Thursday, 09 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Social Media Par Fake News Ke Muasharti Asraat

Social Media Par Fake News Ke Muasharti Asraat

سوشل میڈیا پر فیک نیوز کے معاشرتی اثرات

اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو غیر محسوس حد تک سہل بنا دیا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک ہر طبقہ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، انسٹا وغیرہ جیسے پلیٹ فارمز سے وابستہ ہے۔ اس سہولت نے فیک نیوز، افواہوں اور گمراہ کُن مواد کو بھی نہ صرف فروغ دیا ہے بلکہ اسے ایک طاقتور معاشرتی قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان جیسے مُتنوع اور حسّاس معاشرے میں جہاں سیاست، مذہب، ثقافت اور طبقاتی تشدد جیسے موضوعات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں وہاں فیک نیوز نے ان تمام رجحانات کو منفی سَمت میں تقویت دی ہے۔

فیک نیوز کے باعث نہ صرف سماجی ذہنیت میں ارتقا کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں بلکہ جنسی تلذذ، پورنوگرافی، بے راہ روی نوجوانوں میں بڑھ گئی ہے نیز مذہبی اور سیاسی تقسیم سے حکومتی غفلت واضح ہوئی ہے۔ بھارت، امریکہ یا یورپ جیسے معاشروں کے تجربات سے موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں فیک نیوز کے اثرات کی شدت اور نوعیت مختلف بنیادوں پر ملکی تانے بانے کو متاثر کر رہی ہے۔

پاکستانی سماج کی ذہنیت تاریخی طور پر روایات اور رشتوں کے گرد گھری ہوئی ہے۔ یہاں حقائق کے مقابلے میں کہانیوں، روایتی عقائد اور ذاتی تاثر کو زیادہ وزن دیا جاتا رہا ہے۔ اس ذہنیت نے سوشل میڈیا کے منفی مواد کے لیے ایک زرخیز ماحول پیدا کیا ہے۔ فیک نیوز اکثر جذباتی، سنسنی اور غیر منطقی محاذوں پر حملہ کرتی ہے جس سے صارفین کا ردِعمل فوری، جارحانہ اور غیر رسمی ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ کسی مذہبی رہنما یا مذہبی جماعت کے خلاف جھوٹی ویڈیو یا خبروں نے نہ صرف اس کے حامیوں کو مشتعل کیا بلکہ مخالفین کے ردِعمل نے سماجی تقسیم میں اضافہ بھی کیا۔ ایسے ردِعمل کا عمومی رُجحان جذباتی، غیر متوازن اور منفی ہوتا ہے کیونکہ فیک نیوز براہِ راست لوگوں کے خوف، نفرت اور تاثر پر حملہ کرتی ہے۔

فیک نیوز کا جنسی تلذذ اور پورنوگرافی سے براہِ راست تعلق وہ پہلو ہے جس پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں جنسی تعلیم پر کھلے ذہن کے ساتھ شفاف مباحثے کا فقدان ہے وہاں نوجوان بے راہ روی اور غلط معلومات کا شکار ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد نہ صرف آسانی سے دستیاب ہے بلکہ فیک اکاؤنٹس اور گروپس اسے خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچاتے ہیں تاکہ لائکس، شیئرز اور فالوورز حاصل کیے جا سکیں۔ اس پورنوگرافک اور جنسی مواد کا اثر نوجوانوں کی سوچ، تعلقات اور جنسی رویوں پر منفی طور پر پڑتا ہے۔ نوجوانوں میں خواہشات کی عدم نگرانی، غیر حقیقی اور فحش کلپس سے متاثر ہونے والی توقعات اور صِنفی احترام میں کمی کا رُجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

سیاست اور مذہب، پاکستان میں دو انتہائی حسّاس موضوعات ہیں جن پر فیک نیوز کا اثر خوفناک حد تک غالب ہے۔ مذہبی اور سیاسی تنازعات میں فیک نیوز کا استعمال خاص طور پر سازشی نظریات، نفرت انگیز بیانات اور جھوٹے دعووں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ خدانخواستہ اگر کسی واقعے پر غلط معلومات پھیلائی جائے تو اس کے نتیجے میں فسادات، احتجاجات، فرقہ وارانہ کشیدگی اور برادریوں کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی سیاسی رہنما یا مذہبی اسکالر کے بارے میں گمراہ کُن بیان یا مواد نے ماضی میں نہ صرف بحث کو ذاتی سطح پر منتقل کیا بلکہ سماجی اتحاد کو بھی نقصان پہنچایا۔

علاوہ ازیں فرقہ ورانہ تقسیم اور ذاتی مفادات کی بنا پر فیک نیوز کے پھیلاؤ میں اضافہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سیاسی جماعتیں، کاروباری گروپس اور ذاتی مقاصد کے حامل افراد جان بوجھ کر منفی اطلاعات اور جھوٹے دعووں کو پھیلاتے ہیں تاکہ مخالفین کو نقصان پہنچائیں یا اپنے مفادات کو فروغ دیں۔ اس کے نتیجے میں عوام میں عدم اعتماد، بے چینی اور نفرت کی فضا قائم ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایسی مثالیں معمول بن چکی ہیں جہاں سیاسی مخالفین یا مذہبی ہم خیال گروپس نے سوشل میڈیا پر من گھڑت واقعات، جھوٹی ویڈیوز اور گمراہ کُن پیغامات کے ذریعے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے۔

نوجوانوں کی بے راہ روی ایک اور سنگین موضوع ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کے فعال صارفین میں شامل ہے۔ تعلیم، روزگار اور مثبت مشغولیات کی کمی نوجوانوں کو فیک نیوز، دھوکہ دہی اور غیر اخلاقی مواد کی طرف راغب کرتی ہے۔ غیر ضروری بحثوں، تضادات اور مخالف خیالات کی جنگوں میں مبتلا نوجوان اپنے وقت کا بڑا حصہ سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں جس سے ان کی ذہنی اور معاشرتی صحت متاثر ہوتی ہے۔ عالمی تجزئیے جیسا کہ Pew Research یا دیگر تنظیموں کی رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو محدود کرنے کے لیے موثر تعلیم اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ مغربی ممالک میں میڈیا لٹریسی اور ذہنی صحت کے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو معلومات کی جانچ اور معقولیت سکھائی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے اقدامات بہت محدود ہیں۔

حکومتی غفلت اور لاقانونیت کا مسئلہ بھی تشویشناک ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کی نگرانی، اخلاقی حدود اور فیک نیوز کے خلاف واضح قوانین کا فقدان ہے۔ اگرچہ بعض اوقات حکومت کی طرف سے بلاکنگ یا پابندیوں کی کوششیں کی جاتی ہیں، تاہم فیک نیوز پھیلا کر نقصان پہنچانے والے عناصر کو کسی بھی قسم کی قانونی سختی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ عالمی سطح پر جیسا کہ یورپی یونین میں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ یا امریکہ میں فیک نیوز کے خلاف بھرپور مخالفت ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ یہی حال پاکستان کا بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی حکومت تاحال ناکام ہے۔

فیک نیوز کے معاشرتی نقصانات کئی جہتوں پر واضح ہیں۔ سب سے پہلے اس نے عوام میں سچ اور جھوٹ کی تمیز کو مبہم کیا یعنی صارفین بغیر تصدیق کے معلومات کو قبول کرتے ہیں پھر آگے پھیلاتے ہیں جس سے جھوٹی خبریں سچ کی طرح مقبول ہوتی ہیں۔ دوسرا، سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے۔ مذہبی، کاروباری اور سیاسی گروپس ایک دوسرے پر شُبہات اور نفرت کی فضا قائم کرتے ہیں۔ تیسرا، نوجوانوں کی نفسیاتی اور اخلاقی کیفیت متاثر ہوتی ہے جس سے مشکوک رویے اور بے راہ روی کے رجحانات میں اضافہ ہوتا ہے۔ چہارم، قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں کیونکہ فیک نیوز بعض اوقات ریاستی اداروں اور عوامی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ سب سے پہلے میڈیا لٹریسی کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ طلباء اور نوجوان سوشل میڈیا کے منفی اثرات، فیک نیوز کی شناخت اور اس کے ردِعمل کے بارے میں آگاہ ہوں۔ ثانیاً، حکومت کو شفاف، موثر اور مستقل قوانین بنانے ہوں گے جو سوشل میڈیا کمپنیوں، پلیٹ فارمز اور صارفین کے لیے واضح اخلاقی اور قانونی حدود طے کریں۔ تیسرا، معاشرتی اداروں، این جی اوز اور مذہبی رہنماؤں کو حسّاس موضوعات پر عوامی مباحثے اور معلوماتی پروگرام شروع کرنے چاہئیں تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں اور عوام میں مثبت، حقائق پر مبنی مکالمہ فروغ پائے۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو مقامی زبانوں میں محتاط پیمانے پر مواد کی تصدیق اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی تجربات جیسے Google اور Facebook کی fact-checking partnerships سے معلوم ہوتا ہے کہ گمراہ کن مواد کے خلاف تیز ردِعمل اور عوامی تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی مقامی fact-checking اداروں کو مضبوط کیا جائے تاکہ وہ معاشرتی اور ثقافتی حسّاسیت کے تناظر میں فیک نیوز کو بے نقاب کر سکیں۔

آخر میں صارفین خود بھی ذمہ دار رویہ اپنائیں۔ ہر فرد کو ہر پیغام، ویڈیو یا خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے ماخذ، تناظر اور سچائی کی جانچ کرنی چاہیے۔ ذاتی مفادات، سنسنی اور جذباتی ردِعمل کی بجائے حقائق کی تلاش کو اولین ترجیح دینا ہی ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔

فیک نیوز صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے، تاہم پاکستان میں اس کے اثرات خاص طور پر حسّاس اور گہرے ہیں۔ اس کا سدِ باب تبھی ممکن ہے جب معاشرہ، حکومت اور عالمی بیانیے کے تجربات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نہ صرف قوانین بنائے جائیں بلکہ عوامی شعور اور اخلاقی اقدار کو بھی مضبوط کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ایک مستحکم، باخبر اور متحد سماج کی تشکیل کر سکتے ہیں۔

Check Also

Scrolling Ka Nasha Aur Maflooj Hota Insani Dimagh

By Syed Badar Saeed