Thursday, 05 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Kash Waqt Pathar Ka Ho Jaye

Kash Waqt Pathar Ka Ho Jaye

کاش وقت پتھر کا ہو جائے

ایک دریا ہے یا یوں سمجھوں اس دریا میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور ایک انسان ہے پتہ نہیں زندہ ہے یا مردہ ہے لیکن لہروں کے رحم و کرم پر پڑا ہوا ہے۔ وہ نہ لہروں سے رحم کی بھیک مانگتا ہے، نہ لہروں کو چھیرنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ لہروں کے پار جانے کی اس کی کوئی آرزو ہے، نہ اسے کوئی امید ہے کہ کوئی آکے اسے ان لہروں سے بچائے گا اور نہ اسے یہ پتہ ہے کہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتی یہ لہریں کب شور مچانا چھوڑ کے خاموش ہو جائے گی۔

ایسا نہیں ہے کہ اس نے پہلے پہل کوئی مزاحمت نہیں کی، اس نے ہاتھ پاؤں مارے، اس نے گلا پھاڑ کے انسانوں کو پکارا، انسانوں سے اکتا کے خدا کو آواز دی لیکن خدا بھی خاموش تھا اور اس کی مدد کو کوئی نہیں آیا اور پھر اس نے اپنا آپ خوشی خوشی ان لہروں کو سونپ دیا اور اب یہ ان لہروں کی مرضی ہے وہ جہاں چاہے اسے لے چلے اور اس کے ساتھ جو بھی کرے، اسے نہ کوئی شکوہ ہے نہ شکایت ہے، نہ اسے تسلی چایئے اور نہ کسی کی داد، حتی کہ اسے اب کسی کا خود کے لئے پریشان ہونا اور ماتم کرنا بھی برا لگتا ہے۔

سنو! وہ انسان میں ہوں، اب تم بتاؤں میں کیسی ہوں؟ میری زندگی کیسی کٹ رہی ہے؟

یا یوں تصور کرلوں وہ انسان تم ہوں۔۔ نہیں، نہیں۔۔! تمہیں تو پانی سے ڈر لگتا ہے، تم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے، تم اگر ایسا سوچوں گے بھی تو تمہاری جان نکل جائے گی۔ دیکھوں دیکھوں! چہرے پر ابھی سے ہوائیاں اڑ رہی ہے۔ اس نے قہقہہ لگایا۔ ہاں وہی پاگلوں والا قہقمہ!

شاید قہقہہ پاگل ہی لگا سکتے ہیں، باشعور اور حساس انسانوں کو اداس رہنے کے لئے ہزار وجوہات مل جاتے ہیں۔

میں اسے پاگل اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کبھی وہ کسی قنوطی یعنی زندگی سے مایوس فلسفی کی طرح بولتی ہے، کبھی ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی پروفیسر ہے، زندگی اور ادم بیزاری اس کا پسندیدہ موضوع ہے اور حیران کردینے والے انکشافات کرنا اس کی عادت ہے، تو کبھی لگتا ہے وہ کوئی معصوم بچی ہے جو کسی بات پر قہقہہ لگا رہی ہے۔ وہ خود کو زندگی سے بیزار کہتی ہے، اکثر یہ بیزاری اس کے پورے وجود سے چھلکتی ہے لیکن کبھی کبھی وہ اتنا دل کھول کے ہنستی ہے کہ انسان گمان بھی نہیں کرسکتا کہ یہ واقعی میں وہ لڑکی ہے جو کچھ دیر پہلے زندگی کی بے معنویت کا رونا رو رہی تھی۔

قہقہہ زندگی کی علامت ہے تو قہقہہ لگانے والا زندگی سے خالی کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ میرے لئے ایک سوالیہ نشان کی طرح تھی اور اب بھی ہے!

میں نے کہا مرد کو ہرگز عورت کو اپنی کمزوری کے حوالے سے نہیں بتانا چاہئے ورنہ وہ کمزوری کی اس کمزور دھاگے کو ایک مضبوط رسی میں تبدیل کرکے مرد کے گلے کا پھندا بنادیتی ہے اور جب تک اس کی جان نہ نکل جائے وہ مسلسل پھندا کھینچتی رہتی ہے۔

اس نے پھر وہی پاگلوں والا قہقہہ لگایا۔

اس کا قہقہہ ختم ہوا تو میں نے کہا ضروری تو نہیں کہ انسان خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دے، انسان اگر چاہے تو حالات بدل بھی سکتا ہے یا کم از کم وہ حالات بدلنے کی کوشش تو کر سکتا ہے چاہے وہ کوشش لاحاصل اور بے معنی ہی کیوں نہ ہوں لیکن اگر تکلیف اٹھانا ہی مقدر ہے، اذیت کے کڑوے گھونٹ اگر پینے ہیں تو کیوں نا انسان خوشی خوشی پئے، مرنا اگر آخری پڑاؤ ہے تو انسان کو تو باقی کا سفر کم از کم دل سے کرنا چاہئے۔ انسان کو چاہیے کہ جی کے مرے یا جینے کی کوشش کرکے مرے بہ جائے اس کے کہ انسان مرمر کے پھر مرے۔

اس نے کہا۔ میں جو مرنے پہ تلی ہوئی ہوں تو میں نے تو جی کر بھی دیکھا ہوگا، میں جو اب ہارنے پہ آئی ہوں تو میں نے جیت کر بھی دیکھا ہوگا، مجھے جو اب کھونے کا دکھ نہیں ہوتا تو میں نے پاکر بھی دیکھا ہوگا۔ سب کچھ وقتی ہوتا ہے، کوئی جذبہ، کوئی احساس، کوئی رشتہ اور حتی کہ کچھ بھی دیر پا نہیں ہوتا۔ ہر دریا آخر میں سوکھ جاتا ہے، ہر پیڑ مرجھا جاتا ہے، ہر درندہ بین کرتے کرتے مرجاتا ہے، ہر پرندہ اپنی اڑان سے اکتا جاتا ہے، ہر نیا ایجاد کچھ وقت کے بعد پرانا ہو جاتا ہے، تہذیب جنم لیتی ہے، جوان ہو جاتی ہے اور آخر میں سسکتے سسکتے زمین بوس ہو جاتی ہے۔ یہی حال ہم انسانوں کا بھی ہے ہم نے بھی فنا ہونا ہے تو کیوں نا جلد ہی فنا ہوکر جوانی کی شاندار موت کو گلے لگالے؟

تم جو دنیا بدلنے کی باتیں کرتے ہوں، یہ دنیا تمہیں دفنا کے بھول جائے گی۔۔ انسانوں کی اوسط عمر ہی کیا ہے؟ ساٹھ سال، پینساٹھ سال یا اس سے زیادہ؟ اتنی عمر میں تو تم کسی نظریہ، کسی مذہب یا کسی سوچ کی باریکیوں کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ تمہاری عمر ڈھل جائے گی اور دیکھتے دیکھتے تمہاری دو نسلیں جوان ہو جائے گی۔۔ پھر تمہاری سوچ، تمہارا نظریہ، تمہارا مذہب اور حتی کہ تمہاری دور کی سب سے بڑی ایجاد یا تمہارا سب کچھ ان کے لئے بے معنی اور پرانا ہوگا۔

جہاں پر تمہارا سفر اختتام پذیر ہوگا وہاں سے تمہاری اگلی نسل کا سفر شروع ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ زندگی کو جوکھم میں نہ ڈالوں بلکہ اس کی بے معنویت کو ہی اس کی معنی سمجھوں اور جو کچھ جیسے چل رہا ہے اسے ویسا ہی چلنے دوں، تم تھک جاؤں گے، ہار جاؤں گے، اکتا جاؤں اور کسی روز اپنے ہی قدموں میں گر کر خود سے گڑگڑا کے معافی مانگوں گے۔

اس نے ہمیشہ کی طرح مجھے لاجواب کیا لیکن میں نے پھر بھی چپ رہنا پسند نہیں کیا۔ کیوں کہ میں اگر چپ ہو جاؤں تو وہ بھی چپ ہو جاتی ہے اور اس کا چپ ہوجانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔

میں نے کہا، موت فطری عمل ہے لیکن موت سے پہلے زندگی بھی اس عمل کا حصہ ہے، ہمیں چاہیئے کہ پہلے فطری عمل کا یہ چلہ کاٹے اور امید کی انگلی پکڑ کے خوشی خوشی زندگی بسر کرے۔

اس نے کہا تم اگر خوشی خوشی زندگی بسر کروں تو کیا ہو جائے گا؟ میرے پاس اس کے اس کیا ہو جائے گا کا جواب نہ پہلے کبھی تھا اور نہ اب ہے۔

میں نے کہا کچھ چیزوں کا تعلق محسوس کرنے سے ہوتا ہے جیسے تم اگر مجھ سے ملنے سے پہلے مرجاتی تو میرے دل میں ڈریم گرل سے ملنے کی آرزو کبھی پوری نہ ہوتی۔ کیوں کہ تم میرے ان خوابوں کی تعبیر ہوں جو میں بچپن سے دیکھتا آیا ہوں، تم مجھے ملی بھی نہیں تھی لیکن تم پھر بھی میرے ساتھ تھی، میں تمہیں جاننے سے پہلے جانتا تھا، تم مجھے سنتی تھی، مجھے حوصلہ دیتی تھی، میری تنہائیوں میں میرا ساتھ دیتی تھی۔

یہ محض اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ میں جیسا سوچوں، جیسے گمان کروں، سب کچھ بالکل ویسے کا ویسا ہوجائے۔۔ میں دور حاضر کا سائنسی ذہن رکھنے والا انسان ہوں لیکن مجھے کبھی کبھار تمہارا ملنا معجزہ لگتا ہے اور مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ جدید دور میں بھی خوابوں کی تعبیر ممکن ہے، من میں بسا شخص حقیقت میں بھی وجود رکھتا ہے۔ میں نے تمہاری قربت کو محسوس کیا ہے، میں نے تمہیں محسوس کیا ہے، میں نے زندگی کو محسوس کیا ہے؟ تم بتاؤں۔۔ تم سے ملنے کے بعد زندگی کو محسوس کرنے کے بعد بھی میں زندگی کو کیوں کر بے معنی سمجھوں؟

وہ کہنے لگی۔۔ ہاں یہ تو ہے لیکن یہ سب عارضی ہے۔ اک وقت آئے گا کہ میرے ہونے نہ ہونے سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا جس طرح تمہارے ہونے نہ ہونے سے میری تنہائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ کبھی کبھی کسی کمزور لمحہ میں مجھے لگتا ہے کہ تم اگر مجھے پہلے مل جاتے تو قدرت کے خزانوں میں کون سی کمی واقع ہو جاتی، کبھی کبھار یہ بھی لگتا ہے تم واقعی میں مجھے بہت دیر سے ملے ہوں، تو کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ میں اگر تم سے نہ ملتی تو شاید میری زندگی آسان ہوتی اور شاید تمہاری زندگی تو بہت اچھی ہوتی۔ ہاں۔۔! مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے تم سے نہ ملنے اور تم سے ملنے کا بہت افسوس ہے۔ اب مجھے نہ ملنے کا افسوس زیادہ ہے یا ملنے کا پچھتاوا۔۔ یہ میں نہیں جانتی لیکن اتنا پتہ ہے کسی روز تم سمجھ جاؤں گے۔ کاش! تم سمجھ جاؤں۔

میں اس پاگل لڑکی کو دیکھتا رہ گیا جو ہر بار مجھے کسی نہ کسی کشمکش مبتلا کرتی ہے۔ میں سب کچھ سمجھتا ہوں، یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ سب عارضی ہے اور کسی دن وہ اس کہانی کو خوبصورت موڑ دے کر چلی جائے گی لیکن پھر بھی مجھے اس لمحے تک اس کے سایہ کی طرح اس کے ساتھ رہنا ہے۔ وہ لمحہ کب آتا ہے؟ خدا کرے وہ لمحہ کبھی نہ آئے! کبھی کبھار میں ڈر جاتا ہوں، کانپ اٹھتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ میں کسی ایسی کشتی کا مسافر ہوں جو عنقریب ڈوبنے والی ہے، یا شاید میں نے کسی پرندے کی طرح ایک ایسی درخت پر گھونسلہ بنایا ہے جو بہت جلد آسمانی بجلی کے ہاتھوں جلنی والی ہے۔ شاید میں خواب اور سراب کے بیچ پھنسا ہوا ہوں لیکن جو خواب حقیقت کا روپ دھار لے وہ سراب کیسے ہوسکتا ہے؟ کاش کہ وقت یہی رک جائے، وقت پتھر کا ہو جائے اور ہم دونوں وقت کی اس قید سے آزاد ہو جائے۔ کاش۔۔!

Check Also

Pakistan, Tareekhi Virson Ka Qabristan?

By Muhammad Idrees Abbasi