Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Beroon e Mulk Mulazmat Ki Surat e Haal

Beroon e Mulk Mulazmat Ki Surat e Haal

بیرونِ ملک ملازمت کی صورتحال

پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے جہاں ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت ان سب کو روزگار فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستان کو اگلے دس برسوں میں تقریباً 25 سے 30 ملین نئی نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، بصورت دیگر بے روزگاری اور ہجرت میں اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت آج صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت بن چکی ہے۔

پاکستان میں روزگار کی صورتحال کئی حوالوں سے پیچیدہ ہے۔ ایک طرف صنعتی ترقی کی رفتار سُست ہے تو دوسری طرف آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مناسب ملازمت سے محروم ہے جبکہ ہنر مند افراد کو بھی ان کی مہارت کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا۔ علاؤہ ازیں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بھی بہت کم ہے جو معاشی امکانات کو مزید محدود کرتی ہے۔

ان حالات میں بیرونِ ملک ملازمت ایک مضبوط متبادل ذریعہ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 7 لاکھ 62 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے۔ اسی طرح 2025 کے پہلے چھے ماہ میں ہی 3 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد بیرون ملک ملازمت حاصل کر چکے تھے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ بیرون ملک روزگار کا رُجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

بیرونِ ملک ملازمت کی سب سے بڑی اہمیت اس کے معاشی فوائد میں ہے۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا بنتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 2025-26 کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان کو 13 ارب ڈالر سے زائد ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

مجموعی طور پر 2025 میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے تقریباً 40 ارب ڈالر وطن بھیجےجو ملکی زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ بیرون ملک ملازمت کے مواقع مختلف شعبوں میں موجود ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں تعمیرات، ڈرائیونگ، سکیورٹی اور سروس سیکٹر میں بڑی تعداد میں پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ یورپ میں صحت، آئی ٹی، زراعت اور ہاسپیٹیلٹی کے شعبے نمایاں ہیں۔ حالیہ برسوں میں اٹلی، بیلاروس اور دیگر ممالک کے ساتھ لیبر معاہدے بھی کیے گئے ہیں، جس سے نئی راہیں کھلی ہیں۔

یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ بیرونِ ملک ملازمت صرف غیر تعلیم یافتہ افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ اب ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور اساتذہ بھی بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 4 ہزار ڈاکٹرز بیرون ملک چلے گئے، جو ایک تشویشناک رُجحان ہے۔

بیرون ملک جانے کے حوالے سے ایک خطرناک پہلو غیر قانونی ہجرت بھی ہے۔ بہت سے لوگ جلد پیسہ کمانے کے لالچ میں غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں جن میں انسانی اسمگلنگ، جعلی ویزے اور غیر مُستند ایجنٹس شامل ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف اپنی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اکثر بیرونِ ملک جیل، جرمانے اور ڈیپورٹیشن جیسی سختیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ کئی واقعات میں سمندر کے راستے جانے والے افراد اپنی جان سے بھی ہاتھ دُھو بیٹھتے ہیں۔

ایجنٹس کا کردار اس معاملے میں انتہائی اہم ہے۔ بدقسمتی سے بہت سے ایجنٹس فراڈ میں ملوث ہوتے ہیں۔ وہ لاکھوں روپے وصول کرکے جعلی نوکریاں یا ویزے فراہم کرتے ہیں۔ حکومت نے کئی ایجنٹس کے لائسنس منسوخ بھی کیے ہیں، اس کے باوجود دُھوکہ دہی کے واقعات جاری ہیں۔

بیرونِ ملک جانے کی خواہش کی ایک بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود آمدنی ہے۔ جب ایک عام مزدور یا تعلیم یافتہ نوجوان دیکھتا ہے کہ بیرون ملک اسے کئی گنا زیادہ تنخواہ مل سکتی ہے تو وہ خطرات کے باوجود اس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک ملازمت کو اب ایک "معاشی حکمت عملی" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم اس رجحان کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں، جن میں سب سے بڑا "برین ڈرین" ہے۔ جب قابل اور تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ دیتے ہیں تو ملکی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، موجودہ حالات میں بیرونِ ملک ملازمت کو مکمل طور پر منفی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ لاکھوں خاندانوں کے لیے سہارا بنی ہوئی ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بیرونِ ملک ملازمت پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے۔ یہ نہ صرف بے روزگاری کم کرتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو سہارا بھی دیتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت قانونی راستوں کو آسان بنائے، ہنر مند افرادی قوت تیار کرے اور عوام میں آگاہی پیدا کرے تاکہ وہ غیر قانونی ذرائع سے بچ سکیں۔ اسی صورت میں بیرونِ ملک ملازمت ایک محفوظ، باعزت اور فائدہ مند راستہ بن سکتی ہے۔

Check Also

Mann Chalay Ka Raj?

By Shahid Nasim Chaudhry