Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Aziz
  4. Jadu Toona Aur Hum

Jadu Toona Aur Hum

جادو ٹونا اور ہم

کالج کے زمانے میں ہمارے محلے میں ایک لڑکا تھا نمازی پرہیزی اور خاموش مزاج، ہم اسے شاہ جی کہہ کر بلاتے تھے۔ ہم اس کو کبھی بھی، کیسا بھی سگریٹ کا اندر والا سلور رنگ کا پنا (کاغذ) دیتے، وہ اس کی گولی سی بنا کر، منہ میں ڈال کر، پھر باہر نکال کر، اس پر کچھ پڑھ کر پھونکتا اور ہماری ہتھیلی پر رکھ کرکہتا مٹھی بند کرلو۔ یقین کیجیے ہتھیلی جلنے کو ہوجاتی تھی اور ہمیں وہ کاغذ پھینکنا ہی پڑتا تھا۔ ہم نے اس کے ہاتھ وغیرہ سب چیک کیے لیکن کبھی کسی کیمیکل کی موجودگی نہ پائی۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے ایک قریبی دوست کو بھی یہ عمل بتا رکھا تھا اور وہ بھی یہ کرتب دکھاتا تھا۔

میں نے اور میرے دوست خلیل نے منصوبہ بنایا کہ یار کسی طرح ہم بھی یہ سیکھ لیں اور سب لوگوں کو حیران و پریشان کردیں گے۔ خیر اب ہم شاہ جی کے پیچھے اور ہر روز اس کے گھر گپ شپ کے لیے پہنچ جاتے۔ آخر ایک روز اس نے ہمارے دن رات کے ترلوں سے تنگ آکر ہمیں وہ عمل بتایا۔

شاہ جی کے مطابق اگر اس عمل کو بعد از نماز عشاء سو دفعہ سات دن تک پڑھو گے تو کاغذ گرم کرنا سیکھ جاؤ گے۔۔

پھر شاہ جی نے وجد میں آکر کہا کہ "اگر اس کو بعد از نماز عشاء گیارہ سو دفعہ گیارہ دن تک پڑھو گے تو جس پر بھی پڑھ کر پھونکو گے وہ تمہارا ہوگا۔ بے شک کوئی مرد ہو یا دوشیزہ ہو بس وہ تمہارے پیچھے پیچھے۔۔ لیکن کسی کو بتانا مت۔۔ "

میری رگ ظرافت اس پر پھڑک اٹھی اور بولا "شاہ جی اگر بھینس پر غلطی سے پھونک ماردی تو وہ بھی پیچھے ہوگی"

شاہ جی نے قدرے خفگی کا اظہار کیا لیکن منہ سے کچھ نہ کہا اور خلیل نے بھی منہ بند رکھنے کا کہا۔

مجھے لڑکیوں وغیرہ کے چکروں میں پڑنا فضول ہی لگتا تھا (اور ابھی بھی میرے ناولوں میں آپ کو حسرت ہی رہی کہ کوئی محبت بھرا منظر ہو) اس لیے میں نے خلیل کو کہا یار میں تو سات دن والا عمل کروں گا اب تو دیکھ لے تونے کیاکرنا ہے۔ خلیل کمینگی والی ہنسی ہنسا اور بولا نہیں چھوٹا عمل ہی ٹھیک ہے۔ اب دونوں نے عمل شروع کردیا۔

خلیل کے جیب میں ایک صبح میں نے تسبیح پکڑ لی اور پھر وہ مان گیا کہ وہ بڑے والا عمل کررہا ہے۔ خیر اللہ اللہ کرکے میرے سات دن مکمل ہوئے۔

صبح صبح خلیل نے جیب سے صاف ستھرا چمکتا ہوا پنا نکال کر مجھے دیا کیونکہ اس کے والد عادی سگریٹ نوش تھے۔

اب میں نے اس کی گولی سی بنا کر، منہ میں ڈال کر، پھر باہر نکال کر، زیر لب عمل دہرا کر پھونک ماری اور پنا خلیل کی ہتھیلی پر رکھ کر مٹھی بند کرنے کو کہا لیکن کافی دیر تک مٹھی بند رکھنے کے باوجود کچھ نہ ہوا۔

اس نے کہا "یار! لگتا ہے تھوک زیادہ نہیں لگا اور سوکھی پھونک مت مار"

اگلی دفعہ میں نے کاغذ کو چاٹ چاٹ کر اس کی آتما رول کر، پھر منہ میں تھوک بلو کر، پھیپھڑوں کا زور لگا کر، جو اس کاغذ پر بوچھاڑ ماری تو کاغذ تو کاغذ خلیل کا منہ بھی دھل گیا۔

خیر اس نے بالکل بھی برا نہ منایا اور منہ صاف کرکے ہتھیلی آگے کردی۔

میں نے کہا بھائی مال بہت لگا ہے کہیں ہتھیلی جل کر سوا (راکھ) نہ ہوجائے اور بہت احتیاط کے ساتھ کاغذ اس کی ہتھیلی پر رکھ کر مٹھی بند کرنے کو کہا۔ اس نے متوقع تپش کے پیش نظر بے اختیار دانت بھینچ کر آنکھیں بند کرکے مٹھی بند کرلی۔

میں اب اس انتظار میں تھا کہ کب کاغذ گرم ہواور کب خلیل کی چیخیں نکلیں لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔

شام کو شاہ جی سے ملاقات ہوئی تو اس نے میری غلطی نکالی کہ کمی بیشی ہوگئی ہوگی دوبارہ کوشش کرو لیکن اب مابدولت اتنے پھرتیلے تو تھے نہیں کہ دوبارہ شروع کرتے اس لیے اب تمام تر امیدیں خلیل سے باندھ لیں جس کے عمل مکمل ہونے کے چار دن رہ گئے تھے۔

آخر وہ مبارک دن آن پہنچا جب خلیل کے گیارہ دن مکمل ہوگئے تھے۔ اس کی اور میری ملاقات دوپہر کو ہوئی۔ گرمیوں کے دن تھے۔ پورے محلے میں سناٹا تھا اور ہم پیپل کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ خلیل بہت پرجوش تھا اور بار بار کہہ رہا تھا اسے اپنے اندر ایک انوکھی سی قوت کوندتی نظر آرہی ہے۔ میں نے کہا یار مجھے تو تجھ میں کوئی ٹارزن یا رومیو نظر نہیں آرہا ہے لیکن وہ بہت پراعتماد تھا۔

اچانک وہ چیخا "آگئی! "

میرا تو تراہ نکل گیا کہ شاید پیپل پر چڑیل آگئی۔

لیکن پھر میں نے دیکھا کہ خلیل تو بہت پرجوش نظر آرہا ہے اور اس کی آنکھیں چوپٹ کھلی ہوئی تھیں، جب ان کا تعاقب کیا تو معلوم پڑا یہ بدبخت محلے کی انتہائی لڑاکا خاتون کی دختر نیک اختر پھاتاں کو تاڑ رہا تھا جو دوسری گلی کے کونے پر اچانک نمودار ہوئی تھی۔ میں نے فوراً وہاں سے کھسکنا چاہا لیکن خلیل نے میرا بازو پکڑا اور کہا "دیکھا پھر عمل کا کمال۔۔ ابھی تو پھونکا نہں۔۔ "

"یار! رہنے دے۔۔ بعد میں کرلینا عملی مظاہرہ۔۔ " میں گھگھیایا۔

"تورک! پھر دیکھ نظارہ" یہ کہتے ہوئے وہ زیرلب عمل پڑھتا ہوا پھاتاں کی طرف بڑھ گیا۔

میرے دل کی دھڑکن بڑھ چکی تھی۔ خلیل تیزی سے پھاتاں تک پہنچا اور اس سے کچھ کہنے لگا۔۔ مجھ تک تصویر آرہی تھی لیکن آواز نہیں آرہی تھی۔ پھر اچانک خلیل نے اس کے چہرے پر پھونک ماری اور دوسرے لمحے وہ آگے آگے اور پھاتاں پیچھے پیچھے تھی۔

کمال ہوگیا تھا! پھاتاں سچ مچ خلیل کے پیچھے تھی۔ میرا حیرانگی کے مارے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اتنا زبردست اثر۔۔ میں تو شاہ جی کا مرید ہوگیا۔

اتنی دیر میں خلیل اور اس کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتی ہوئی پھاتاں میرے قریب سے گزری اور میں منہ کھولے حیران پریشان ان کے پیچھے پیچھے۔۔ گلیوں کے اختتام پر میدان تھا جس کے ایک طرف گھر تھے جس میں پھاتاں کا گھر بھی شامل تھا اور دوسری طرف بیریوں اور جال وغیرہ کے درخت تھے۔

اچانک خلیل کو ٹھوکر لگی اور وہ دھڑام سے گرگیا۔ اب پھاتاں اس پر سوار اسے نوچ کھسوٹ رہی تھی اور اپنی ماں کو بھی آوازیں دے رہی تھی۔

میں بے اختیار اپنے سر کو کھجانے لگا کہ یہ کیسا پیار ہے کہ اماں کو بھی بلایا جارہا ہے۔۔

اتنے میں بجلی سی کوندی اور پھاتاں کی والدہ ماجدہ چشم زدن میں منظر عام پر آکر خلیل پر ٹوٹ پڑی۔۔

پٹتے ہوئے خلیل کی نظر مجھ پر پڑی تو بولا "بچا لے یار! "

میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ ان لڑاکا اور تگڑی خواتین کو کیسے سنبھالوں کہ میری نظر بیری پر موجود شہد کی مکھیوں کے چھتے پر پڑی۔ میں نے فوراً سے پیشتر ایک پتھر چھتے پر کھینچ مارا۔۔

مکھیوں نے ہم سب پر دھاوا بول ڈالا، خلیل اور میں تیر کی طرح نکل کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

"یار! یہ کیا ہوگیا؟ عمل تو ٹھیک تھا کہ لڑکی تیرے پیچھے تھی لیکن مار کیوں رہی تھی؟" میں نے ایک محفوظ جگہ پر پہنچتے ہی سوال کیا۔

"یار! جب میں نے پھونک ماری تو جلدی میں تھوک کا لوندا نکل کر اس کے منہ پر جاگرا اور باقی تیرے سامنے ہے۔۔ کسی کو بتانا مت یار " خلیل کا ناخنوں سے چھلا ہوا چہرہ اور کھڑے ہوئے بال دیکھ کر میرا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔ خلیل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں دھنس جائے۔۔

پھر میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بہت خلوص سے کہا کہ بے فکر ہوجا! بس یہ بات تیرے میرے درمیان ہی دفن ہوگئی ہے۔ باقی یہ وظیفہ ٹھیک تھا کہ لڑکی پیچھے ہوگی۔ خلیل بدحال نے ہاتھ جوڑے کہ وہ باز آیا۔

اب ہمارے پاس سب سے بڑا ہدف تھا کہ پھاتاں کی ماں کو خلیل کے گھر شکایت لگانے سے روکنا! کیونکہ خلیل کے والد صاحب پوسٹ باکس کی ڈنڈے کے ساتھ ایسی ٹھکائی کرتے تھے کہ بندہ اٹھتے بیٹھتے ہاتھ لگا لگا کر یاد کرتا تھا۔

پھر میرے معصوم ذہن میں ایک منصوبہ آیا اور میں تقریباً خلیل کو کھینچتے ہوئے پھاتاں کے گھر لے گیا۔

گھر پر توقع کے عین مطابق صرف وہ دونوں موجود تھیں اور دروازہ کھٹکھٹانے پر دونوں اپنے سوجے بوتھوں کے ساتھ مزید ڈراؤنی لگتے ہوئے دروازے پر موجود تھیں۔۔

"کیا ہے؟" پھاڑ کھانے والے لہجے میں پوچھا گیا۔

"وہ خلیل معافی مانگ رہا ہے کہ اس کے گھر شکایت نہ لگانا" میں نے انتہائی تمیز سے کہا۔

"اس نے میری چاند جیسی بیٹی (یقین کیجیے چاند اگر نکلا ہوتا تو خود کشی کرلیتا) پر تھوک پھینکا اس کی تو سات نسلوں ******۔۔ "

"ماسی میری بات سن لے پھر بے شک جو چاہے کر لینا" میں بولا۔

"بول" نتھنے پھلا کر (جو پہلے ہی پھیل کر پورے چہرے پر آئے ہوئے تھے) پوچھا۔

"ماشااللہ پھاتاں بہت پیاری لگ رہی تھی تو خلیل نے سوچا کہ پھاتاں بہن (اس جملے پر خلیل نے تو قبض نما چہرہ بنایا سو بنایا پھاتاں کا چہرہ بھی مزید سوج گیا) پر نظر سے بچاؤ کا وظیفہ پھونک آؤں۔۔ بس قسمت خراب کے تھوک نکل آیا۔ خاص طور پر کاواں والی سرکار (پھاتاں کی ماں کاواں والی سرکار کی مریدنی تھی) سے پوچھ کر آئے تھے ہم اس وظیفے کا۔ " یہ کہہ کر میں نے ترکش کا آخری تیر بھی آزما ڈالا۔

پھاتاں کی ماں نے فرط عقیدت سے آنکھیں بند کرتےہوئے کہا "پھاتاں بھائی کو۔۔ "

"خلیل بھائی کو۔۔ " میں فوراً بولا اور کمینی مسکراہٹ کے ساتھ خلیل کو دیکھا (جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے وہیں گالیاں دینی شروع کردے)۔۔

"ہاں وہی! اپنے بھائی خلیل کو پانی کا پوچھ" پھاتاں کی ماں بولی۔

"بس ماسی ہم چلتے ہیں اور اب تو غصہ نہیں ہے نا؟ ہم نے جمعرات کو جانا ہے کاواں والی سرکار کے پاس تو تیرا سلام بول دیں گے۔ " میں نے واپس جاتے ہوئے کہا۔

"ہاں بیٹا بے فکر ہوجا کوئی غصہ نہیں" پھاتاں کی اماں بولی۔

بس دوستو! اس طرح کی عملیات وغیرہ سے دور رہا کریں وگرنہ نتائج کی ذمہ داری خود آپ پر ہوگی۔

Check Also

Chota Gosht

By Javed Ayaz Khan