Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Social Media Daur Mein Talaba Ki Tawajo Kese Behtar Banayen

Social Media Daur Mein Talaba Ki Tawajo Kese Behtar Banayen

سوشل میڈیا دور میں طلبہ کی توجہ کیسے بہتر بنائیں

آج تقریباً ہر استاد ایک ہی شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ طلبہ اب پہلے کی طرح توجہ مرکوز نہیں کرپاتے۔ کلاس روم میں بیٹھے ہوئے طلبہ چند ہی لمحوں میں ادھر ادھر متوجہ ہوجاتے ہیں، پڑھتے ہوئے جلد اکتا جاتے ہیں اور کسی ایک کام پر زیادہ دیر توجہ برقرار رکھنا ان کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ تحقیق بھی اس رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔ جدید زندگی میں مسلسل نوٹیفکیشنز، اسکرینز، سوشل میڈیا اور بیک وقت کئی کام کرنے کی عادت نے انسانی توجہ کو متاثر کیا ہے۔ لیکن اس صورتحال کو صرف ایک بحران سمجھ لینا درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق توجہ کوئی ایسی پیدائشی صلاحیت نہیں جو کچھ لوگوں کے پاس ہو اور کچھ کے پاس نہ ہو، بلکہ یہ ایک ایسی ذہنی مہارت ہے جسے تربیت دے کر بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ توجہ دماغ کی وہ صلاحیت ہے جو انسان کو اپنی ذہنی توانائی کسی ایک بامعنی کام پر مرکوز رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ دماغ ایک وقت میں دو پیچیدہ کاموں کو درست طریقے سے انجام نہیں دے سکتا۔ جب انسان کی توجہ مختلف چیزوں کے درمیان مسلسل تقسیم رہے تو سیکھنے کا عمل کمزور ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلسل اور گہری توجہ یادداشت، فہم اور تجزیاتی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے۔ ماہرین اب زور دے رہے ہیں کہ طلبہ کو صرف مضامین نہ پڑھائے جائیں بلکہ انھیں یہ بھی سکھایا جائے کہ توجہ کیسے کام کرتی ہے اور اسے مضبوط کیسے بنایا جاسکتا ہے۔

بعض اساتذہ طلبہ کو توجہ کی اہمیت سمجھانے کے لیے عملی تجربات کرواتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ویڈیو دکھائی جاتی ہے جس میں طلبہ کو ایک خاص چیز پر نظر رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے، لیکن ویڈیو کے دوران ایک غیرمعمولی منظر آتا ہے جسے بیشتر طلبہ دیکھ ہی نہیں پاتے۔ اس تجربے سے طلبہ کو احساس ہوتا ہے کہ دماغ ہر چیز پر بیک وقت توجہ نہیں دے سکتا۔ یہ احساس انھیں سمجھاتا ہے کہ پڑھائی کے دوران فون استعمال کرنا، چیٹنگ کرنا یا بار بار اسکرین دیکھنا کیوں ان کی سمجھ بوجھ کو متاثر کرتا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ توجہ ایک مسل یعنی "پٹھے" کی طرح ہے۔ اگر اسے باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو یہ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اسی لیے کئی اساتذہ اپنی کلاس کا آغاز چند منٹ کی خاموش اور مرکوز سوچ سے کرتے ہیں۔ طلبہ کو جرنل لکھنے یا کسی سوال پر غور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ شروع میں پانچ منٹ بھی طلبہ کے لیے مشکل محسوس ہوتے ہیں۔ وہ بے چینی سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں یا جلدی ہار مان لیتے ہیں۔ لیکن چند ہفتوں بعد وہ زیادہ سکون اور اعتماد کے ساتھ لکھنے اور سوچنے لگتے ہیں۔ اس سے ان کی توجہ کی قوت رفتہ رفتہ بڑھنے لگتی ہے۔

اسی طرح پومودورو تکنیک بھی توجہ بڑھانے کا مؤثر طریقہ سمجھی جاتی ہے۔ اس میں طلبہ کو مختصر وقت کے لیے پوری توجہ سے کام کرنے کو کہا جاتا ہے، پھر تھوڑا وقفہ دیا جاتا ہے۔ ابتدا میں صرف پانچ یا سات منٹ کی توجہ کافی سمجھی جاتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہ دورانیہ بڑھایا جاتا ہے۔ چند ہفتوں بعد طلبہ پندرہ یا بیس منٹ تک مسلسل توجہ برقرار رکھنے لگتے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب طلبہ اپنی توجہ کی صلاحیت میں اضافہ محسوس کرتے ہیں تو ان کا اعتماد بھی بڑھتا ہے اور ان کی تحریر اور مطالعہ بہتر ہوجاتے ہیں۔

طلبہ کی توجہ بڑھانے میں یہ بات اہم ہے کہ وہ اپنی پیشرفت کو محسوس کرسکیں۔ جب انھیں نظر آتا ہے کہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر سوچ رہے ہیں یا کسی موضوع کو زیادہ گہرائی سے سمجھ رہے ہیں تو ان کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اسی لیے بعض کلاس رومز میں لیونگ وال جیسی سرگرمیاں متعارف کروائی جاتی ہیں جہاں طلبہ اپنے خیالات، دریافتیں اور سوالات لکھ کر لگاتے ہیں۔ اس سے انھیں اپنی ذہنی ترقی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی توجہ زیادہ دیر تک قائم رہتی ہے۔

ڈیجیٹل آلات کے استعمال نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ بہت سے اسکولوں میں فون تو بند کروادیے جاتے ہیں، لیکن کروم بکس اور لیپ ٹاپس کے ذریعے توجہ بٹتی رہتی ہے۔ اس لیے اب اساتذہ طلبہ کو شعوری ڈیجیٹل استعمال سکھانے پر زور دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر گہرے مطالعے یا تحریر کے دوران تمام اضافی ٹیب بند کروادیے جاتے ہیں، نوٹیفکیشنز خاموش کردیے جاتے ہیں اور طلبہ سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ وقت تک صرف ایک کام پر توجہ دیں گے۔ بعض طلبہ ایسی ایپس بھی استعمال کرتے ہیں جو غیرضروری ویب سائٹس کو عارضی طور پر بلاک کردیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق توجہ اس وقت زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب انسان کو اپنے کام کا مقصد سمجھ آئے۔ اگر طلبہ کو یہ احساس دلایا جائے کہ مسلسل توجہ صرف امتحان میں اچھے نمبر لینے کے لیے نہیں بلکہ واضح سوچ، بہتر دلائل اور مؤثر اظہار کے لیے ضروری ہے تو وہ زیادہ سنجیدگی سے کوشش کرتے ہیں۔ بعض اساتذہ کلاس کے آخر میں طلبہ سے پوچھتے ہیں کہ آج ان کی توجہ کب بھٹکی، اسے واپس لانے میں کس چیز نے مدد دی اور انھوں نے کل کے مقابلے میں کیا بہتر کیا۔ اس قسم کی مختصر خود احتسابی طلبہ کا شعور بلند کرتی ہے۔

وقت کے ساتھ ایک اہم تبدیلی سامنے آتی ہے۔ طلبہ صرف بہتر توجہ دینا نہیں سیکھتے بلکہ انھیں اپنی ذہنی صلاحیتوں پر اعتماد حاصل ہونے لگتا ہے۔ جو کام پہلے مشکل اور تھکا دینے والے محسوس ہوتے تھے، وہ نسبتاً آسان لگنے لگتے ہیں۔ ان کی سوچ زیادہ واضح اور منظم ہوجاتی ہے اور وہ مشکل مسائل کے ساتھ زیادہ دیر تک جڑے رہ سکتے ہیں۔

اگر اسکول اور اساتذہ طلبہ کو روزانہ ایسی مشقیں فراہم کریں جو ان کی توجہ بہتر بنائیں تو اس سے نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی زیادہ ثابت قدم، پُراعتماد اور خودمختار ہوسکیں گے۔

Check Also

Dolat Ke Ambar Ya Maliyati Sarab?

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi