Kya Jore Asmano Par Bante Hain?
کیا جوڑے آسمان پر بنتے ہیں؟

یہ سوال صدیوں سے انسانی ذہن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ برصغیر کے معاشرے میں یہ ایک مقبولِ خیال یا مِتھ کے طور پر رائج ہے کہ ہر انسان کا جیون ساتھی پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے اور یہ فیصلہ زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہو چکا ہوتا ہے۔ اس تصور میں ایک طرح کا سکون بھی ہے اور ایک طرح کی بے بسی بھی کیونکہ اگر سب کچھ پہلے سے طے ہے تو انسان کی اپنی کوشش اور انتخاب کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔
یہ متھ کسی ایک فرد کی تخلیق نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی تہذیبی روایت کا نتیجہ ہے۔ برصغیر میں صوفیانہ فکر اور داستانی ادب نے اس خیال کو بہت تقویت دی۔ صوفیاء کرام نے تقدیر اور رضا کے تصور کو عام کیا جس میں یہ خیال شامل تھا کہ انسان کی زندگی کے اہم فیصلے پہلے سے لکھے جا چکے ہیں۔ دوسری طرف لوک داستانوں اور قصوں میں بھی محبوب اور محبوبہ کی تقدیر کو آسمانی فیصلے سے جوڑا گیا جیسے ہیر رانجھا، سسی پنوں اور لیلیٰ مجنوں کی کہانیاں۔ ان قصوں نے عوامی ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ محبت اور شادی محض انسانی انتخاب نہیں بلکہ ایک مقدر ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ شادی ایک سماجی معاہدہ ہے، جس میں انسانی شعور، فیصلہ سازی اور ذمہ داری بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ مذہب تقدیر پر ایمان کی تعلیم دیتا ہے مگر وہ انسان کو اختیار اور عقل کے استعمال کا بھی حکم دیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ حالات اور مواقع انسان کے سامنے آتے ہیں مگر فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔
شادی کے لیے بہترین انتخاب کا معیار صرف ایک پہلو پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک جامع عمل ہے۔ سب سے پہلے کردار اور اخلاق کو دیکھا جانا چاہیے، ایک ایسا فرد جو سچائی، امانت داری اور احترام کا قائل ہو وہ ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد ذہنی ہم آہنگی اہم ہے، دونوں افراد کے خیالات، زندگی کے مقاصد اور ترجیحات میں کسی حد تک مطابقت ہونی چاہیے۔
تعلیم کا کردار بھی اہم ہے مگر صرف ڈگری نہیں بلکہ شعور اور سمجھ بوجھ زیادہ اہم ہے۔
اچھا رشتہ وہ ہے جس میں اعتماد، عزت اور برداشت موجود ہو جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی کمزوریوں کو سمجھیں اور انہیں قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جہاں اختلاف ہو مگر مخالفت کا پہلو نہ ہو اور جہاں محبت صرف الفاظ تک محدود نہ ہو بلکہ عمل میں نظر آئے۔
پاکستانی سماج میں اچھے رشتے نہ ملنے کی شکایت عام ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ غیر حقیقی توقعات ہیں۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر معیار قائم کر لیتے ہیں اور پھر مایوس ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ معاشی دباؤ ہے۔ آج کے دور میں شادی کو ایک مہنگا منصوبہ بنا دیا گیا ہے، جس میں جہیز اور نمود و نمائش نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔
دولت کا اس معاملے میں خاصا اثر ہے۔ اکثر خاندان مالی حیثیت کو سب سے پہلے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے اچھے کردار کے حامل افراد نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ معاشی استحکام ضروری ہے مگر اسے واحد معیار بنا دینا رشتوں کو سطحی بنا دیتا ہے۔
مذہب اس معاملے میں واضح راہنمائی دیتا ہے۔ اسلام میں نکاح کو آسان بنانے کی تلقین کی گئی ہے اور معیار کے طور پر دین اور اخلاق کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو" اس فرمان میں واضح پیغام ہے کہ اصل اہمیت کردار کی ہے نہ کہ دولت یا ظاہری حیثیت کی۔
معاشرے کے رسم و رواج اس معاملے میں گہرا اثر رکھتے ہیں۔ بہت سی رسومات ایسی ہیں جو دین کا حصہ نہیں مگر انہیں لازمی سمجھ لیا گیا ہے۔ جیسے مہنگے جہیز کی روایت یا شادی کی تقریبات میں غیر ضروری اخراجات۔ یہ سب چیزیں نہ صرف مالی بوجھ بڑھاتی ہیں بلکہ اچھے رشتوں میں رکاوٹ بھی بنتی ہیں۔
رشتوں کی ناکامی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ سب سے اہم وجہ توقعات کا غیر متوازن ہونا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے غیر حقیقی اُمیدیں وابستہ کرتے ہیں تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ دوسری وجہ بات چیت کی کمی ہے، جب مسائل کو دبایا جاتا ہے تو وہ بڑھ جاتے ہیں۔ تیسری وجہ برداشت کا فقدان ہے۔ آج کل لوگ جلدی ہار مان لیتے ہیں اور رشتہ نبھانے کے بجائے اسے ختم کرنا آسان سمجھتے ہیں۔
رشتہ کرتے وقت کئی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے خاندان کے ماحول کو دیکھیں کہ وہاں احترام اور سکون ہے یا نہیں پھر فرد کی عادات اور مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جلد بازی سے بچیں اور تحقیق کریں اس کے دوستوں اور سماجی دائرے کو دیکھیں کیونکہ انسان اپنے ماحول کا عکس ہوتا ہے۔
بچوں کی عمر اور تعلیم بھی اہم ہے۔ عمر میں مناسب فرق ہونا چاہیے تاکہ ذہنی ہم آہنگی قائم رہے۔ تعلیم ایسی ہو جو شعور اور سمجھ بوجھ پیدا کرے نہ کہ صرف ظاہری حیثیت بڑھائے۔ گھریلو ماحول میں اگر لڑائی جھگڑا یا عدم استحکام ہو تو اس کا اثر فرد کی شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔
ذات پات، رنگ اور نسل کو ہمارے معاشرے میں غیر ضروری اہمیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ سب چیزیں انسانی قدر کا معیار نہیں ہیں۔ ایک انسان کی اصل پہچان اس کا کردار اور عمل ہے۔ اگرچہ ثقافتی ہم آہنگی بعض اوقات آسانی پیدا کرتی ہے مگر اسے حتمی شرط بنا دینا درست نہیں۔
برادری سسٹم بھی ایک اہم عُنصر ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ خاندان ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہیں مگر اس کا نقصان یہ ہے کہ یہ دائرہ محدود کر دیتا ہے اور بہت سے اچھے رشتے صرف اس وجہ سے نظر انداز ہو جاتے ہیں کہ وہ برادری سے باہر ہوتے ہیں۔
مختصر یہ کہ جوڑے آسمان پر نہیں بلکہ زمین پر انسانوں کے فیصلوں سے بنتے ہیں۔ تقدیر کا اپنا مقام ہے مگر عقل اور اختیار بھی اہم ہیں۔ اگر ہم اپنے معیار کو حقیقت پسندانہ بنائیں، دین کی تعلیمات کو اپنائیں اور معاشرتی دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلہ کریں تو نہ صرف اچھے رشتے مل سکتے ہیں اور برسوں کامیابی سے چل سکتے ہیں۔

