباسی مرحوم ظفر اقبال کی پر درد کہانی سنا رہے تھے۔

ظفر اقبال نے 26 برس قبل بارڈر کراس کرکے لندن کا رخ کیا۔ اپنے باپ اور سوتیلے بہن بھائیوں کی کفالت کے لیے دن رات محنت کی۔ اٹھارہ برس تک ظفر اقبال لیگل نہ ہو سکے، پھر جب کاغذ بنے تو پاکستان گئے مگر لواحقین کی بے رخی دیکھ کے مایوس ہوئے اور لوٹ آئے۔ اس دوران وہ ایک آئرش خاتون سے شادی کر چکے تھے اور اس سے دو بچے بھی پیدا ہو چکے تھے۔ پاکستان میں ان کی فیملی محدود تھی اور ان سے رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ یوکے میں بھی ان کا حلقہ احباب مختصر تھا، مگر ساجد سے ان کی گہری دوستی تھی۔

تقریباً ڈیڑھ سال قبل انہیں کینسر کی تشخیص ہوئی جو اسٹیج فور میں تھا اور وقت کے ساتھ یہ مرض ان کے جسم کے مختلف اعضا میں پھیل گیا، یوں ڈیڑھ سال تک وہ اس بیماری سے لڑتے رہے۔

ساجد کے مطابق ان کی ایک آخری خواہش تھی کہ ان کا جنازہ اور تدفین اسلامی طریقے کے مطابق ہو اور اس حوالے سے انہوں نے اس سے خاص طور پر خواہش کا اظہار کیا۔ چونکہ یہاں ان کے قریبی رشتہ دار موجود نہیں تھے اور بیماری کی وجہ سے حالات بھی مخدوش تھے اس لیے ساجد نے ان کو سفری انتظامات مکمل کرکے پاکستان منتقل کرنے کی کوشش کی۔ وہ باقاعدہ فلائٹ میں سوار بھی ہو چکے تھے، لیکن 28 فروری کو ایران کی جانب سے قطر پر حملے اور فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے فلائٹ منسوخ ہوگئی۔

اس کے نتیجے میں انہیں رن وے پر تین گھنٹے انتظار کے بعد airspace بند ہو جانے کی وجہ سے جہاز سے اتار لیا گیا اور دوبارہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور بعد میں انہیں hospice (سپشلائزڈ کئیر) میں شفٹ کر دیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور گزشتہ روز ان کا انتقال ہوگیا۔

ان کی آخری خواہش کو پورا کرنے کے لیے ویمبلے سینٹرل مسجد لندن سے مولانا مبشر علی صاحب (سانٹھی، مری) کی ذاتی کاوشوں اور وسیم صاحب جو ویمبلے سینٹرل مسجد کے تجہز و تکفین معاملات کے ذمہ دار ہیں، نے ساجد اور دیگر دوستوں کے ساتھ بڑی محنت سے فنڈز کا انتظام کیا اور ان کی تدفین اسلامی طریقے کے مطابق ممکن ہو پائ۔ اللہ ﷻ سُبُحَانَهُ وَتَعَالَى ان سب حضرات کو ان کاوشوں پر بھرپور جزائے خیر عطا فرمائے۔

ساجد نے مرحوم ظفر اقبال کی بستر مرگ پہ آخری گفتگو کی وڈیو شئیر کی۔

جواں سال ظفر اقبال بڑی پامردی سے مسکرا کر اپنی بیماری بیان کر رہا ہے۔ وہ ہنستا ہنستا دنیا سے رخصت ہوگیا لیکن ہمارے ملک پہ نافذ ستتر سالہ بدہیت نظام کے منہ پہ بھی ایک طمانچہ مار گیا۔ نہ جانے کتنے ایسے مظلومین نے رزق کی تلاش میں ہوں ہی دیار غیر میں تنہائی کاٹی اور غیروں کی بانہوں میں دم توڑ گئے۔ سید سرفراز شاہ صاحب آج خوشخبری تو دے رہے ہیں لیکن گزشتہ دہائیوں سے جو بچے غریب الوطنی میں اپنے پیاروں سے جدائی کے غم لے کے دنیا سے سدھار گئے، ان کا حساب کون حکمران دے گا؟

دل انتہائی مغموم ہے، میں مرحوم ظفر اقبال سے کبھی نہیں ملا مگر اب ہم ہی اس کے لواحقین ہیں، اس کے لئے دو ہاتھ کھڑے کیجئے اور صدق دل سے اس کی مغفرت کی دعا مانگئیے، اب ہم اس کے سوا کیا کر سکتے ہیں۔

جَزَاكُ اللهُ خَيُرًا كَثِيُرًا واحسسن الجزاءفی الدنیاءوالاخرتہ۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Taqat Ka Tawazun Aur Paidar Aman

By Khalid Zahid