Friday, 03 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Bachon Ko Mobile Phone Se Kaise Bachayen?

Bachon Ko Mobile Phone Se Kaise Bachayen?

بچوں کو موبائل سے کیسے بچائیں؟

پاکستان میں موبائل فون نہ صرف بالغوں بلکہ بچوں کی زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ سکول جانے والے چھوٹے بچے خود کو موبائل کے بغیر تفریح یا علم کے ذرائع تک محدود محسوس کرتے ہیں۔ والدین، خصوصاً مائیں اکثر بچوں کی موبائل استعمال کی لت کے حوالے سے پریشان رہتی ہیں۔ مائیں اپنی محبت، بے غرضی اور روزمرہ کی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کی حد سے زیادہ موبائل استعمال کو کنٹرول نہیں کر پاتیں۔ اس مسئلے کے نفسیاتی پہلو بھی بہت اہم ہیں کیونکہ بچوں کی ذہنی نشوونما، اعصابی نظام اور شخصیت پر موبائل کا اثر نہایت سنگین ہو سکتا ہے۔

چھوٹے بچے خصوصاً 5 تا 12 سال کی عمر میں اپنی توجہ مرکوز رکھنے، سماجی تعلقات بنانے اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ موبائل فون کے طویل استعمال سے ان کی توجہ کم ہو جاتی ہے۔ ان کی یادداشت متاثر ہوتی ہے اور اکثر بچے ذہنی دباؤ یا اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں بعض والدین بچوں کو موبائل اس لیے دیتے ہیں تاکہ وہ خاموش رہیں اور وہ اپنے کام میں مصروف رہیں لیکن یہ عادت بچوں میں لت پیدا کر دیتی ہے۔ مائیں بچوں کی خوشی اور مصروفیت کے لیے موبائل استعمال کی اجازت دیتی ہیں مگر اس کے نتائج نقصان دہ ہوتے ہیں۔

نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل کا حد سے زیادہ استعمال بچوں میں ڈپریشن، انزائٹی، نیند کی کمی اور خود اعتمادی کی کمی جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ بچے جب حقیقی دُنیا کی سرگرمیوں سے زیادہ سکرین کی دُنیا میں وقت گزارتے ہیں تو ان کے اعصابی نظام میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ مثال کے طور پر سکرین کی روشنی دماغ میں "میلانن" کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے جس سے نیند کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بچے کا دماغ کھیل، بات چیت اور عملی تجربات کے بغیر صرف موبائل کے لیے تربیت پاتا ہے جو کہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے۔

بین الاقوامی تجربات بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں میں موبائل اور سکرین کے استعمال کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ یورپی ممالک اور امریکہ میں بچوں کے موبائل استعمال کے لیے سخت اُصول موجود ہیں۔ مثال کے طور پر فن لینڈ اور سویڈن میں 7 سال سے چھوٹے بچوں کے لیے سکرین ٹائم محدود ہے اور والدین کی نگرانی لازمی قرار دی گئی ہے۔ امریکہ میں 6 تا 12 سال کے بچوں کے لیے ایک گھنٹہ روزانہ سے زیادہ سکرین ٹائم نہیں دیا جاتا جبکہ پاکستان میں کئی بچے دن بھر موبائل استعمال کرتے ہیں۔ برطانیہ میں سکول اور گھریلو سطح پر بچوں کی ڈیجیٹل صحت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ سکرین کے مقابلے میں جسمانی سرگرمیوں، مطالعہ اور سماجی میل جول کو ترجیح دے سکیں۔

پاکستان میں اس حوالے سے زیادہ بیداری کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں والدین اور سکول دونوں کا کردار اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے موبائل استعمال کے قواعد طے کریں جیسے کھانے کے وقت موبائل کا استعمال ممنوع ہو، سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل بند کر دیا جائے نیز بچوں کے لیے موبائل کے متبادل تفریحی سرگرمیاں فراہم کی جائیں جیسے کتابیں، کھیل یا تخلیقی مشغلے۔ والدین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی مصروفیت میں بھی بچوں کے ساتھ وقت گزاریں تاکہ بچے والدین کی موجودگی کو محسوس کریں اور حقیقی دُنیا کی سرگرمیوں میں دلچسپی لے سکیں۔

موبائل کی لت سے نجات کے لیے والدین اور ماہرین کو مل کر موبائل کے استعمال کی حد مقرر کرنی چاہیے۔ بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ موبائل ایک ذریعہ معلومات ہے، کھیلنے یا وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ماں اور باپ اپنے بچوں کے ساتھ موبائل کا استعمال محدود کریں تاکہ بچوں کے لیے مثال قائم ہو۔ پاکستان میں اکثر والدین خود بھی موبائل کی لت میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے بچے یہ عادت آسانی سے اپنالیتے ہیں۔

نفسیاتی طور پر بچوں کی عمر اور مزاج کے مطابق موبائل استعمال کی حد طے کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اگر چھوٹے بچوں کو دن میں ایک سے دو گھنٹے سے زیادہ سکرین ٹائم دیا جائے تو ان میں توجہ کی کمی، عدم تحمل اور بعض اوقات جارحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ بچے کے دماغ کو حقیقی دُنیا کے تجربات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ جذباتی اور سماجی لحاظ سے صحت مند بن سکیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے صحت مند ڈیجیٹل عادات پیدا کریں۔ اس میں وقت کے ساتھ سکرین فری ڈے رکھنا، موبائل کے بجائے بورڈ گیمز یا کہانی سنانے کا رواج ڈالنا اور بچوں کے دوستوں کے ساتھ سماجی رابطوں کو فروغ دینا شامل ہے۔ سکولوں میں بھی اس حوالے سے پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں تاکہ بچوں کو موبائل کے نقصانات اور سکرین ٹائم کے متبادل سرگرمیوں کی تربیت دی جا سکے۔

بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے کہ موبائل اور ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو محدود کیا جائے۔ والدین خاص طور پر مائیں بچوں سے وابستگی سے ہٹ کر خود پر جبر کرکے بچوں کے لیے موبائل استعمال کے اوقات اور حدود طے کریں تاکہ وہ مستقبل میں ذہنی، اعصابی اور سماجی طور پر صحت مند شہری بن سکیں۔

پاکستان میں عملی مثال کی یہ روایت ابھی کمزور ہے تاہم شعور پرورش پارہا ہے۔ اگر والدین، سکول اور معاشرہ مل کر اس مسئلے پر توجہ دیں تو بچوں کو موبائل کی لت سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ ہماری تھوڑی سے محنت اور توجہ اور سختی سے بچے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ غفلت اور لاپروائی سے ایک بچہ خراب نہیں ہوگا بلکہ پورا معاشرہ اس خرابی کاذمہ دار ہوگا۔

Check Also

Bachon Ko Mobile Phone Se Kaise Bachayen?

By Mohsin Khalid Mohsin