Thursday, 02 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Main Nazmein Kyun Likhta Hoon?

Main Nazmein Kyun Likhta Hoon?

میں نظمیں کیوں لکھتا ہوں؟

یہ سوال اکثر دوست مجھ سے کرتے ہیں اور میں جواب میں کہتا ہوں: "شاعری میرے لیے صرف الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ یہ زندگی کا ایک ایسا تجربہ ہے جو میرے شعور اور احساسات سے پیدا ہوتا ہے"۔ میری چار شعری تصانیف ہیں: "کچھ کہنا ہے، دھند میں لپٹی شام، ت لاش" اور "محبت معاہدہ" نہیں ہے۔ ان مجموعوں میں زیادہ تر کلام آزاد اور نثری نظموں پر مشتمل ہے۔ میں نے شعری روایت کے دائرے سے نکل کر انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو روایتی اوزان سے آزاد اور غیر رسمی انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

میں نظمیں اس لیے لکھتا ہوں کیونکہ نظم میرے لیے خیال اور تجربے کی آمد کا ذریعہ ہے۔ جب میں کسی لمحے یا جذبے کے بارے میں سوچتا ہوں تو یہ کسی ایک جملے یا عبارت میں نہیں رہتا، بلکہ یہ خیال ایک مکمل بہاؤ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور نظم ہی وہ ڈھانچہ ہے جو اسے مکمل طور پر ظاہر کر سکتا ہے۔ باقی شعری اصناف جیسے غزل یا پابند نظم میں شاعر کو زبان کے قواعد اور ساخت کی پابندی کرنی پڑتی ہے اور یہ اکثر تجربے کی اصل شدت کو کم کر دیتا ہے۔ میں بطور شاعر اس بات کا قائل ہوں کہ انسانی زندگی بہت پُرسرار اور پیچیدہ ہےاور حادثات و سانحات جو روزمرہ ہمارے سامنے آتے ہیں وہ صرف نثری یا آزاد نظم کے سانچے میں اُسی طرح ڈھل سکتے ہیں جیسے وہ حقیقت میں ہماری زندگی میں پیش آتے ہیں۔

میرے شعری مجموعے اس بات کے شاہد ہیں۔ مثال کے طور پر "دھند میں لپٹی شام" میں میں نے انسانی جذبات، خوف، تنہائی اور خواہشات کو ایک آزاد بہاؤ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوئی قاعدہ، کوئی پابندی نہیں، بس خیال کے بہاؤ کو کاغذ پر منتقل کیا ہے۔ اسی طرح "ت لاش" میں میں نے زندگی کے ایسے لمحے پیش کیے ہیں جو عام نظر آتے ہیں مگر ان کے اندر چھپی گہرائی کو محسوس کرنا صرف نظم کے ذریعے ممکن ہے۔ ہر نظم ایک تجربہ ہے، ایک منظر ہے اور قارئین کو وہ لمحہ جینے کا موقع دیتا ہے۔

اس مجموعے میں میں نے انسانی نفسیاتی پیچیدگیوں اور معاشرتی تضادات کو منظرِ عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔ آزاد نظم کے ذریعے میں نے اس بات کو ممکن بنایا کہ قاری نہ صرف پڑھے بلکہ محسوس بھی کرے۔ نظم میں ہر لفظ، ہر وقفہ، ہر مصرعہ اس سوچ کا حصہ ہے جو انسانی زندگی کے غیر یقینی اور پُر اسرار پہلو کو بیان کرتی ہے۔ اسی طرح "محبت معاہدہ نہیں" میں میں نے تعلقات، محبت اور جدائی کے موضوعات پر نثری نظموں کے ذریعے بات کی ہےجہاں ہر نظم ایک چھوٹا سا تجربہ یا لمحہ ہے جو براہِ راست قارئین کے دل تک پہنچتا ہے۔

میں نظمیں اس لیے لکھتا ہوں کیونکہ وہ زندگی کے بہاؤ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ جب میں کسی واقعے، کسی حادثے، کسی ملاقات یا کسی جذباتی لمحے کے بارے میں سوچتا ہوں تو وہ خیال سیدھے سبھاؤ کسی اور عروضی صنف میں بیان نہیں ہوتا۔ اس خیال کو اظہار دینے کے لیے نظم کا آزاد اور نثری ڈھانچہ سب سے موزوں ہے۔ آزاد نظم میں نہ قافیہ ہوتا ہے، نہ مخصوص ردیف، نہ کوئی عروضی پابندی، بس خیال اور احساس کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی شاعری کا زیادہ تر حصہ آزاد اور نثری نظموں پر مرکوز رکھا ہے۔

ایک شاعر کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تجربات کو فطری انداز میں لکھے جیسا کہ وہ زندگی میں گزرتے ہیں۔ کوئی تصنع، کوئی بناوٹ، کسی اور شعری صنف میں موزوں ہو تو اس میں تفصیل، ترتیب اور منطق غالب آ جائے گی اور خیال و تجربی کی اصل شدت کہیں کھو جائے گی۔ لیکن جب میں اس خیال اور تجربہ کو نثری نظم یا آزاد نظم کے سانچے میں ڈھالتا ہوں تو وہ اپنے اصل احساس اور کیفیت کے ساتھ قاری کے سامنے آتا ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جس کی وجہ سے میں نظم لکھتا ہوں اور اسی کیفیت کے لیے میں آزاد شاعری کو باقی اصناف پر ترجیح دیتا ہوں۔

نظم میرے لیے صرف لکھنے کا عمل نہیں بلکہ ایک طرح کی زندگی گزارنے کی صورت بھی ہے۔ ہر نظم میں میں اپنے تجربات، خیالات اور احساسات کو پرکھتا ہوں، انہیں نئے رنگ اور آہنگ دیتا ہوں اور انہیں ایک ایسی شکل دیتا ہوں جو قاری کے ذہن اور دل میں اتر سکے۔ آزاد نظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر لمحے، ہر جذباتی کیفیت، ہر انسانی حادثے کو اس کی اصل شدت کے ساتھ پیش کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری چاروں کتابوں کا زیادہ تر کلام آزاد اور نثری نظموں پر مشتمل ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میں نظم اس لیے لکھتا ہوں کیونکہ یہ میرے وجود کا حصہ ہے۔ یہ میرے خیال، میری سوچ اور میرے تجربات کا آئینہ ہے۔ نظم کے بغیر میرا تجربہ ادھورا ہے اور میری زندگی کے وہ لمحے جو سب سے زیادہ معنی رکھتے ہیں وہ صرف نظم کے ذریعے ہی مکمل ہو پاتے ہیں۔ میں نے اپنی شاعری میں یہی کوشش کی ہے کہ ہر نظم ایک چھوٹا سا جہان بنے، ایک چھوٹا سا تجربہ جو قاری کے دل میں اتر سکے اور اسے زندگی کے اس پُرسرار پہلو سے روشناس کرائے جسے ہم روزانہ محسوس کرتے ہیں مگر بیان نہیں کر پاتے۔

یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی شاعری کا زیادہ تر حصہ آزاد اور نثری نظموں پر مرکوز رکھا اور یہ انتظام اس لیے ہے کہ میں نظم کے فطری بہاؤ کو توڑنا نہیں چاہتا۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ نظم لکھنا میرے لیے صرف ایک پیشہ یا مشغلہ نہیں بلکہ یہ میری زندگی کا حصہ ہے۔ ہر نظم میں میرا خیال، میرا احساس اور میرا تجربہ زندہ ہوتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ تجربہ قاری تک پہنچے، اسے محسوس ہو اور وہ بھی اپنی زندگی میں اس کا عکس دیکھ سکے۔ یہی میرا مقدمہ۔

Check Also

Nasri Nazm Ke Aham Shayar: Mohsin Khalid Mohsin

By Dr. Uzma Noreen