Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Juraim, Juraim Aur Juraim

Juraim, Juraim Aur Juraim

جرائم، جرائم اور جرائم

دنیا میں اگر دیکھا جائے تو ہر روز حادثات اور جرائم ہوتے رہتے ہیں جو آدم کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جنھیں سن اور پڑھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ مری میں گاڑی کے اندر آگ لگا دی گئی اس غلطی میں کہ یہ مجرموں کی گاڑی ہے اور گاڑی کے اندر موجود افراد ہلاک ہو گئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ اس قدر بے حسی۔

پھر بلوچستان والی سائیڈ پر دو لوگوں یا گروہوں کی لڑائی میں اونٹ کی آنکھیں نکال دیں گئیں۔

اتنی سی خبر پڑھ کر مجھے پوری تفصیل پڑھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ اس بے زبان اور معصوم جانور کا کیا قصور تھا؟

ایک سترہ سالہ ملازمہ کے ساتھ گھر کے مالک اور ڈرائیور نے زیادتی کی اور لڑکی (Abortion) کے دوران موت کے منہ میں چلی گئی۔

انسان اتنا بے حس کیوں ہوگیا ہے؟

انسانی جسم کیا ہے؟ اگر دیکھا جائے تو گوشت پوست کا ایک وجود۔ جسے مٹی میں مل جانا ہے۔ لیکن یہ آدم جس کے لئے رب نے پوری کائنات تخلیق کی۔ بے شک آدم کو بلا مقصد پیدا نہیں کیا گیا۔

اللہ کے تخلیقی پروگرام کے مطابق تو انسان نے بہت آگے جانا ہے، کیونکہ انسان مرنے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا اس کی اگلی زندگی شروع ہوتی ہے۔

حضور ﷺ کی ایک حدیث ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص کا ایک ابلیس ہوتا ہے تو حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کا بھی ابلیس ہے تو حضور ﷺ نے کہا کہ ہاں میرا بھی ایک ابلیس ہے پر میں نے اسے مسلمان کر رکھا ہے۔

آج کل نیورو سائنس پر جو تحقیقات ہو رہی ہیں اور سائنس اللہ کے ہر دعوی کا ثبوت بہم پہنچاتی چلی آ رہی ہے۔ دماغ انسانی جسم کا سب سے پیچیدہ عضو ہے، جو جسم کو کنٹرول کرتا ہے، جو کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے جو کچھ اس میں فیڈ کر دیا جاتا ہے وہ کچھ وہ کرنے لگ جاتا ہے کیونکہ اسیے سچ اور جھوٹ کا فرق معلوم نہیں ہوتا۔

دماغ اس اڑیل گھوڑے کی مانند ہے جسے بہت مہارت سے چلانا ہوتا ہے، انسان اگر چاہے تو اپنی صلاحیتیوں کو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے استعمال کرے یا تباہی کے لئے۔

ایٹم بم اپنی حفاظت کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے اپنی بقا کے لئے بھی اور بنی نوع انسان کی تباہی کے لئے بھی۔

انسان میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ خود یہ فیصلہ کر سکے کہ اس کو کس طرح استعمال کرنا ہے اور وہ وحی کی راہنمائی کے بغیر فیصلے کرتا چلا جائے تو دنیا کی حالت یہی کچھ ہوگئی جو آج کل ہے؟

یہ صرف پاکستان کی حالت نہیں ہے باقی دنیا کی بھی یہی حالت ہے لیکن باہر میڈیا میں منفی خبروں کی اشاعت پر پابندی ہے اور ہمارے ہاں بڑھ چڑھ کر منفی خبریں دیں جاتیں ہیں تا کہ ہماری ریٹنگ میں اضافہ ہو۔

میں بار بار کہتی ہوں کہ ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ایمان بالآخرت ہے کہ زندگی صرف اسی دنیا کی زندگی نہیں ہے اور زندگی آگے چلنی ہے اور اگلی زندگی اسی زندگی پر منحصر ہے۔

آدم تو قدرت کے پروگرام کے مطابق ابھی پہلی سٹیج میں ہے ناجانے اس نے ابھی کتنی منازل اور طے کرنی ہیں۔

خدا جانے ہم قدرت کے اس پروگرام میں اگلی زندگی میں شامل ہونگے یا ہماری زندگی جہنم کی زندگی ہوگئی جس کا مطلب ہے "رک جانا"، اگر ہم اپنی تربیت نہیں کر پاتے تو ہماری اگلی زندگی وہی رک جائے گئی اور جو تربیت کر پائے وہ اگلی منازل طے کرتی چلی جائے گئی۔

ہمارے علماء ہمیں شاید یہ سمجھانے میں ناکام رہے ہیں کہ زندگی آگے چلنی ہے اور اس کے بعد اس کو آگے ہی آگے جانا ہے۔

علماء کو سائنس کا علم دینا ضروری ہے کیونکہ اتنی عظیم کتاب کو سمجھنے کے لئے جس میں کائنات کی حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں، پڑھنا لازمی ہے۔ اقبال یہ کہتا دنیا سے چلا گیا، ان کی نظم توحید میں ہے:

قوم کیا ہے؟ قوموں کی امامت کیا ہے؟
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

Check Also

Tehzeeb Ka Tohfa

By Sarfraz Saeed Khan