Bari Ai Companio Ne Wall Street Ka Rukh Kar Liya
بڑی اے آئی کمپنیوں نے وال اسٹریٹ کا رخ کرلیا

جلد وال اسٹریٹ پر ایک ایسی دوڑ شروع ہونے والی ہے جسے ماہرین دو دہائیاں بعد آنے والی سب سے بڑی ٹیکنالوجی لہر قرار دے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر سے وابستہ بڑی نجی کمپنیاں عوامی سرمایہ کاروں کے لیے اپنے دروازے کھولنے والی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام ایلون مسک کی اسپیس ایکس، سام آلٹمین کی اوپن اے آئی اور انتھرپک ہیں۔
یہ تینوں کمپنیاں ابھی تک نجی سرمایہ کاروں کی ملکیت تھیں، لیکن اب ان کے آئی پی اوز کی خبریں مالیاتی دنیا کا موضوع ہیں۔ آئی پی او وہ عمل ہے جس کے ذریعے کوئی نجی کمپنی پہلی شمد اپنے حصص عوام کو فروخت کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کمپنی کے شیئرز اسٹاک مارکیٹ میں خریدے اور بیچے جاسکتے ہیں۔ اس عمل سے کمپنی کو نیا سرمایہ ملتا ہے جبکہ ابتدائی سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری کا کچھ حصہ نقد رقم میں تبدیل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
گزشتہ کئی سال سے شرح سود میں اضافے، معاشی غیر یقینی صورتحال اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی گرتی ہوئی قدروں کی وجہ سے آئی پی او مارکیٹ تقریباً جمود کا شکار تھی۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے غیر معمولی عروج نے حالات بدل دیے ہیں۔ اب سرمایہ کار نئی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔
اس دوڑ میں سب سے نمایاں نام اسپیس ایکس کا ہے۔ ایلون مسک کی یہ کمپنی راکٹ لانچنگ، سیٹلائٹ نیٹ ورک اسٹارلنک اور مستقبل کے خلائی منصوبوں کی وجہ سے پہلے ہی دنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی تقریباً 75 ارب ڈالر اکٹھے کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ اس کی مجموعی مالیت 1750 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تاریخ کے سب سے بڑے آئی پی اوز میں شمار ہوگا۔
اسپیس ایکس کی اہمیت صرف اس کے حجم کی وجہ سے نہیں۔ اگر یہ کمپنی کامیابی سے مارکیٹ میں داخل ہوجاتی ہے تو دنیا کے بڑے انڈیکس فنڈز اور پنشن فنڈز اس کے حصص خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ رائٹرز کے مطابق صرف ایم ایس سی آئی انڈیکس سے وابستہ فنڈز ہی کھربوں ڈالر کے اثاثے سنبھالتے ہیں، اس لیے اسپیس ایکس میں سرمایہ کاری کے لیے بہت سے ادارے اپنے موجودہ شیئرز فروخت کرکے نئی رقم منتقل کریں گے۔
دوسری طرف مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انتھرپک نے سبقت لیتے ہوئے امریکی ریگولیٹرز کے پاس خفیہ طور پر آئی پی او کی دستاویزات جمع کروا دی ہیں۔ انتھرپک دراصل کلاڈ نام کا اے آئی ماڈل تیار کرتی ہے اور اسے اوپن اے آئی کا سب سے بڑا حریف سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عوامی مارکیٹ میں سب سے پہلے پہنچ کر انتھرپک کو اہم نفسیاتی اور مالیاتی برتری حاصل ہوسکتی ہے۔
انتھرپک کی مالیت چند سال پہلے چند ارب ڈالر تھی، لیکن اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی نے اسے دنیا کی قیمتی ترین نجی کمپنیوں میں شامل کردیا ہے۔ اس کی آمدنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور بہت سے ادارے اسے مستقبل کی بنیادی اے آئی کمپنیوں میں شمار کرتے ہیں۔
لیکن سب سے زیادہ توجہ شاید اوپن اے آئی پر رہے ہوگی۔ چیٹ جی پی ٹی کی بدولت اوپن اے آئی دنیا کی معروف ترین اے آئی کمپنی بن چکی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کمپنی اس سال کے آخر تک آئی پی او کے لیے تیار ہوسکتی ہے۔ اگرچہ حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سرمایہ کاروں میں اس کا انتظار شدت سے کیا جارہا ہے۔
اوپن اے آئی کے سامنے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ انتہائی مہنگی ثابت ہورہی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ پاور اور جدید چپس پر اربوں ڈالر خرچ ہورہے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق کمپنی کو آئندہ برسوں میں مزید بہت بڑی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کرنا اس کے لیے پرکشش راستہ بن سکتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسپیس ایکس، انتھرپک اور اوپن اے آئی تینوں مارکیٹ میں آجاتے ہیں تو اتنا سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ پیسہ کسی خزانے سے نہیں نکلے گا بلکہ موجودہ مالیاتی نظام کے اندر ہی منتقل ہوگا۔ پنشن فنڈز، میوچل فنڈز، ہیج فنڈز اور دیگر بڑے سرمایہ کار اپنی موجودہ سرمایہ کاری کا کچھ حصہ فروخت کرکے ان نئی کمپنیوں کے حصص خریدیں گے۔ مثال کے طور پر کوئی فنڈ ایپل، مائیکروسافٹ یا اینویڈیا کے کچھ حصص فروخت کرکے اوپن اے آئی یا اسپیس ایکس میں سرمایہ لگا سکتا ہے۔ اسی لیے بڑے آئی پی اوز کے دوران مارکیٹ میں وقتی اتار چڑھاؤ پیدا ہونا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت اور خلائی ٹیکنالوجی آنے والی دہائیوں میں ویسا ہی کردار ادا کرسکتی ہیں جیسا انٹرنیٹ نے 1990 اور 2000 کی دہائی میں ادا کیا تھا۔ لیکن ناقدین خبردار بھی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کی موجودہ قدریں ان کی موجودہ آمدنی اور منافع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ اسپیس ایکس اب بھی خسارے میں ہے جبکہ اوپن اے آئی اور انتھرپک بھی اپنی تیز رفتار توسیع پر اربوں ڈالر خرچ کررہی ہیں۔ بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے جوش میں ایک نیا "اے آئی ببل" پیدا کررہے ہیں۔
اس کے باوجود حقیقت واضح ہے کہ وال اسٹریٹ کی نظریں اب پرانی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے ہٹ کر نئی نسل کی کمپنیوں پر مرکوز ہوچکی ہیں۔ اگر ان کے آئی پی او کامیاب رہے تو ممکن ہے کہ 2026 کو مستقبل میں اسی طرح یاد رکھا جائے جیسے 1997 سے 2004 کے درمیان انٹرنیٹ کمپنیوں کی مارکیٹ میں آمد کو یاد کیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ اس بار مرکزی کردار ویب سائٹس نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت اور خلائی ٹیکنالوجی ہوں گی۔

