Banam Marriyum Aurangzeb Sahiba
بنام مریم اورنگزیب صاحبہ

گذشتہ ہفتےایک ایسا دن آیا جس نے مری کی تاریخ میں دو اہم خوشخبریاں اجاگر کیں۔ پہلی یہ کہ کہسار یونیورسٹی کے طلبہ کو پہلی بار چار سالہ پروفیشنل ڈگریاں دی گئیں، جو مری کی تاریخ میں ایک تاریخی سنگِ میل تھا، دوسری جانب، حکومت پنجاب نے مری کے لیے کئی سیاحتی منصوبوں کا اعلان کیا، جن میں پنڈی سے مری گلاس ٹرین کا آغاز، کوٹلی ستیاں میں اسکائی بریج، مری میں تین نئے ہاسپیٹیلٹی زونز مع فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر، لینڈ سلائیڈ کنٹرول منصوبہ جات و متاثرین کی امداد اور بلک واٹر سپلائی منصوبہ کی بحالی وغیرہ تھا۔
میں سوچ میں پڑ گیا، بڑی خبر کون سی ہے؟
ٹھیک دو ہفتے قبل میں لندن میں کیمبرج سٹی میں پھر کھڑا تھا، جہاں 1209 عیسوی میں قائم کیمبرج یونیورسٹی کے نام یہ شہر رکھا گیا۔ پورے شہر میں پھیلے 31 کالجز پہ مشتمل کیمبرج یونیورسٹی میں اس وقت تقریباََ چوبیس ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ یہاں میں نہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ چھ برس بعد آیا تھا، کیونکہ اس دفعہ میرے دوست راؤ آفتاب نے یہ شہر ہمارے دوست عبدالرزاق کو دکھانا تھا۔ اس شہر کے2020 میں جو مناظر میری آنکھوں میں نقش ہوئے، آج بھی سر مو ان میں کوئی فرق نہ تھا۔ ایک ایک تنگ مگر دلکش گلی، ایک ایک اینٹ وہیں لگی تھی، جو کچھ صدیاں پہلے لگی تھی۔
مری کی دو خبروں کے تقابلی موازنے کی گتھی یکلخت سلجھ گئی۔
مجھے کیمبرج یونیورسٹی کی دو نابغہ تاریخی ہستیاں یاد آئیں، ایک شاعر مشرق علامہ اقبال جو 1905 میں یہاں تشریف لائے اور یہاں کیمبرج کے ٹرینیٹی کالج سے نفسیات، فلسفہ، منطق کی تعلیم حاصل کی اور پھر بعد ازاں یہیں سے نوے کلومیٹر دور لنکن ان کالج سے بار ایٹ لاء کیا۔ پھر مجھے خالق پاکستان چوہدری رحمت علی یاد آئے جو علامہ اقبال سے ٹھیک پچیس برس بعد 1930 میں قانون پڑھنے کیمبرج تشریف لائے اور اگلے تین سال میں یہاں سے ہی Now or Never اور پھر لفظ پاکستان تخلیق کیا اور پھر یہاں کی مسلم سیمیٹری میں آسودہ خاک ہوئے۔ پھر مجھے کیمبرج سے تعلیم یافتہ کچھ اور عالمی شخصیات بھی یاد آئیں، جن میں 120 نوبیل انعام یافتہ ہستیاں ہیں۔ سائنس کے عظیم مفکر آئزک نیوٹن، فلسفہ ارتقاء کے بانی ڈارون، جدید فزکس کے موجد سٹیفن ہاکنگ، بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوئم بھی یاد آئے، جن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
یقیناً کہسار یونیورسٹی کو کیمبرج کے لیول پہ جانے کے لئے شاید صدیاں درکار ہوں گی، مگر خشت اول تو رکھی جا چکی ہے۔ آج دمکتے چہروں کے ساتھ جو بچے یہاں سے گریجویشن کرکے نکل رہے ہیں، وہ یا ان کی نسل کا کوئی بچہ شائید فلسفہ کا ڈارون، یا سائنس کا سٹیفن ہاکنگ بن جائے، یہ ہمارا گمان اور یقین ہے، کیونکہ کسی ملک کی تعلیمی درسگاہ ہی وہ مقام ہوتی ہے جہاں سے پائیدار مستقبل کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔ یونیورسٹی بنانے والے معتوب قائدین کو بہرحال خراج تحسین پیش ہے۔
باقی مری کے میگا منصوبہ جات کی اہمیت اپنی جگہ، یقیناََ ہم موجودہ پنجاب حکومت کے شکر گزار ہیں، مجھے ہمارے دوست ظہیر شیرازی کے رت جگوں کو بھی تحسین پیش کرنا ہوگی، شہر کے منتظم اعلیٰ کے ناتواں کندھوں پہ ایسے منصوبہ جات تشکیل دینے اور توڑ چڑھانے تک بڑی توانائی صرف کرنا پڑتی ہے، ہم پنجاب کے حکمرانوں کے ساتھ انھیں بھی یاد رکھیں گے۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ کاش کہیں ان منصوبہ جات کے ساتھ کسی دانش سکول، موجودہ یونیورسٹی کے مستقل کیمپس کی تعمیر کے اور پھر اسی کے زیر اہتمام انجنئیرنگ یا میڈیکل کالج کے قیام کا اعلان بھی کہیں کسی ترجیحی فہرست میں آ جاتا تو اہلیان مری کی نسلوں پہ ایک بڑا احسان چڑھ جاتا۔
شیرازی صاحب نے اس سے قبل دانش سکول کے قیام کے حوالے سے مجھے زمین کی عدم دستیابی کا عذر پیش کیا تھا، مگر میں دوبارہ اپنی بہن مریم اورنگزیب سے اپیل کروں گا، کسی فائن مارننگ پنجاب کی قیادت کے کان میں اگر ہماری یہ خواہش بھی پھونک دیں تو آپ کی نوازش ہوگی، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، پہاڑ کے سخت کوش مگر ذہین ترین بچے آپ کو مایوس نہیں کریں گے، وہ آپ کو سٹیفن ہاکنگ اور آئزک نیوٹن بن کے دکھائیں گے، انشاءاللہ!
ہم عرض تمنا کرتے رہیں گے، ماننا نہ ماننا حضور کی صوابدید ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تو پھر کسی دورے میں بریفنگ روم میں بیٹھ کر اعلان ہی کرنا ہے، باقی کام شیرازی صاحب اور ایچ ای سی کے کارپردازان کر لیں گے۔

