Tuesday, 12 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Kya Abraham Accord Aman Ki Bajaye Jang Ki Bunyad Bane?

Kya Abraham Accord Aman Ki Bajaye Jang Ki Bunyad Bane?

کیا ابراہام اکارڈز امن کے بجائے جنگ کی بنیاد بنے؟

ابراہام اکارڈز کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نوید کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ 2020ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے نمائندوں کے ساتھ تقریب میں اعلان کیا تھا کہ یہ معاہدہ نئے مشرقِ وسطیٰ کی بنیاد بنے گا۔ اس وقت بہت سے تجزیہ کاروں نے بھی اسے عربوں اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ کشیدگی کے خاتمے کی طرف اہم قدم قرار دیا۔ لیکن چند برس بعد منظر نامہ بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ غزہ کی جنگ، ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم، خلیجی ریاستوں پر میزائل حملے اور آبنائے ہرمز کے بحران نے خطے کو مزید غیر مستحکم کردیا ہے۔ خلیجی ملکوں کی فلسطینیوں سے متعلق توقعات بھی پوری نہیں ہوئیں۔

فارن پالیسی میں شائع مضمون How the Abraham Accords Fueled a New Era of Conflict میں ابراہام اکارڈز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق یہ معاہدے امن کے بجائے نئے عسکری اتحاد کی بنیاد بن گئے۔ ان معاہدوں کے بعد اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان فوجی تعاون غیرمعمولی حد تک بڑھا۔ اسرائیل کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرۂ کار میں شامل کیا گیا، مشترکہ میزائل دفاعی نظام قائم کیے گئے اور اسرائیلی اسلحے کی فروخت میں تیزی آگئی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کیے جبکہ مشترکہ بحری اور فضائی مشقیں بھی شروع ہوئیں۔

اس پورے عمل میں ایران کو مشترکہ خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔ امریکی کانگریس نے بھی ایسے قوانین منظور کیے جن کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ایران مخالف دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا تھا۔ یہ تعاون صرف دفاعی نوعیت کا نہیں رہا بلکہ اس نے اسرائیل کو خطے میں زیادہ جارحانہ اقدامات کے لیے اعتماد دیا۔

لیکن اس دوران فلسطینی مسئلہ پس منظر میں چلا گیا۔ ابراہام معاہدوں کے حامیوں کا خیال تھا کہ عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات بہتر ہونے کے بعد فلسطینیوں کے لیے حالات بہتر ہوجائیں گے۔ لیکن عملی طور پر اس کے برعکس ہوا۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا، فلسطینی علاقوں میں تشدد بڑھا اور کئی عرب ممالک نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کی مالی امداد بھی کم کردی۔

فارن پالیسی کے مطابق حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کا مقصد سعودی عرب اور اسرائیل کے ممکنہ تعلقات کو روکنا تھا۔ حماس کو خدشہ تھا کہ اگر سعودی عرب نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرلیے تو فلسطینی مسئلہ عرب سیاست میں اہمیت کھو دے گا۔ بعد کے واقعات نے پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل دیا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست میزائل حملے شروع ہوئے اور خلیجی ممالک اس تنازعے میں غیرارادی طور پر شامل ہوتے گئے۔

اسی پس منظر میں فارن افیئرز کے مضمون The End of the Axis of Abraham میں ایک اور اہم نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق خلیجی ممالک نے ابتدا میں ایران اور اسرائیل کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ امریکا کے ساتھ دفاعی تعلقات چاہتے تھے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی پالیسی بھی اختیار کیے ہوئے تھے۔ مگر 2026 کی جنگ نے اس حکمتِ عملی کو ناکام بنادیا۔

جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، تیل تنصیبات اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہوگئی اور عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی۔ اس صورتحال نے خلیجی ریاستوں کو احساس دلایا کہ اسرائیل کے ساتھ قربت انھیں تحفظ دینے کے بجائے خطرے میں ڈال رہی ہے۔

فارن افئیرز کے مطابق اسرائیل اور امریکا ایک ایسے علاقائی نظام کا تصور رکھتے تھے جس میں اسرائیل کو خطے کی غالب طاقت کے طور پر تسلیم کرلیا جائے۔ لیکن خلیجی ممالک اب اس سوچ سے دور ہٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں، غزہ کی تباہی، لبنان اور شام میں حملے اور ایران کے خلاف جنگ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جارہی ہیں۔ خلیجی ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے نئے راستے تلاش کررہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دوسری ریاستیں ترکی، جنوبی کوریا، یورپ اور حتیٰ کہ چین کے ساتھ بھی دفاعی تعاون بڑھانے پر غور کررہی ہیں۔

ان دونوں مضامین کو ملا کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ابراہام اکارڈز نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بدل دیا۔ اسرائیل نے انھیں اپنی علاقائی حیثیت مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جبکہ خلیجی ممالک نے انھیں اقتصادی اور دفاعی فوائد کے طور پر دیکھا۔ لیکن غزہ کی جنگ اور ایران کے ساتھ تصادم نے واضح کیا کہ خطے میں دیرینہ مسائل حل کیے بغیر کوئی بھی نیا اتحاد پائیدار امن نہیں لاسکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے باوجود اس کی پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ ایران بھی خلیجی ممالک کو مکمل طور پر غیرجانبدار ماننے کے لیے تیار نہیں۔ امریکا اب بھی اسرائیل اور عرب ممالک کے تعاون کو اپنی پالیسی کی کامیابی سمجھتا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے سے زیادہ غیرمستحکم ہوچکا ہے۔

Check Also

Zindagi Aik Mojzati Safar

By Hannan Sher