Pakistani Jasoos Ne Bharti Sciencedan Se Raz Kese Hasil Kiye?
پاکستانی جاسوس نے بھارتی سائنس دان سے راز کیسے حاصل کیے؟

بھارت کے شہر پونے میں واقع ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ایک انتہائی حساس کمپلیکس میں 10 جون 2022 کو ایک سینئر سائنس داں پردیپ کرولکرکے ذاتی موبائل پر ایک اجنبی فون نمبر سے واٹس ایپ پیغام آیا۔ فون نمبر برطانیہ کا تھا اور پیغام بھیجنے والی نے اپنا نام زارا داس گپتا بتایا۔ اس نے کہا کہ وہ لندن میں رہنے والی ایک نوجوان سافٹ ویئر انجینئر ہے۔
بظاہر یہ ایک عام سا تعارفی پیغام تھا لیکن کرولکرنے چیٹ کرنے میں مضائقہ نہیں سجھا۔ شروع میں گفتگو بالکل عام تھی۔ موسم، لندن، ملازمت اور روزمرہ زندگی کے بارے میں سوال جواب ہوتے رہے۔ پھر دوستانہ گفتگو ہونے لگی جو رفتہ رفتہ رومانوی رنگ اختیار کر گئی۔ لڑکی نے کبھی اپنا چہرہ واضح نہیں دکھایا لیکن کرولکر کو ہوشربا تصاویر بھیجتی رہی۔
پردیپ کرولکر اس وقت ڈی آر ڈی او کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیبلشمنٹ (انجینئرز) کے سربراہ تھے۔ انھیں کئی حساس فوجی منصوبوں تک رسائی حاصل تھی۔ لڑکی نے ان کے کام میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس کے بعد آٹھ ماہ تک جاری رہنے والی گفتگو میں براہموس کروز میزائل، اگنی میزائل، رفال لڑاکا طیارے، میٹیور میزائل، ڈرون پروگرام اور کئی دوسرے حساس دفاعی منصوبوں پر بات ہوتی رہی۔
کرولکر سمجھتے رہے کہ ان کی برطانیہ میں موجود ایک لڑکی سے واقعی دوستی ہوگئی ہے جو بھارت آکر ان سے ملنے والی ہے۔ بعد میں انھوں نے بتایا کہ وہ اس سے سنجیدہ تعلق قائم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن مہاراشٹر اے ٹی ایس کا دعویٰ ہے کہ جس خاتون سے وہ محبت سمجھ کر بات کر رہے تھے، وہ دراصل پاکستانی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے والی آپریٹو تھی۔ یہ ثبوت نہیں ملا کہ انھیں بلیک میل کیا گیا ہو۔ تحقیقاتی ادارے کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے معلومات دیتے رہے۔ خود اس الزام کا فیصلہ ابھی عدالت نے نہیں کیا، لیکن تفتیشی دستاویزات اور چارج شیٹ میں جو گفتگو سامنے آئی ہے، وہ کسی جاسوسی ناول سے کم نہیں۔ اس کی تفصیلات دا پرنٹ انڈیا اور انڈین ایکسپریس نے شائع کی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈی آر ڈی او کے اندر کرولکر کی بعض مشکوک سرگرمیوں کے بعد ادارے نے تحقیقات شروع کر دیں۔ کرولکرکے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات قبضے میں لے لیے گئے۔ اگرچہ انھوں نے بعض واٹس ایپ چیٹس ڈیلیٹ کردی تھیں، لیکن فرانزک ماہرین نے ان میں سے کافی مواد دوبارہ حاصل کرلیا۔ یہی مواد بعد میں چارج شیٹ کا اہم حصہ بنا۔ تحقیقات میں جو چیٹس سامنے آئیں، ان میں سے چند دا پرنٹ نے شائع کی ہیں۔
ایک دن خاتون نے لکھا، براہموس بھی تمھاری ایجاد ہے نا؟ وہ خطرناک والا؟ کرولکرنے جواب دیا، میرے پاس براہموس کے تمام ورژنز کی تقریباً 184 صفحات پر مشتمل ابتدائی ڈیزائن رپورٹ موجود ہے۔
یہ جواب کسی انجینئر کے لیے اپنی کامیابی پر فخر کا اظہار ہوتا، لیکن ایک دفاعی سائنس دان کے لیے یہی وہ لمحہ تھا جسے بعد میں تحقیقاتی اداروں نے اپنے مقدمے کا بنیادی ثبوت قرار دیا۔
اس کے بعد زارا نے ایک اور موضوع چھیڑ دیا۔ اس نے کہا کہ اس نے میٹیور میزائل کے بارے میں پڑھا ہے، جو دنیا کے خطرناک ترین فضائی میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ بھارت واقعی اتنا مہنگا نظام استعمال کرسکتا ہے؟ کیا رفال طیارے فرانسیسی ہیں؟ کرولکرنے جواب دیا کہ یہاں جو طیارے دکھائی دیتے ہیں وہ بھارتی فضائیہ کے ہیں۔
یہ سوال بظاہر عام معلومات سے متعلق تھا، لیکن بھارتی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہی اس ہنی ٹریپ کی خاص حکمت عملی تھی۔ پہلے وہ ایسی معلومات پر گفتگو کرتی تھی جو اخبارات میں موجود تھیں، پھر آہستہ آہستہ سوال حساس منصوبوں کی طرف منتقل ہو جاتے تھے۔ اسی دوران اس نے ایک اور سوال کیا، "اگنی-6 منصوبہ کہاں تک پہنچا؟ کیا تم اس پر بھی کام کر رہے ہو؟" کرولکرنے جواب دیا، ابھی اس میں کچھ وقت باقی ہے۔
اسی طرح اس نے براہموس کی فلپائن کو فروخت کے بارے میں پوچھا تو کرولکرنے مبینہ طور پر بتایا کہ فلپائن مزید آرڈر دے رہا ہے۔ اس نے رفال کے فضائی مظاہرے کے بارے میں بھی سوال کیے اور پوچھا کہ کیا انھوں نے میٹیور میزائل دیکھا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی شائع کردہ چارج شیٹ کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو صرف ان چند منصوبوں تک محدود نہیں رہی۔ اس میں آسترا میزائل، رسٹم، اکاش، ڈرون پروگرام، کواڈ کاپٹر، یو سی اے وی، دفاعی ڈیوٹی چارٹس اور کئی دوسرے منصوبوں کا بھی ذکر آیا۔ ایک چیٹ میں کرولکرنے مبینہ طور پر میزائل لانچر کے بارے میں فخر سے کہا کہ اسے انھوں نے ڈیزائن کیا ہے۔
زارا نے ایک دفاعی نمائش سے متعلق رپورٹ مانگی تو پہلی بار کرولکرنے احتیاط دکھائی۔ انھوں نے جواب دیا، میں یہ رپورٹ واٹس ایپ یا ای میل پر نہیں بھیج سکتا کیونکہ یہ انتہائی خفیہ ہے۔ لیکن جب تم یہاں آؤ گی تو میں تمھیں دکھانے کی کوشش کروں گا۔
یہی وہ جملہ ہے جسے بعد میں استغاثہ نے عدالت میں اپنی اہم دلیل بنایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس جواب سے واضح ہے کہ کرولکر خود جانتے تھے کہ متعلقہ معلومات خفیہ ہیں، اس کے باوجود وہ انھیں دکھانے پر آمادہ تھے۔
اے ٹی ایس کے مطابق کرلکر صرف دفاعی منصوبوں پر بات نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی روزانہ کی مصروفیات بھی بتاتے تھے۔ وہ کب دفتر پہنچے، کس میٹنگ میں جارہے ہیں، کس منصوبے پر کام ہو رہا ہے، حتیٰ کہ بعض ساتھی سائنس دانوں کے نام بھی گفتگو میں آتے رہے۔ چارج شیٹ کے مطابق انھوں نے اپنے ذاتی واٹس ایپ براڈکاسٹ گروپ میں بھی اس پروفائل کو شامل کرلیا تھا۔
پھر ایک اور مرحلہ آیا جسے سائبر سکیورٹی کے ماہرین سب سے خطرناک سمجھتے ہیں۔ زارا نے کہا کہ وہ انھیں ایک ویڈیو بھیجنا چاہتی ہے لیکن اس کے لیے دو اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز انسٹال کرنا ہوں گی۔ کرولکرنے تحقیق کیے بغیر وہ فائلیں اپنے ذاتی فون میں انسٹال کرلیں۔ بعد میں فرانزک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان فائلوں کے ساتھ میل ویئر بھی موجود تھا۔ مزید یہ کہ جن ای میل پتوں سے یہ فائلیں بھیجی گئیں، ان سے وابستہ بعض تکنیکی شواہد اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کا سراغ پاکستان تک جاتا تھا۔
اب کرولکرکے خلاف مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر حساس معلومات ایک مبینہ پاکستانی آپریٹو تک پہنچائیں۔ مقدمے کے انجام سے قطع نظر اس واقعے پر بھارت کا مضحکہ اڑایا جارہا ہے کہ اس کے بڑے سائنس دانوں کو کتنی آسانی سے بے قوف بناکر قیمتی راز حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

