Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Zindagi Zinda Dili Ka Naam Hai

Zindagi Zinda Dili Ka Naam Hai

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

انسان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تب دو سوال اس کے ساتھ چلتے ہیں کہ میں کون ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟ ان دو سوالوں کے درمیان زندگی اور موت کا پورا فلسفہ آباد ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے، سانس لیتا ہے، ہنستا ہے، روتا ہے، محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ یہی سفر زندگی کہلاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا زندگی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟ کیا موت کو شکست دی جا سکتی ہے؟ کیا انسان اپنے مقررہ وقت سے آگے بھی جی سکتا ہے یا زندگی ایک لکھی ہوئی تقدیر ہے جس کے آگے سب سر جھکا دیتے ہیں؟

زندگی دراصل صرف سانس لینے کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر زندہ جسم خوش نصیب کہلاتا۔ زندگی شعور کا نام ہے، احساس کا نام ہے اور مقصد کا نام ہے۔ ایک درخت بھی زندہ ہے، ایک پرندہ بھی زندہ ہے مگر انسان کی زندگی اس لیے منفرد ہے کہ اس کے پاس سوچنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ارسطو نے کہا تھا: " انسان ایک سماجی حیوان ہے" مگر اسی انسان کی اصل پہچان اس کا شعور ہے۔ یہی شعور اسے زندگی کے معنی تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے: "ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے"۔ یہ آیت زندگی اور موت دونوں کی حقیقت کو ایک ہی لمحے میں واضح کر دیتی ہے۔ زندگی عارضی ہے اور موت یقینی۔ اس عارضی زندگی کی اہمیت اسی لیے ہے کہ یہ امتحان کے نکتہ نظر سے تشکیل دی گئی ہے۔ انسان کو وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال سے اپنی منزل کا تعین کرے۔ گویا زندگی ایک قرض ہے اور موت اس قرض کی واپسی۔

زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ یہ سوال فلسفے اور سائنس دونوں کے لیے اہم رہا ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ اللہ نے آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور اپنی روح پھونکی۔ یہ انسانی زندگی کا آغاز ہے۔ اس کے برعکس سائنس ارتقا کی بات کرتی ہے اور کہتی ہے کہ زندگی پانی سے شروع ہوئی اور لاکھوں برس کے سفر کے بعد موجودہ شکل تک پہنچی۔ دونوں زاویوں میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر ایک حقیقت مُشترک ہے کہ زندگی ایک عظیم راز ہے۔ انسان جتنا اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی حیران رہ جاتا ہے۔

زندگی کو وقت کے تابع کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب شاید اسی امتحان میں پوشیدہ ہے۔ اگر زندگی لامحدود ہوتی تو کوشش کا مفہوم ختم ہو جاتا۔ وقت انسان کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ سورج کا ڈھلنا یاد دلاتا ہے کہ فرصت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ بقول شاعر:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

وقت ہی زندگی کو ترتیب دیتا ہے۔ بچپن بہار کی طرح آتا ہے، جوانی گرمی کی شدت رکھتی ہے، بڑھاپا خزاں کی صورت اُترتا ہے پھر موت سرد رات کی طرح خاموشی سے دروازہ کھٹکھٹا دیتی ہے۔

زندگی اچھی کیوں لگتی ہے؟ اس کا جواب اُمید میں ہے۔ اُمید وہ چراغ ہے جو اندھیرے میں بھی جلتا رہتا ہے۔ انسان ہزار دُکھوں کے باوجود اگلے دن کے سورج کا انتظار کرتا ہے۔ ماں بیمار بچے کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بہتر کل کی دُعا کرتی ہے۔ مزدور پسینہ بہا کر آنے والے سکون کا خواب دیکھتا ہے۔ طالب علم ناکامی کے باوجود کامیابی کی اُمید نہیں چھوڑتا۔ یہی اُمید زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔

یاس اس کے برعکس انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اُمید اور نااُمیدی کے درمیان کامیابی اور ناکامی کا فرق چھپا ہوتا ہے۔ جو شخص گِر کر اُٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہے وہ زندہ ہے اور جو جیتے جی ہار مان لے وہ سانس لیتے ہوئے بھی مُردہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: "نااُمیدی کفر کے قریب (کے قریب لے جاتی) ہے۔ اس لیے زندگی کا پہلا اصول اُمید ہے"۔

موت کا خوف زندگی کو کمزور کیوں کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان انجانے سے ڈرتا ہے۔ موت ایک ایسا دروازہ ہے جس کے پار کا منظر آنکھ نے نہیں دیکھا۔ اسی لیے انسان اس سے گھبراتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت سے خوف نہیں بلکہ غفلت سے خوف ہونا چاہیے۔ اگر انسان جان لے کہ موت انجام نہیں بلکہ ایک نئی ابتدا ہے تو اس کا خوف کم ہو سکتا ہے۔ صوفیا نے موت کو وصال کہا ہے یعنی اصل محبوب سے ملاقات۔

بعض لوگ موت کے خوف میں جینا بھول جاتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ خطرہ دیکھتے ہیں اور ہر خوشی میں انجام کا سایہ تلاش کرتے ہیں۔ ایسا شخص دریا کے کنارے کھڑا رہتا ہے مگر پانی میں اُترنے کی ہمت نہیں کرتا۔ حالانکہ زندگی بہتے پانی کی طرح ہے۔ جو بہاؤ سے ڈرتا ہے وہ پیاسا رہ جاتا ہے۔

کیا زندگی موت کو شکست دے سکتی ہے؟ ظاہری طور پر جواب نہیں ہے کیونکہ ہر انسان نے مرنا ہے۔ بڑے بڑے بادشاہ خالی ہاتھ گئے۔ سکندر اعظم نے دُنیا فتح کی مگر موت سے نہ بچ سکا۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ معنوی طور پر زندگی موت کو شکست دیتی ہے۔ ایک اچھا انسان اپنے کردار سے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ علم دینے والا اُستاد اپنے شاگردوں میں زندہ رہتا ہے۔ شاعر اپنے اشعار میں زندہ رہتا ہے۔ ماں اپنی تربیت میں زندہ رہتی ہے۔ یہی اصل فتح ہے۔

اقبال نے کہا تھا:

نشان مرد مومن با تو گویم
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست

ترجمہ: مومن کی پہچان یہ ہے کہ جب موت آئے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ ہو۔

اب سوال آتا ہے کہ کیا زندگی کا وقت بڑھایا جا سکتا ہے؟ طب کی ترقی نے انسان کی اوسط عمر میں اضافہ ضرور کیا ہے۔ پہلے جو بیماریاں موت کا فوری سبب بنتی تھیں آج ان کا علاج موجود ہے۔ بہتر غذا، صاف پانی، ورزش اور علاج انسان کی عمر کو بڑھاتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں بھی آیا ہے: "صلہ رحمی عمر میں برکت کا سبب بنتی ہے"۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تقدیر بدل جاتی ہے بلکہ زندگی میں خیر اور وسعت پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگ کم عمر میں بھی صدیوں کا کام کر جاتے ہیں اور بعض لمبی عمر پا کر بھی خالی ہاتھ رہتے ہیں۔

اصل سوال عمر کی طوالت کا نہیں بلکہ زندگی کی وسعت کا ہے۔ اگر کسی نے چالیس برس میں انسانیت کے لیے روشنی پیدا کی تو وہ اسّی برس جینے والے غافل انسان سے بہتر ہے۔ شمع کی عمر کم ہوتی ہے مگر وہ جل کر محفل روشن کر دیتی ہے۔

کیا زندگی ایک جیسی نہیں ہو سکتی؟ جواب یقیناً نہیں۔ ہر انسان کا راستہ الگ ہے۔ کسی کے نصیب میں بہار زیادہ ہے کسی کے حصے میں خزاں۔ کوئی محل میں پیدا ہوتا ہے کوئی جھونپڑی میں۔ کوئی محبت پا لیتا ہے کوئی عمر بھر تلاش میں رہتا ہے۔ یہی تفاوت زندگی کو معنی دیتی ہے۔ اگر سب کچھ ایک جیسا ہوتا تو نہ جِدوجُہد رہتی نہ شُکر کا احساس۔

زندگی کا تعلق جسم اور روح سے کیوں ہے؟ اس لیے کہ جسم بغیر روح کے مٹی ہے اور روح بغیر جسم کے اس دُنیا میں سروائیو نہیں کر سکتی۔ جسم سواری ہے اور روح مسافر۔ اگر سواری موجود ہو اور مسافر نہ ہو تو سفر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر مسافر موجود ہو مگر سواری نہ ہو تو دُنیاوی راستہ طے نہیں ہوتا۔ اسی لیے اسلام جسم اور روح دونوں کی تربیت پر زور دیتا ہے۔ صرف جسم کی آسائش انسان کو مکمل نہیں کرتی، اس راہ میں روحانی دعوے بھی کافی نہیں۔

زندگی کو جینے کا اصل فلسفہ توازن ہے نہ کہ دُنیا سے ایسی محبت کہ آخرت بُھلا دی جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے سکھایا: "بہترین انسان وہ ہے جو اپنے لیے بھی اچھا ہو اور دوسروں کے لیے بھی"۔ زندگی کا حُسن خدمت میں ہے۔ جو شخص صرف اپنے لیے جیتا ہے وہ آخرکار تنہا رہ جاتا ہے۔

ایک کہاوت ہے: "خالی برتن زیادہ آواز کرتا ہے"۔ اسی طرح وہ زندگی جو مقصد سے خالی ہو شور تو بہت کرتی ہے مگر معنی نہیں رکھتی۔ اصل کامیابی سکون ہے۔ اگر دولت ہو مگر نیند نہ ہو تو وہ غربت سے بدتر ہے۔ اگر شُہرت ہو مگر دل بے چین ہو تو وہ شکست سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔

زندگی اور موت کا باہمی تعلق سایہ اور روشنی جیسا ہے۔ اگر موت نہ ہو تو زندگی کی قدر ختم ہو جائے۔ اگر رات نہ آئے تو دن کی خوبصورتی محسوس نہ ہو۔ موت زندگی کی دُشمن نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ یہ وہ آخری سطر ہے جس کے بغیر پوری کتاب ادھوری رہتی ہے۔

مولانا روم نے کہا تھا: "میں مرا نہیں بلکہ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوا ہوں"۔ یہ انتقال ہی اصل زندگی کا عکس ہے۔ موت فنا نہیں بلکہ سفر کا اگلا پڑاؤ ہے۔ جو اس راز کو سمجھ لیتا ہے وہ زندگی کو زیادہ سنجیدگی اور زیادہ محبت سے جیتا ہے۔

اس مفصل تمہید کا محاکمہ یہ ہے کہ زندگی کو صرف برسوں سے نہیں ناپنا چاہیے بلکہ اس روشنی سے ناپنا چاہیے جو ہم دوسروں کے دلوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ موت کو شکست دینا جسمانی بقا نہیں بلکہ نیک نامی اور احسنِ تقویم کا عملی نمونہ ہے۔

زندگی بڑھائی جا سکتی ہے اگر ہم اسے معنی دیں، اگر ہم اُمید کو تھامیں۔ اگر ہم خوف کی بجائے یقین کو اختیار کریں۔

زندگی ایک جلتا ہوا چراغ ہے۔ ہوا کا کام اسے بُجھانا ہے مگر چراغ کا کام جلتے رہنا۔ انسان بھی اسی چراغ کی مانند ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے سال جیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے حصے کی روشنی کتنی پھیلائی۔ یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے۔ بہ حیثیت انسان ہمیں اسی فلسفے کی پاسداری کرنی چاہیے۔ بقولِ شاعر:

زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مُردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

Check Also

Zindagi Zinda Dili Ka Naam Hai

By Mohsin Khalid Mohsin