Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehak Rabnawaz
  4. Mehman Nawazi Ho To Aisi

Mehman Nawazi Ho To Aisi

مہمان نوازی ہو تو ایسی

ارشاد باری تعالی ہے اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے سامنے بیان کر دے اور تمہیں اگلوں کی روش بتا دے اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد پاک مصطفی ﷺ کی زندگی اُنکے اطوار، اُنکی سیرت اُنکے فرمان، ہمارے لیے بہترین مشعل را ہ اور زندگی گزارنے کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔ میں اپنے نبی کریم ﷺ کے چند فرامان سے مہمان نوازی کی اہمیت و فضائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کروں گی۔ امید کرتی ہوں اِس تحریر کو تمام پڑھنے و سننے والے اِس سے استفادہ حاصل کریں گے۔

وقت حاضر میں ہمیں مہمان نوازی کی اہمیت کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہر شے کی ایک زکوۃ ہے اور گھر کی زکوۃ مہمان خانہ ہے۔

مہمان اپنا رزق ليکر آتا ہے اور صاحب خانہ کے گناہ لیکر جاتا ہے (بہار الانوار)

میرے نبی ﷺ کا فرمان ہے جو آدمی مہمان نوازی نہیں کرتا اس میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ (مسند احمد)

نبی پاک ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے جنہوں نے مہمان نوازی کی تھی وہ حضرت ابراہیمؑ تھے۔ حضرت ابراہیمؑ اللہ کے بہت سخی غنی مہمان نواز بندے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھر کے چار دروازے تھے اور وہ یہ خواہش رکھتے تھے کہ میرے گھر کے چاروں اطراف سے مہمان آئیں اور میں مہمانوں کو کھانا کھلایا کروں۔

بخاری شریف میں روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے ایک دن و رات مہمان کی خدمت اس کا جائز حق رکھا ہے اور اس کی دعوت و مہمان نوازی تین دن ہے اس کے بعد کی میزبانی اس کے لیے صدقہ ہے اور مہمان کے لیے زیادہ دن ٹھہر کر میزبان کو تنگی میں مبتلا کرنا جائز نہیں ہے۔ (بخاری 4350)

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا آدمی اپنے مہمان کا استقبال دروازے سے باہر نکل کر کرے اور رخصت کے وقت گھر کے دروازے تک اپنے مہمان کو پہنچائے۔ (ابن ماجہ)

ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اُس گھر میں بھلائی بڑی تیزی کیساتھ داخل ہوتی ہے جس گھر میں مہمان نوازی کی جائے اور اس بات کو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ایک بہت خوبصورت مثال دے کر اپنی امت کے لوگوں کو سمجھایا وہ مثال ایسی ہے

آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح تیز چھری اونٹ کی کوہان میں تیزی سے داخل ہوتی ہے اتنی ہی تیزی سے میرا اللہ اُس گھر میں بھلائی اتارتا ہے جس گھر میں مہمان کا اکرام و احترام خوشی سے کیا جائے۔

ایک روز رسول پاک ﷺ کی خدمت میں مہمان حاضر ہوئے۔ ایک صحابی حضرت طلحہ انصاریؓ نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی، یا رسول اللہ اپنے ان مہمان کی مہمان نوازی کا شرف مجھے عطا فرمائیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا لے جاؤ حضرت طلحہ انصاری گھر گئے اور اپنی زوجہ محترمہ سے کہا کہ مہمان آیا ہےگھر میں کھانے کو کیا میسر ہے تو انہوں نے کہا کہ صرف بچوں کے لیے مختصر سا کھانا موجود ہے۔ صحابی رسول نے کہا کہ آج بچوں کو بغیر کھانا کھلائے سلا دو اور مہمان کے لئے کھانے کا انتظام کرو۔

پھر حضرت طلحہ انصاریؓ نے کہا کہ جب مہمان کھانا کھانے لگے تو تم چراغ کو ٹھیک کرنے کے بہانے سے بجھا دینا مہمان کو عجیب نہ لگے کہ وہ اکیلا ہی کھا رہا ہے اس لیے میں یہ ظاہر کروں گا کہ میں بھی ساتھ میں کھانا کھا رہا ہوں۔ چونکہ کھانے کی مقدار کم تھی بمشکل وہ صرف مہمان کے لیے ہی تھا لہذا اُنکی بیوی نے ایسا ہی کیا۔ چراغ کو ٹھیک کرنے کے بہانے گل کر دیا۔

جب مہمان کھانا کھا چکا اور چلا گیا۔ اگلے روز نبی اکرم ﷺ نے حضرت طلحہ سے فرمایا۔ طلحہ تمہارے رب کو تمہاری یہ ادا بےحد پسند آئی ہے۔ تمہارا رب تم سے بہت راضی ہوا ہے یہ کیسے خوش نصیب لوگ تھے جنہیں اپنے نبی کے توسل سے اپنے رب کے راضی ہونے کی بشارت مل جایا کرتی تھی اور وہ خواتین کتنی با عزت با ادب گھرانے سے تعلق رکھنے والی تھیں ان کی تربیت کرنے والی مائیں کیسی عظیم تھیں۔ کیسی بیٹیوں کو جنا جو اپنے رب کی خوشنودی کے لیے چھپ چھپ کر نیکیاں کرتی اپنے خاوند کا معاشرے میں بھرم رکھتی تھیں۔

حضرت طلحہ انصاری کی بیوی نے یہ نہیں کہا کہ تم اپنے بچوں کے حصے کا کھانا اپنے مہمان کو کھلا رہے ہو بلکہ خاموشی سے اپنے رب کی رضا اور خاوند کے حکم کی تابعداری کی۔

اب بات غور طلب ہے کہ آج ہمارے گھروں میں کیا ہو رہا ہے۔ اگر مہمان اچانک سے آ جائے تو بہت سے گھروں میں مہمان کے آنے پر غصہ و نا پسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کھانا کم پڑ جائے تو مہمان کے سامنے ہی اس کی تذلیل کر دی جاتی ہے کہ کھانا کم کیسے پڑ گیا ہم نے تو مقدار میں زیادہ بنایا تھا۔

میں سمجھتی ہوں سچ تو یہ ہے کہ نیتیں اور دل شفاف ہوں تو برکتوں کا نزول ہوتا ہے لیکن دل کالے ہوں تو برکتیں اٹھ جایا کرتی ہیں۔ بہرحال ایسے جملوں سے مہمان کی دل آزاری کی جاتی ہے کہ اُسے شرمندہ کر دیا جاتا ہے اور مہمان کے جانے کے بعد طرح طرح کی برائیاں اس کی ذات کے ساتھ منسوب کر دی جاتی ہیں اور یوں نیکیاں کمانے کی بجائے ہم گناہ سمیٹ لیتے ہیں۔ مہمان کو زحمت سمجھا جاتا ہے کہ یہ بتا کر کیوں نہیں آیا اچانک سے کیوں آ گیا۔

یاد رکھیں بھلائی بتا کر نہیں آتی بلکہ بھلائی تو اُس گھر میں تیزی کے ساتھ داخل ہوتی ہے جس گھر میں مہمان کی مہمان نوازی اللہ کی رضا کے لیے عزت و احترام و خوشنودی کیساتھ کی جائے۔ مہمان تو ہمارا رزق کشادہ کرنے آتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ہم نے اپنے لیے تنہائی کا سفر چن لیا ہے۔ یہاں تنہائی سے مراد ہم فقط اپنی ذات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج لوگ کسی کے ساتھ سلام دعا رکھتے بھی ہیں تو وہ بھی اپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے۔ ورنہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔

اب اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ملنا جلنا بیٹھنا ایک پسندیدہ مشغلہ نہیں سمجھا جاتا ہے بلکہ جب ایک ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملے بھی تو ہر جگہ پر نمائش کا بازار گرم رہتا ہے۔ یہاں غالب کا مجھے ایک شعر یاد آتا ہے

مصروف رہنے کا یہ انداز تمہیں تنہا نہ کر دے غالب
رشتے فرصت کے نہیں توجہ کے محتاج ہوتے ہیں

ہم انسان کسی کو کیا دے سکتے ہیں دینے والی ذات تو صرف اللہ کی ہے جو ساری کائنات کا پالنے والاخالق مالک اور رازق ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں عمل بعد میں نیت پہلے قبول ہو جاتی ہے۔

ایک دن حضرت علیؓ رونے لگے لوگوں نے دریافت کیا آپ کیوں رو رہے ہیں۔ فرمایا میں اس لیے رو رہا ہوں کہ سات دن سے کوئی مہمان میرے گھر نہیں آیا۔ وہ اللہ کے کیسے نیک برگزیدہ بندے تھے کہ جو مہمانوں کے نا آنے پر رو دیتے تھے۔ اللہ کے یہ نیک بندے ہر لمحہ نیکیاں کمانے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں رہتے تھے۔ اللہ ہمیں اپنی ان نیک عظیم ہستیوں کی سیرت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

نبی ﷺ کے دور میں ایک عورت نے رسول پاک ﷺ سے اپنے شوہر کی شکایت کی۔ کہ یا رسول اللہ میرا شوہر روزانہ کسی نہ کسی مہمان کو گھر لے آتا ہے اور مجھے کھانا تیار کرنے کے لیے کہتا ہے میں کھانے بنا کر تھک جاتی ہوں۔ یا رسول اللہ آپ کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ میرا شوہر گھر میں مہمان نہ لے کر آئے۔ اس وقت نبی پاک ﷺ نے خاموشی اختیار کی اور وہ عورت نبی پاک کی خاموشی دیکھ کر واپس چلی گئی۔

اگلے روز رسول پاک ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلایا اور کہا کہ میں تمہارا مہمان بن کر آؤں گا۔ وہ آدمی بہت خوش ہوا اور گھر جا کر اپنی بیوی کو بتایا کہ نبی پاک ﷺ ہمارے گھر مہمان بن کر آئیں گے۔ اسکی بیوی بہت خوش ہوئی اور جلدی سے کھانے پکانے لگی۔

جب نبی پاک ﷺ اُس کے گھر تشریف لے گئے تو اُس عورت کے شوہر سے فرمایا کہ جب میں کھانا کھا کے واپس جانے لگوں تو اپنی بیوی سے کہنا کہ میرے گھر سے نکلتے وقت پیچھے کی طرف دیکھتی رہے۔ اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور جو منظر اُس نے دیکھا تو وہ بے ہوش ہوگئی بہت سے سانپ بچھو کیڑے مکوڑے سب گھر سے جا رہے تھے اگلے ہی روز اس نے سارا ماجرا رسول پاک ﷺ کو بیان کیا۔

تو نبی پاک ﷺ نے اس عورت کو بتایا کہ مہمان اپنا نصیب خود لیکر آتا ہے اور جو محنت مہمان کے لیے کی جاتی ہے اس کے بدلے میں جب وہ واپس جاتا ہے تو اس گھر کی ساری بلاؤں اور گناہوں کو ساتھ لے جاتا ہے۔ یہ بات جان لیں مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں زحمت نہیں۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ انسان کا رزق اُسے ایسے تلاش کرتا ہے جیسے مرنے والے کو موت تلاش کرتی ہے۔ اِس عمل میں حکمت پوشیدہ ہے کہ مہمان تو اپنے نصیب کا کھانا ہمارے دسترخوان سے اٹھاتا ہے اور ثواب ہمیں ملتا ہے۔ گناہ ہمارے معاف ہوتے ہیں۔ نیکیوں میں ہماری اضافہ ہوتا ہے تو مہمان ہم سے لے کر کیا جاتا ہے بلکہ وہ تو ہمیں بہت کچھ دے کر جاتا ہے۔

جو بظاہر ہمیں دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔ لیکن اس کے بدلے میں اللہ کے ہاں ہماری لیئے اجر و ثواب انعامات جمع کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے۔ مہمان کے ساتھ مل کر جو کھانا کھایا جائے وہ کتنا ہی پرتکلف کیوں نہ ہو اس کا حساب نہ لیا جائے گا۔

آج باہمی رنجشوں کے سبب ہم اپنے رشتوں کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ کی رضا کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کو اللہ قیامت کے روز کن انعامات سے نوازے گا؟

فرمان مصطفی ﷺ ہے قیامت کے دن عرش کے دائیں جانب اللہ عزوجل کے کچھ مہمان بیٹھے ہوں گے اللہ عزوجل کے عرش کی دونوں جانب داہنی ہی ہیں وہ نور کے ممبروں پر ہوں گے ان کے چہرے نور بار ہوں گے۔ وہ نہ تو انبیاء میں سے ہوں گے نہ شہدا میں سے اور نہ ہی صدیقین میں سے۔

عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل کی عظمت کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے۔

حضرت ابوالاحوصؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ یہ فرمائیے۔ میں ایک شخص کی طرف گیا اس نے میری مہمانی نہیں کی اب وہ میری طرف آئے یا میرا مہمان بنے تو کیا میں اس کی مہمانی کروں یا بدلہ دوں۔ ارشاد ہوا بلکہ تم اس کی مہمانی کرو۔

اس سے واضح ہے۔ مہمان نوازی تو ایک نیکی ہے اور نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی مہمانوں کو کھانا کھلانا خوش بخت لوگوں کامقسوم ہے۔ آج ہم بدلے کی آگ میں بہت کچھ گنوا رہے ہیں۔ مصروف زمانہ کی اس بھاگ دوڑ میں ہم اپنے بڑوں کی روایات بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ پہلے پہل جہاں بڑوں میں اختلافات زیادہ ہوتے بھی تھے تو دل کے گوشہ نرم میں احترام کی جگہ موجود تھی۔

اپنی ثقافت اپنی روایات کا پاس، مان ہر قبیلے میں رکھا جاتا تھا۔ گھر آئے مہمان کو دل سے عزت دی جاتی۔ پہلے دور میں آج کی طرح کی آسائشیں انواع و اقسام کے پکوان وسیع دسترخوان یہ تمام سہولتیں شاید میسر نہ تھیں۔ مگر دل بہت بڑے تھے گھر میں جو کچھ موجود ہوتا خوشی خوشی وہی سب اپنے گھر آئے ہوئے مہمان کے سامنے پیش کر دیا جاتا۔

پہلے دور میں لوگوں کو روز مرہ ایک یا دو وقت کا کھانا میسر آ جاتا تو رب کا شکر ادا کرتے جمع کرنے کا لالچ نہ تھا۔ وہ سادہ لوگ سادہ مزاج اور دل کے غنی تھے۔ خوشحال زندگی بسر کرتے تھے۔ آج ہمارے گھروں میں ایک دو روز کا کھانا ہی نہیں، بلکہ مہینےبھر کا راشن موجود ہو تب بھی نظریات اور دل تنگ ہو گئے ہیں۔ وقت بدلنے کیساتھ ساتھ ہمیں لگتا ہے کہ ہم مہمان نوازی کے آداب بھی بھول چکے ہیں۔

حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ہے تو حقیقت ہی اگر آج گھروں میں مہمان آ جائے تو اس مہمان سے بار بار یہی پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے لیے کیا پیش کیا جائے یا کیا لینا پسند کریں گے آپکی کیا خدمت کی جائے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ وہ جملے ہیں جو مہمان سے پوچھنا آدھا انکار ہے مطلب کہ آپ اسکی خاطر تواضع کرنا ہی نہیں چاہتے اور آپ نے مہمان پر ہی سب کچھ چھوڑ دیا کہ وہ خود ہی انکار کر دے۔

یقیناََ مہمان خود تو فرمائشی پروگرام شروع نہیں کرے گا نہ ہی اپنے من پسند کھانوں کی فہرست تیار کرکے آپ کے سامنے رکھ دے گا کہ یہ لیجیےحضور میرے لیے یہ حاضر کیا جائے۔ شرمندگی سے یقیناََ انکار ہی کرے گا کہ اُسے کچھ نہیں چاہیے۔ لہذا جو کچھ آپ کے پاس دستیاب ہو آپ سامنے رکھ دیں۔ ایسا کرنے سے مہمان اور میزبان دونوں کا بھرم رہ جاتا ہے۔

معاشرے میں بہت سے سفید پوش لوگ شرافت غیرت اپنی سادگی کے سبب اپنی ضرورت بیان نہیں کر پاتے۔ ایسے لوگوں کی خاموشی کو پڑھنا سمجھنا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور دیر کا مطلب دیر ہی ہوتا ہے۔

"ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں"
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو

اُسے آواز دینی ہو، اُسے واپس بلانا ہو
"ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں"

(کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ، اُسکو جا کے یہ بتانا ہو

"ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں"

(منیر نیازی)

ہم بزرگوں سے سنتے ہیں کہ پہلے کسی گھر میں مہمان آ جاتا تو اس کے آنے کی خوشی آس پاس کے رشتہ دار ہمسایہ گھروں میں بھی منائی جاتی، ایک دوسرے کے گھر سے بستر لانا، مہمان کے لیے آرام گاہ کا بندوبست کرنا، کھانے پینے کا انتظام کرنا، مہمان کے لیے اچھے برتنوں میں کھانا پیش کرنے کی غرض سے ایک دوسرے گھر سے برتن لے لئے کرتے، خوشی ہو غمی کا کوئی موقع سب ایک دوسرے کیساتھ بھرپور تعاون کرتے ساز و سامان مہیا کرتے۔ تب لوگوں کے دل بہت بڑے تھے۔ لوگ دوسرے کے مہمان کو اپنا ہی مہمان سمجھ کر بھرپور عزت سے نوازتے تھے۔

آئیں ہم سب مل کر کیوں نا اپنے بڑوں کی ان روایات رسموں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کریں۔ ایک دوسرے کے خوشی و غم کو محسوس کرنا، ہر شام اپنے معمول کے کاموں سے فارغ ہو کر گھروں میں عورتوں اور مردوں کی محفلیں لگتی جہاں آج کے دور جیسی تعلیم تو نہ تھی مگر باتیں بہت گہری دانشمندانہ و علم و حکمت سے بھرپور تھیں۔

ہم نے اپنے رشتوں میں غرور انا، اختلافات، کی بہت بڑی دیوار کھڑی کر لی ہے اس دیوار کو گرانا ہوگا۔ سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا ہوگا۔

معاشرے میں بڑھتی ہوئی بد امنی، بے راہ روی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ میں ہم اپنے رشتوں اور دوسروں کے احساسات و جذبات کو کچل رہے ہیں۔ پیسے سے چیزوں کو تو خریدا جا سکتا ہے مگر رشتوں کو نہیں، رشتے تو خاص اللہ کی عطا ہوتے ہیں۔

میرا اِس بات پر ایمان ہے کہ رب جن کو کچھ خاص نوازنا چاہتا ہے۔ جن پر بھلائی اتارنا چاہتا ہے اور جن کے گناہ معاف کرنا چاہتا ہے ان کے ہاں اپنے ہی بندوں کو مہمان بنا کر اس دروازے پر بھیجتا ہے۔

یاد رکھیں مہمان صرف وہی نہیں ہوتا جس کے ساتھ آپکا کا کوئی قریبی تعلق ہو دوست احباب رشتے دار یا ہمسائے ہی صرف آپکے مہمان نہیں ہوتے۔ بلکہ ہر وہ شخص جو آپکے دروازے پر سوالی بن کر آئے وہ بھی اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا مہمان ہی ہوتا ہے۔ اسے جو حسب توفیق ہو سکے دے دینا چاہیے اور اس مہمان کو اللہ کی رضا کے لیے خوب راضی کرکے بھیجنا نہایت افضل ہے۔

کسی انسان کیساتھ کوئی قریبی ناطہ ہو یا نہ ہو لیکن انسان ہونے کی حیثیت سے ہم سب کا ایک دوسرے کے ساتھ انسانیت کا رشتہ ہے۔ جسے ہر جگہ مقدم رکھنا ہمارا فرض ہے۔

Check Also

Uch Shareef Yaadon Ki Khushbu

By Javed Ayaz Khan