Subai Khud Mukhtari Aur 18wi Tarmeem
صوبائی خود مختاری اور 18ویں ترمیم
2010 کے اپریل میں جب پارلیمنٹ نے 18ویں ترمیم منظور کی، تو شاید اس وقت بہت کم لوگوں کو اندازہ تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ یہ کوئی معمولی قانونی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ تو اصل میں طاقت کی نئی تقسیم تھی۔ پہلی بار صوبوں کو اتنے اختیارات ملے جتنے شاید انہوں نے کبھی سوچے بھی نہ تھے۔
آخر صوبوں کو کیا شکایت تھی؟ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 18ویں ترمیم کی ضرورت کیوں پڑی۔ دیکھیں، 1973 میں جب آئین بنا تھا، تو اس میں وفاقی حکومت کو بہت زیادہ طاقتیں دے دی گئیں تھیں۔ اسلام آباد میں بیٹھی حکومت سب فیصلے کرتی تھی۔ چاہے وہ پنجاب کا معاملہ ہو، سندھ کا، بلوچستان کا یا خیبر پختونخوا کا۔
صوبوں کی شکایت یہ تھی کہ "بھئی، ہر علاقے کے اپنے مسائل ہیں، اپنی ضروریات ہیں۔ اسلام آباد سے بیٹھ کر کوئٹہ یا پشاور کے مسائل کیسے سمجھے جا سکتے ہیں؟" خاص طور پر چھوٹے صوبوں کو لگتا تھا کہ ان کی آواز سنی ہی نہیں جاتی۔
ایک کنکرنٹ لسٹ تھی جس میں 47 چیزیں شامل تھیں۔ تھیوری یہ تھی کہ ان 47 چیزوں پر وفاق اور صوبے دونوں قانون بنا سکتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر کیا ہوتا تھا؟ وفاق جو کہتا، وہی ہوتا۔ صوبوں کی کوئی نہیں سنتا تھا۔
18ویں ترمیم نے کیاکیا تبدیل کیا؟ وہ پرانی کنکرنٹ لسٹ ختم ہوگئی یہ سب سے بڑا کام تھا۔ جن 47 چیزوں پر وفاق اور صوبے دونوں کا اختیار تھا، وہاب صرف صوبوں کے پاس آ گئیں۔ اب تعلیم صوبے دیکھیں گے، صحت کا نظام صوبے چلائیں گے، ماحولیات کے مسائل صوبے حل کریں گے، لیبر کے قوانین صوبے بنائیں گے۔ یہ چھوٹی بات نہیں تھی، پیسوں کی تقسیم بدل گئی۔
پہلے وفاقی ٹیکسوں میں سے صوبوں کو صرف 50 فیصد ملتا تھا۔ 18ویں ترمیم نے کہا کہ نہیں، اب صوبوں کو 57.5 فیصد ملے گا۔ یہ بہت بڑافرق تھا۔ اب صوبوں کے پاس زیادہ پیسے آنے لگے اور وہ اپنی ترقیاتی سکیموں پر خرچ کر سکتے تھے۔
صدر کی طاقتیں کم ہوگئیں، یاد ہے نا، پرانے زمانے میں صدر کے پاس بہت اختیارات تھے؟ وہ چاہیں تو قومی اسمبلی توڑ سکتے تھے، حکومت گرا سکتے تھے۔ 18ویں ترمیم نے یہ سب ختم کر دیا۔ اب یہ طاقتیں وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے پاس ہیں۔
تو اب صوبےکیا کیا کر سکتے ہیں؟ بہت کچھ! مثال کے طور پر پنجاب یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ ان کے اسکولوں میں کیا پڑھایا جائے۔ سندھ اپنے ہسپتالوں کے لیے اپنی پالیسی بنا سکتا ہے۔ بلوچستان اپنے علاقے کی ضروریات کے مطابق قوانین بنا سکتا ہے۔ یہ خود مختار ہے۔ اپنے معاملات خود سنبھالنے کی آزادی۔
کیا سب کچھ اچھا ہی اچھا ہوا؟ دیکھیں، انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ اچھی باتیں۔ صوبوں میں جمہوریت مضبوط ہوئی۔ مقامی لوگوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع مال۔ ہر صوبہ اب اپنی ضرورت کے مطابق کام کر سکتا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔
لیکن مسائل بھی آئے۔ کچھ صوبے اس قابل نہیں تھے کہ اتنی بڑی ذمہداریاں اٹھا سکیں۔ ان کے پاس تربیت یافتہ لوگ کم تھے، وسائل کم تھے۔ کچھ لوگوں کو یہ بھی لگا کہ وفاقی حکومت بہت کمزور ہوگئی۔ اگر سب صوبے الگ الگ کام کریں گے تو ملک کو ایک ساتھ کون رکھے گا؟
آج 14، سال بعد کیا صورتحال ہے؟ صاف بات ہے کہ 18ویں ترمیم نے کچھ اچھا کیا، کچھ مسائل بھی پیدا کیے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ کچھ اختیارات واپس وفاق کو دے دینے چاہئیں۔
اصل بات یہ ہے کہ توازن ضروری ہے۔ نہ صوبے اتنے مضبوط ہوں کہ ملک ٹوٹنے لگے اور نہ وفاق اتنا طاقتور ہو کہ صوبوں کی آواز دب جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مل کر کام کریں۔ صوبے بھی اور وفاق بھی۔ کیونکہ آخر میں تو مقصد ایک ہی ہے۔ عوام کی بہتری۔
یہ سفر ابھی جاری ہے۔ 18ویں ترمیم کوئی آخری لفظ نہیں تھا۔ یہ ایک شروعات تھی۔ آنے والے وقت میں دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس میں سےکیا سیکھتے ہیں اور کیسے اسے بہتر بناتے ہیں۔

