Tuesday, 07 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Mulki Taraqi Mein Ijtimai Soch Ka Kirdar

Mulki Taraqi Mein Ijtimai Soch Ka Kirdar

ملکی ترقی میں اجتماعی سوچ کا کردار

دُنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعور سے بنتی اور بگڑتی ہیں۔ زمین، سونا، تیل، مضبوط فوج، سخت گیر عدلیہ، فعال خارجہ پالیسی اور کثیر زرمبادلہ یقیناً ریاستی طاقت کے اہم ستون ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان ستونوں کو قائم کون رکھتا ہے؟ ان کی سَمت کا تعین کون کرتا ہے؟ اس کا جواب قوم کی اجتماعی سوچ ہے۔ اگر اجتماعی فکر مثبت، تخلیقی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہو تو کم وسائل کے باوجود بھی ملک ترقی کی منازل طے کر لیتا ہے اور اگر سوچ منفی، انتشار پسند اور بداعتمادی سے معمور ہو تو وسائل کی فراوانی بھی زوال کو نہیں روک سکتی۔

معروف ماہرِ معاشیات Douglass North نے اپنی کتاب Institutions، Institutional Change and Economic Performance میں واضح کیا کہ "ادارے دراصل انسانی رویّوں اور اجتماعی اقدار کا مظہر ہوتے ہیں"۔ اگر معاشرے میں دیانت، قانون کی پاسداری اور اعتماد کا کلچر موجود ہو تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور مضبوط ادارے معاشی ترقی کو دوام بخشتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اجتماعی سوچ بدعنوانی کو معمول سمجھ لے تو بہترین آئین اور قوانین کاغذی ردی کے سِوا کچھ نہیں ہوتے۔

اسی طرح Francis Fukuyama نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب Trust: The Social Virtues and the Creation of Prosperity میں لکھا کہ "جن معاشروں میں باہمی اعتماد زیادہ ہوتا ہے، وہاں کاروباری لاگت کم اور معاشی رفتار تیز ہوتی ہے"۔ اعتماد ایک غیر مرئی سرمایہ ہے جو نہ بینک میں دکھائی دیتا ہے اور نہ خزانے میں، اس کے باوجود یہی سرمایہ صنعت، تجارت اور سماجی استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔ جاپان اور جرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کھنڈرات سے اُٹھ کر ترقی کی شاہراہ اختیار کی۔ ان کے پاس ابتدا میں نہ وسائل کی فراوانی تھی اور نہ زرمبادلہ کے بڑے ذخائر، مگر اجتماعی نظم و ضبط اور قومی یکجہتی نے انہیں دوبارہ عالمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ اس کے برعکس قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک بھی بدانتظامی اور منفی اجتماعی ذہنیت کے باعث پیچھے رہ گئے۔

ماہرین اسے "وسائل کی لعنت" کہتے ہیں۔ جب قوم کی سوچ یہ بن جائے کہ دولت خود بخود خوش حالی لے آئے گی تو محنت، تحقیق اور اختراع کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ صرف معدنیات کے ذخائر یا تیل کے کنویں ترقی کی ضمانت نہیں ہوسکتے جب تک کہ اجتماعی سطح پر شفافیت، منصوبہ بندی اور طویل المدتی وژن موجود نہ ہو۔

Max Weber نے The Protestant Ethic and the Spirit of Capitalism میں یہ مؤقف پیش کیا کہ مخصوص اخلاقی اقدار اور کام کے تئیں سنجیدگی نے مغرب میں سرمایہ دارانہ ترقی کو جنم دیا۔ ویبر کے مطابق "معاشی ڈھانچے سے زیادہ اہم وہ ذہنیت ہے جو محنت، وقت کی پابندی اور دیانت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے"۔ اس نظریے پر اختلاف بھی ہوا مگر اس سے ایک بات واضح ہوئی کہ ترقی صرف معاشی اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ تہذیبی و فکری رویوں کا نتیجہ ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا مضبوط فوج، سخت گیر عدلیہ اور بے رحم انتظامیہ ترقی کی ضمانت ہیں؟ ریاستی طاقت یقیناً استحکام فراہم کرتی ہے۔ قانون کی عمل داری اور قومی سلامتی کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں۔ اگر طاقت کا استعمال انصاف اور اخلاقی اُصولوں سے عاری ہو تو خوف تو پیدا ہو سکتا ہے، اعتماد نہیں۔ خوف جُزوقتی نظم پیدا کرتا ہے جبکہ اعتماد پائیدار ترقی کا پیشرو ہے۔ اسی لیے جدید ریاستوں میں طاقت اور اخلاقی جواز کو ایک جیسی اہمیت دی جاتی ہے۔

بین الاقوامی بیانیہ بھی یہی بتاتا ہے کہ انسانی ترقی کا اشاریہ صرف فی کس آمدنی سے متعین نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے انسانی ترقی کو تعلیم، صحت اور معیارِ زندگی کے پیمانوں سے متصل کیا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اجتماعی سوچ جو تعلیم کو اہمیت دے، خواتین کو بااختیار بنائے اور تنوع کو قبول کرے، وہ زیادہ مستحکم ترقی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ اس کے برعکس تعصب، فرقہ واریت اور لسانی تقسیم پر مبنی ذہنیت قومی توانائی کو اندرونی کشمکش کے خلجان میں ضائع کر دیتی ہے۔

Amartya Sen نے اپنی کتاب Development as Freedom میں لکھا کہ "ترقی کا اصل مقصد انسانی آزادی میں اضافہ ہے۔ اگر معاشرہ خوف، جبر اور محرومی میں جکڑا ہو تو بلند شرحِ نمو بھی حقیقی ترقی نہیں کہلا سکتی"۔ سین کے مطابق "تعلیم، اظہارِ رائے کی آزادی اور سماجی انصاف وہ عناصر ہیں جو قوم کو باوقار بناتے ہیں"۔ یہ سب عناصر اجتماعی سوچ سے متصل ہیں۔

تہذیب و تمدن اور ثقافت کی ترجمانی بھی محض ادبی یا جمالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔ جو قوم اپنی ثقافتی شناخت پر فخر کرتی ہے، اسے مثبت انداز میں دُنیا کے سامنے پیش کرتی ہے وہ سافٹ پاور حاصل کرتی ہے۔ جنوبی کوریا کی ثقافتی صنعت اس کی مثال ہے جہاں موسیقی، فلم اور ٹیکنالوجی نے مل کر قومی معیشت کو تقویت دی۔ یہ سب اس وقت ممکن ہوا جب اجتماعی طور پر تعلیم، تحقیق اور قومی وقار کو ترجیح دی گئی۔

اس کے مقابلے میں اگر قوم کی اجتماعی سوچ، قنوطی زاویے، سازشی نظریات اور مستقل شکایتی ذہنیت پر مبنی ہو تو وہاں وسائل کا انبوہ بھی بے اثر ٹھہرتا ہے۔ منفی ذہنیت اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرتی ہے، ٹیکس چوری کو معمول بناتی ہے اور اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دیتی ہے۔ نتیجتاً ریاستی ڈھانچہ کمزور اور ترقی کا عمل سُست پڑ جاتا ہے۔

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ صرف اخلاقیات کافی ہیں اور وسائل غیر اہم ہیں۔ محفوظ گردشی دولت، مضبوط معیشت، مؤثر خارجہ پالیسی اور دفاعی صلاحیت ہر ریاست کی ضرورت ہیں۔ مگر یہ سب ترقی کے زینے ہوسکتے ہیں، مقصد نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان اوزاروں کو کس سَمت میں استعمال کیا جائے۔ اگر اجتماعی سوچ، قومی مفاد، شفافیت اور انصاف پر مبنی ہو تو وسائل نعمت بن جاتے ہیں اور اگر سوچ ذاتی مفاد اور گروہی تعصب پر منتج ہو تو یہی وسائل فساد کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس طویل تمہید سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ترقی ایک ہمہ جہت عمل ہے جس میں مادی اور غیر مادی دونوں عناصر شامل ہیں۔ مگر بنیاد ہمیشہ اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ اتحاد، اتفاق، بھائی چارہ، اعلیٰ انسانی اقدار اور مثبت تہذیبی رویے وہ زمین تیار کرتے ہیں جس میں معاشی پالیسیاں پھلتی پھولتی ہیں۔ مضبوط فوج اور مستحکم خارجہ پالیسی اس درخت کی حفاظت کرتی ہیں مگر اس کی جڑیں اجتماعی سوچ میں پیوست ہوتی ہیں۔

قومیں پہلے اپنے ذہنوں میں پنپتی ہیں پھر زمین پر جنم لیتی ہیں۔ اگر ہم اپنی اجتماعی فکر کو دیانت، علم دوستی اور باہمی احترام کی بنیاد پر اُستوار کر لیں تو وسائل خود راستہ بنا لیں گے۔ میر ایہ ماننا ہے کہ اگر ذہن منتشر اور نیتیں متضاد ہوں تو سونے کی کانیں بھی خوش حالی کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ ملکی ترقی کا اصل سرمایہ انسان ہے اور انسان کی اصل طاقت اس کی اجتماعی سوچ ہے جسے ایک سَمت پر گامزن کرنا کسی ملک کی ترقی کے لیےناگزیر ہے۔

Check Also

Iran Jang Ki Mansooba Bandi Aur Muslim Dunya

By Muhammad Irfan Nadeem