Pakistan Mein Angrezi Ka Tasallut Kyun Barqarar Hai?
پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

پاکستان میں انگریزی زبان محض ایک زبان نہیں بلکہ طاقت، اختیار، روزگار اور سماجی برتری کی علامت بن چکی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں لوگ اپنی مادری زبانوں میں سوچتے ہیں لیکن کامیابی کا دروازہ انگریزی کے نام سے کھلتا ہے، وہاں زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ طبقاتی تقسیم کی دیوار بن جاتی ہے۔ آج کا پاکستانی بچہ جب سکول میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے سب سے بڑی حقیقت یہی رکھی جاتی ہے کہ اگر وہ انگریزی نہیں سیکھ سکا تو ترقی کے کئی راستے اس پر بند رہیں گے۔ یہ احساس پوری قوم کے ذہن میں احساسِ کمتری اور ذہنی غلامی کو جنم دیتا ہے۔
برطانوی استعمار نے برصغیر میں انگریزی کو اقتدار کی زبان بنایا تھا۔ آزادی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اپنی قومی زبان اُردو اور علاقائی زبانوں کو ترقی دے گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ ریاستی اداروں، عدالتوں، بیوروکریسی اور اعلیٰ تعلیم میں انگریزی کو وہی حیثیت حاصل رہی جو نوآبادیاتی دور میں تھی۔ ماہر لسانیات Ngũgĩ wa Thiong'o نے کہا تھا: "جب کسی قوم سے اس کی زبان چھین لی جائے تو اس کی سوچ بھی غلام بن جاتی ہے"۔ پاکستان میں یہ صورتحال مختلف انداز میں دکھائی دیتی ہے۔
پاکستانی نوجوانوں کو انگریزی سیکھنے میں سب سے بڑی مشکل تعلیمی عدم مساوات کا سامنا ہے۔ ایک طرف مہنگے نجی سکول ہیں جہاں بچہ شروع سے انگریزی ماحول میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور دوسری طرف سرکاری سکول ہیں جہاں انگریزی ایک خوف کی صورت میں پڑھائی جاتی ہے۔ برٹش کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق" پاکستان میں انگریزی سیکھنے کا معیار شہری اور دیہی علاقوں میں خاصا فرق رکھتا ہے نیزسرکاری سکولوں کے طلبہ کو بنیادی لسانی سہولتیں بھی دستیاب نہیں"۔
پاکستانی سماج میں مڈل اور تھرڈ کلاس طبقے کو عملاً انگریزی سے دور رکھا جاتا ہے۔ اگر ہر شخص انگریزی سیکھ لے تو نوکریوں اور ریاستی اداروں تک رسائی زیادہ ہوجائے گی۔ حکمران طبقہ اس فرق سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ بیوروکریسی، عدلیہ، کارپوریٹ سیکٹر اور اعلیٰ سرکاری عہدوں میں انگریزی کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ عام آدمی خود کو غیر متعلق محسوس کرے۔ یوں زبان ایک غیر مرئی دیوار بن جاتی ہے۔ پاکستانی سماج میں انگریزی جاننے والا شخص ذہین، مہذب اور قابل تصور کیا جاتا ہے جبکہ مادری زبان بولنے والے کو کمتر، جاہل، پینڈو اور نالائق سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ صرف لسانی نہیں بلکہ نفسیاتی اور طبقاتی مسئلہ بھی ہے۔
حکمران طبقہ انگریزی کے ذریعے عالمی معیشت اور اقتدار کے مراکز سے وابستہ رہتا ہے۔ بیرون ملک تعلیم، سفارتی روابط اور بین الاقوامی تجارت میں انگریزی یقیناً اہم ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں انگریزی کو مہارت کی بجائے برتری کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور یونیسکو کی متعدد رپورٹس اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے کیونکہ بچہ اپنی زبان میں بہتر سیکھتا اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان، چائنہ، فرانس وغیرہ نے اپنی زبان میں علم پیدا کیا۔ ان ممالک نے انگریزی سیکھی مگر اپنی زبان کو انگریزی پر قربان نہیں کیا۔
پاکستان میں اردو کے بارے میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ یہ سائنس اور جدید تعلیم کے لیے ناکافی ہے حالانکہ زبان خود کمزور نہیں ہوتی بلکہ اسے کمزور بنایا جاتا ہے۔ اُردو میں ادب، شاعری، صحافت، فلسفہ اور تنقید کی ایک صحت مند روایت موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے اردو میں سائنسی اور تحقیقی مواد پیدا کرنے پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔ اگر جاپانی اور چینی زبانیں جدید سائنس کا بوجھ اُٹھا سکتی ہیں تو اُردو کیوں نہیں۔ زبانیں اپنی ساخت سے نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات سے ترقی کرتی ہیں۔
اسی طرح پنجابی کو پاکستان میں عجیب تضاد کا سامنا ہے۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن پنجابی بولنے والے اپنی مادری زبان بولنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ گھروں میں پنجابی بولی جاتی ہے مگر سکول اور دفتروں میں اسے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ بابا فرید، بلھے شاہ، وارث شاہ اور میاں محمد بخش جیسے عظیم شعرا نے اسی زبان میں فکری اور روحانی ادب تخلیق کیا۔ پنجابی کو مردود قرار دینے کے پیچھے وہی نوآبادیاتی ذہنیت کام کرتی ہے جو مقامی زبانوں کو دیہاتی اور غیر مہذب سمجھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے پنجاب میں پنجابی زبان کو تعلیمی اور ثقافتی سطح پر زیادہ قبولیت حاصل ہے جبکہ پاکستانی پنجاب میں اس کی حیثیت روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
ماہر تعلیم Paulo Freire کا خیال تھا: "تعلیم ذہن کو تبھی آزاد کرتی ہے جب وہ انسان کی اپنی زبان اور تجربے سے ہم آہنگ ہو"۔ پاکستان میں تعلیم رٹہ اور نقل کا شکار ہوچکی ہے کیونکہ بچہ ایسی زبان میں سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو اس کی اپنی نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم اردو میں مکمل مہارت حاصل کرپاتا ہے اور نہ انگریزی میں۔
اکیسویں صدی میں پاکستانی قوم ایک لسانی بحران کے درمیان کھڑی ہے۔ ایک طرف نوجوان عالمی دُنیا سے منسلک ہونے کے لیے انگریزی سیکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اپنی مادری زبانوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس بحران کو مزید واضح کیا ہے جہاں لوگ آدھی اردو آدھی انگریزی بولتے اور لکھتے ہیں۔ زبان کا یہ امتزاج فطری عمل ہوسکتا ہے تاہم جب اپنی زبان میں اعتماد ختم ہوجائے تو تہذیبی شناخت یقیناً کمزور ہوگی۔
پاکستان کو ایسی لسانی پالیسی کی ضرورت ہے جہاں انگریزی کو مہارت کے طور پر سکھایا جائے نہ کہ برتری کی علامت کے طور پر۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ اردو کو علمی اور تحقیقی زبان بنایا جائے۔ میرا ذاتی احساس یہ ہےکہ علاقائی زبانوں کو ثقافتی ورثہ سمجھنے کی بجائے عملی زندگی میں جگہ دی جائے۔ ایک صحت مند معاشرہ ہمیشہ اپنی مادری اور علاقائی زبانوں پر فخر کرتا ہے اور دوسری زبانوں سے علم حاصل کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔
زبان انسان کی روح کا لباس ہوتی ہے۔ جو قوم اپنی زبان سے شرمندہ ہوجائے وہ آہستہ آہستہ اپنی تاریخ، ثقافت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انگریزی سیکھی جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا اپنی زبانوں کو قربان کیے بغیر ترقی ممکن ہے۔ تاریخ گواہ ہے، ترقی وہی قومیں کرتی ہیں جو اپنی مٹی کی خوشبو کو اپنے علم اور شعور کے ساتھ بغل گیررکھتی ہیں۔

