Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Aziz
  4. Nikah Aur Bosa

Nikah Aur Bosa

نکاح اور بوسہ

کچھ عرصے سے پاکستان میں شادیوں پر ایک نیا رواج چل پڑا ہے۔ دلہا دلہن کا نکاح ہوتے ہی دلہا صاحب بے صبری سے تیزی سے آگے بڑھ کر دلہن کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کردیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا حسب توفیق ناچ گانا ہوتا ہے۔ شروعات میں یہ خرافت صرف امراء کے طبقے تک محدود تھی لیکن پھر متوسط طبقے میں بھی سرایت کرگئی جو کبھی شرم و حیا کا علمبردار ہوا کرتا تھا۔

"کھلے ذہن" کے لوگ تو اسے بہت پہلے تسلیم کرچکے تھے لیکن افسوس اس وقت ہوا کہ جب متوسط طبقے کے کچھ "قدامت پرست" بھی اس فعل کی حمایت کرتے نظر آئے کہ یہ "حلال" بوسہ ہے لوگوں کو کیا "تکلیف" ہے اور باقاعدہ اسلامی حوالے دیے گئے۔

ابھی اس بحث مباحثے سے نہیں نکلے تھے کہ ایک چھوٹی سی ویڈیو نگاہ کے سامنے سے گزری جس میں پہلے خاتون نے مرد کے گال پر بوسہ لیا اور پھر مرد نے بھی اس کے گال پر جوابی بوسہ لے کر فخریہ انداز میں کہا "غلط مت سمجھنا ہم دونوں میاں بیوی ہیں"۔

جی جناب یہ تکلیف ہے کہ اگر اس چیز کا بھی دفاع کیا گیا تو ہر جگہ ہائیڈ پارک بن جائے گی اور لوگ نکاح نامے ہاتھ میں پکڑے گلی کوچوں، چوکوں میں سرعام بوس و کنار اور خلوت کے تمام افعال سرانجام دیتے نظر آئیں گے۔

اس عمل کی ابتدا دلہا کی طرف سے سٹیج پر دلہن کا ہاتھ پکڑ کر لانے سے ہوئی تھی۔ پھر دلہا اور دلہن کے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنانے کا رواج آیا (یاد رہےانگوٹھی پہنانے کی یہ رسم اب منگنیوں پر بھی باقاعدہ شروع ہوچکی ہے)۔ اس کے بعد بات بوسے تک پہنچی جو فی الحال پیشانی پر ثبت کیا جارہا ہے مگر امید ہے کہ جلد ہی نینوں اور رخساروں کو عبور کرتا ہوا لبوں تک بھی پہنچ جائے گا۔ پتا نہیں ہم لوگوں کی عقل کہاں گھاس چرنے چلی گئی ہے۔

مسئلہ حلال حرام کا نہیں بلکہ خلوت کا ہے۔ ایک چیز جب ہے ہی خلوت گاہ کے لیے تو اس کی سرعام تشہیر کیوں؟ اگر اس طرح کے کام سرِ عام کرنے ہیں تو ہم میں اور جانوروں میں فرق کیا رہ گیا؟

اس عمل کو بچے بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں جن کے کچے ذہنوں پر پہلے ہی برا اثر پڑرہا ہے تو وہ بھی اسے ایک نیک عمل سمجھتےہوئے تجربات کرتے نظر آئیں گے۔

بہت سے لوگوں کے اس پر تبصرے آتے ہیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے یہ ان کا "ذاتی معاملہ" ہے۔ تو جناب اگر بات ذاتی معاملے کی ہے تو کیا آپ ہر غلط کام کرنے والے کا دفاع اس ہی طرح کریں گے کہ یہ تو اس کا "ذاتی معاملہ" ہے۔

اگر تمام لوگ ایسی حرکتوں کا دفاع کرتے نظر آئیں گے تو کل کلاں کو پڑوسی ملک میں پہنچے ہوئے live-in یا پھر ہم جنس پرستی کے رواج کو بھی پاکستان میں آنے یا اس کو قانونی حق دینے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلامی روایات اور اپنی اخلاقی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کم از کم اس فعل کی حوصلہ شکنی کریں جو نکاح کے بعد دلہن کا ہاتھ پکڑ کر سٹیج پر لانے سے شروع ہوا تھا اور اب خدا معلوم پیشانی سے ہوتا ہوا کہاں پر جاکر رکے گا۔

لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن فی الحال اسی کو کافی سمجھیے اور اپنی اپنی رائے دیجیے تاکہ مجھے بھی پتا لگے کہ میں کتنا غلط ہوں۔

Check Also

Blood Activism, Samaji Khidmat Ka Dil

By Asif Ali Yaqubi