Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Raat Aur Khamoshi

Raat Aur Khamoshi

رات اور خاموشی

خدا جانے رات پہ ایسی کیا گزری ہوگی جس کے کرب سے یہ ہمیشہ سے خاموش رہتی ہے۔ مجھے رات کا یوں اپنے ہونٹ سینا نہایت برا لگتا ہے اور کبھی کبھار اس پہ ترس بھی آتا ہے کہ شاید اسے بھی کوئی سننے والا چاہئے جسے وہ حال دل سنا سکے۔ لیکن ہر کسی کا حال دل سننے کے لیے اتنے سننے والے بھی انسان کہاں سے ڈھونڈ کے لائے۔ اتنے سننے والے میسر ہوتے تو سائکاٹرسٹ کو سیشن کی فیس دے کر سنانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ چلو خیر ہے اب رات کی کہانی کون سنے گا یہاں تو ہر چوتھے پانچویں شخص کے پاس سنانے کے لئے کوئی نہ کوئی ان کہی دردناک کہانی ہے اور اسے سننے کے لئے سائکاٹرسٹ تو بہت دور کی بات ہے، عام انسان مل جائے تو بھی غنیمت ہے۔

یہ انسان ایک دوسرے کو کیوں نہیں ملتے، ایک دوسرے کو کیوں نہیں سنتے، یہ انسان ایک دوسرے سے اتنا دور کیوں ہورہے ہیں؟

انسان خلا میں تو نہیں رہ رہے ہیں جو انہیں ایک دوسرے کی آہیں سنائی نہیں دیتی اور نہ انسان میتھس کے پیرلل لائنز ہیں جو نہ ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں اور نہ کبھی حال دل سناسکتے ہیں۔ انسانوں کی یہ دوری ان کی اپنی بے حسی ہے اور یہ بے حسی شاید ٹیکنالوجی اور سائنس کی عطا ہے، ہم اپنے آبا واجداد سے بہت سارے حوالوں میں ممتاز سہی لیکن ہمارے ایک دوسرے سے دور ہونے سے نہ جانے کیوں کمتری کا احساس ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا جیسے ہم پری زاد ہوں اور احساس کمتری ہماری ہم زاد ہوں۔ وہ کھلی فضا میں انسانوں کے ساتھ سانس لیتے تھے اور ہم سکرین کی سلاخوں کے پیچھے اکیلے بیٹھ کے روشن دان سے آنے والی آدھی آدھوری ہوا پہ گزارا کرتے ہیں۔ ہم خود کو برتر سمجھتے ہیں لیکن کسی سے برتر ہونا بھی تو کسی سے کمتر ہونے کے مترادف ہے۔

یہ مترادف ہونا بھی عجیب ہے، یہ خود کی شناخت بننے ہی نہیں دیتی اور شناخت ضروری ہوتی ہے، اتنی ضروری کہ خدا کو بھی اپنی شناخت کے لئے ننانوے نام رکھنے پڑے۔

شناخت نہ ہو تو پہچان ہی نہیں ہوتی۔ پہچان نہ ہو تو کوئی سلام بھی نہ کرے۔ یہ پہچان اور نام بنانے کے چکر میں تو ہم بچپن سے ہی پڑے ہوئے ہیں۔ یہ بچپن لفظ سن کے اس پہ پیار کیوں آتا ہے؟ شاید بچپن خوبصورت، معصوم اور پیارا ہوتا ہے۔ یہ تو بڑے ہوکے ہم پتہ نہیں کیا سے کیا بن جاتے ہیں۔ شاید ہم ماضی کو پوجنے والی نسل ہیں تبھی ہمیں ماضی خوبصورت اور بچپن اس پیاری ماضی کا سب سے سنہرا دور لگتا ہے۔

اس ننھی منی دنیا کے ذکر سے اکثر وہ استاد کیوں ذہن میں آتا ہے جس نے ہم سب سے پوچھا تھا کہ ابھی تو تم سب بچے ہو لیکن بڑے ہوکر کیا بنو گے اور سب نے مل کے کہا تھا کہ ڈاکٹر اور انجینئر بنے گیں تو اس پر وہ غصہ ہوکے کہنے لگیں کہ اگر سب ڈاکٹر اور انجینئر بن جائے گیں تو میرے بیٹا جو بھی سب سے بڑا ڈاکٹر بنے گا اس کا نوکر کون ہوگا؟ اس کی بات پر آج بھی ہنسی آتی ہے اور سوچتا ہو کہ انسان والد بن کے اتنا خود غرض کیوں ہو جاتا ہے؟ شاید خود کی تخلیق خود غرض بنادیتی ہے! البتہ زیادہ ہنسی اس بات پر آتی ہے کہ ہمارے کلاس کے ان بچوں میں سے کوئی ایک بھی ڈاکٹر اور انجینئر نہ بنا۔ بڑے ہوکے سب اپنی اپنی دنیا کے بلیک ہول میں کہیں کھو گئے اور کسی کو یاد ہی نہیں رہا کہ اس نے ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہے۔

رات کا سناٹا ابھی بھی قائم ہے اور دادی سورت الم نشرح (الانشراح) کی آخری آیت کے آخری لفظ "فارغب" پر بار بار زور دے کر مسلسل دہرارہی ہے۔

Check Also

Basant: Shor Bohat, Taraqi Sifar

By Komal Shahzadi