Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Aziz
  4. Larkiyan, University Aur Hostel

Larkiyan, University Aur Hostel

لڑکیاں، یونیورسٹی اور ہاسٹل

"کیا لڑکیوں کو یونیورسٹی یا ہاسٹلز بھیجنا چاہیے؟" یہ وہ سوال ہے جو مجھ سے میرے اکثر قارئین کرتے رہتے ہیں اور پچھلے دنوں تواتر سے الٹی سیدھی خبروں آنے پر تو ایک تانتا سا بندھ گیا تھا۔ (وہ خبریں کالجز، یونیورسٹیز اور پروفیشنل کالجز کے بارے میں ہیں جنہیں میں ادھر موضوع کی طوالت کے پیش نظر دہرانا نہیں چاہتا ہوں)۔ خاص طور پر اب تو خاصے پڑھے لکھے فیس بکی لکھاریوں نے بھی سرعام کہنا شروع کردیا کہ لڑکیوں کو یونورسٹی نہ بھیجا جائے اور ہاسٹل میں بھیجنا تو لڑکی کو جان بوجھ کرتباہی کے گڑھے میں دھکا دینے کے مترادف ہے۔ اس کے تائید میں بہت سی خواتین بھی تھیں لیکن کچھ کے نزدیک یہ لڑکیوں کو دوبارہ سے تاریک دور میں پھینکنے کے مترادف تھا۔

یونیورسٹی کے نام سے لڑکے لڑکیوں میں ایک سنسنی سی پھیل جاتی ہے۔ خاص طور پر کسی مخلوط ادارے میں پہلی دفعہ جانے والے اپنے بہت سے اہداف بھی پہلے ہی سے طے کرکے جاتے ہیں۔

یہ چیز اس وقت اور زیادہ پھیل گئی جب نجی (پرائیویٹ) مخلوط میڈیکل کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی ادارے وجود میں آئے۔ آپ کو کبھی ایسے چند بڑے تعلیمی اداروں میں جانے کا موقعہ مل جائے تو آپ کے منہ سے بے ساختہ استغفراللہ نکلے گا یا ہوسکتا ہے آپ کی سانس سینے میں اٹک جائے اور پلکیں جھپکنے سے انکار کردیں۔ آپ کو لگے گا آپ کسی فیشن شو میں آئے ہوئے ہیں اور آپ کو اپنا آپ انتہائی دقیانوسی لگے گا۔

پہلے پہل ایک مخصوص طبقے کی لڑکیاں ہی الٹے سیدھے فیشن کرتی تھیں لیکن پھر متوسط طبقے کی لڑکیاں بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئیں خاص طور پر جو ہاسٹلز میں تھیں۔ شروعات اپنی سہیلیوں کے کپڑے پہن کر ہوتی ہے اور پھر ان کی حوصلہ افزائی سے خود بھی ایسے کپڑے خریدے جانے لگتے ہیں کہ جن میں جسم کے تمام نشیب و فراز نمایاں ہورہے ہوتے ہیں۔ بہت سی ایسی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو گھروں سے عبایا پہن کرآتی ہیں لیکن کالج یونیورسٹی کی حدود میں داخل ہوتے ہی تہہ کرکے اپنے بیگ میں ڈال لیتی ہیں۔

پہلے پہل گورنمنٹ ہاسٹلز میں کچھ سختیاں تھیں اور موبائل فون کی عدم موجودگی میں والدین ہاسٹلز فون وغیرہ کرتے رہتے تھےاور لڑکیوں کو ڈر رہتا تھا۔ پھر پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ساتھ ساتھ کھمبیوں کی طرح پرائیویٹ ہاسٹلز بھی اُگ آئے اور موبائل فون کی آمد نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ اب بہت سے ہاسٹلز کی لڑکیاں شہر سے باہر "صحت افزا مقام" پر بھی راتیں گزار کر آجاتی ہیں لیکن والدین کو کچھ پتا نہیں لگتا ہے۔ کیونکہ وہ ان سے موبائل پررابطے میں رہتی ہیں۔ اکثر باہر ریستوران میں"دوستوں" کے ساتھ لنچ اور ڈنر بھی ہورہا ہوتا ہے۔ (میری یہ باتیں وہ تمام لڑکیاں اچھے سے جانتی ہیں جو کسی ہاسٹل میں رہی ہیں یا رہتی ہیں اور وہ لڑکا بھی جانتا ہے جو ہاسٹل میں رہنے والی لڑکی کہ ساتھ تعلقات میں رہا ہے۔)

اگر میرے جیسا دقیانوسی سوچ کا حامل شخص ان سے سوال کرے تو کہا جاتا ہے "مبشر! یہ صرف دوستی ہوتی ہے اورنیت بالکل صاف ہوتی ہے۔ "

میں مرد وعورت کی دوستی نامی چیز کو (خاص طور پر جب وہ تنہائی میں ملتے ہوں) سر سے ماننے سے صاف انکاری ہوں کیونکہ جہاں مرد عورت تنہاہوں وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (بدقسمتی سے بہت سے ایسے واقعات کا میں چشم دید گواہ بھی ہوں)۔

اگر آپ کو میری ڈھکی چھپی باتیں جھوٹ لگ رہی ہیں تو آپ صرف ایک مہینہ آن لائن ٹیکسی چلائیں تو آپ کو لگ پتا جائے گا (میں یہ کام بے روزگاری کے دنوں میں کرچکا ہوں اور کبھی اپنے تجربات لکھنے کی کوشش کروں گا)۔

میری ذاتی رائے میں جتنا ہوسکے ہاسٹلز بالخصوص نجی (پرائیویٹ) ہاسٹلز سے اجتناب کریں یا اگر کروا بھی دیں تو ادھر چیک رکھیں۔ چاہے وہ چوکیدار ہو یا وارڈن(ویسے میں بالکل بھی اس حق میں نہیں ہوں)۔

مزید صحبت بھی انسان کو بگاڑنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ جب ایک لڑکی اپنی روم میٹ کو روزانہ کی بنیاد پر اپنے افئیر اور تحائف کا تذکرہ کرتی نظر آئے گی تو کچھ نہ کچھ اثر تو ادھر بھی ہوگا۔ خاص طور پر جب آپ اپنے گھر سے دور تنہا ہوں۔ (یہ لڑکوں پر بھی لاگو ہوتا ہے)۔

گورنمنٹ یونیورسٹیز میں بھی فیشن بری طرح سرایت کرچکا ہے لیکن بہت سی لڑکیاں ادھر اپنی مشرقی حدود پر قائم نظر آتی ہیں اور حتی الامکان لڑکوں سے دوری بنائے رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جو وظائف (سکالرشپس) پر پڑھ رہی ہوتی ہیں اور بری سرگرمیوں میں بالکل بھی نہیں پڑتی ہیں۔

اس لیے میرے نزدیک والدین کو اپنی بچیوں کو گورنمنٹ یونیورسٹیز یا گورنمنٹ اداروں میں بھیجنا چاہیے ناکہ نجی اداروں میں خاص طور پر ایسے اداروں پر جہاں صرف فیشن اور سٹیج شوز ہوتے رہتے ہوں۔ جس بچے یا بچی نے پڑھنا ہو وہ حکومتی اداروں میں پڑھ کر بھی پوزیشن لے لیتا ہے لیکن اگر اس کے سوا چارہ نہ ہوتو صرف اچھی شہرت کے حامل اداروں کی طرف جایا جائے۔

دوسرا میں تجویز کروں گا کہ بالخصوص مائیں اپنی بچیوں پر خاص نظر رکھیں۔ ماؤں سے کچھ نہیں بچ سکتا ہے لیکن اگر ایک ماں اپنے فرائض سے پہلوتہی کرے گی تو بیٹی کی تباہی کی ذمہ دار وہی ہوگی۔ بالخصوص آج کل کے دور میں ماں اپنی بچی کی سہیلی بن کر رہے اور اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھتی رہے۔ بلکہ اگر بیٹی کو موبائل دیا ہے تو ماں کو پاس ورڈ معلوم ہو اور وہ وقتاً فوقتاً اس کا موبائل چیک کرتی رہے۔ بلکہ شروع شروع میں اس کا اور اپنا ایک ہی موبائل رکھے تاکہ بیٹی کو محسوس نہ ہوکے ماں اس کا موبائل کیوں دیکھ رہی ہے۔

اگر بچی کا رویہ تبدیل ہورہا ہے مثلاً وہ کھوئی کھوئی ہے یا ضرورت سے زیادہ خوش ہے اور موبائل کی معیت میں زیادہ وقت گزار رہی ہے تو اس پر زیادہ نظر رکھیں۔ ایک ماں کو اپنی بچی جب اونچی ہواؤں میں اڑرہی ہوتو صاف پتا چل جاتا ہے۔ بچے یا بچی کے سوشل اکاونٹس کو چیک کرنے کا آپ کے پاس اختیار ہونا چاہیے۔ (ہوسکتا ہے میری یہ بات آپ لوگ کو تھرڈ کلاس اور ناگوار گزرے لیکن اگر آپ اپنی بچی کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو یہ قدم اٹھانا پڑے گا)۔

باقی یہ میرا مشاہدات و خدشات ہیں اور ان کی بنیاد پر تجاویز ہیں جن پر عمل کرنے یہ نہ کرنے کا آپ کو اختیار ہے کیونکہ ہوسکتا ہے آپ کے مشاہدات و خدشات اس سے مختلف ہوں لیکن میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے لڑکی کو تعلیم سے دور نہ رکھیں لیکن اس پر حدود و قیود واضح کردیں۔ یہی چیز لڑکوں پر بھی لاگو کی جاسکتی ہے۔

Check Also

Blood Activism, Samaji Khidmat Ka Dil

By Asif Ali Yaqubi