Insano Ki Hukumat Aur Allah Ki Hukumat
انسانوں کی حکومت اور اللہ کی حکومت

جہاں جرائم بڑھتے چلے جا رہے ہیں وہاں ہمیں ایسے انسان بھی ملتے ہیں جو ہمیں یہ امید دلاتے ہیں کہ برائی کے ساتھ اچھائی بھی اس پاک وطن میں موجود ہے ایک عظیم ماں کا بیٹا جس کی تربیت نے ایک بچی کی زندگی درندوں سے بچالی۔ وہ فوڈ پانڈا رائیڈر راولپنڈی بحریہ ٹاؤن فیز 7 سے گزر رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک بچی کے رونے کی آواز آئی جب اس نے رک کر دیکھا تو دو لڑکے ایک بچی کی عزت وآبرو کے ساتھ کھیلنے کی کوششش کر رہے تھے ان کے پاس ہتھیار بھی تھے۔ اس نے وہی بائیک روک کر شور مچانا شروع کر دیا، لڑکوں کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بشارت علی نے حاضر دماغی اور بہادری سے لوگ اکٹھے کر لئے اور اس بچی کو بچا لیا گیا۔
اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لئے قانون کا سختی سے نفاذ ضروری ہے اور قانون نافذ کرنے والے کو جزبات کی رو سے بلند ہو کر فیصلے کرنے ہونگے اور ہمارے پاس خدا کی کتاب اور وہ فیصلے جو اسلامی ریاست میں ہوئے تھے، اب بھی تاریخ میں موجود ہیں اگر کوئی رائنمائی لینا چاہے تو راہنمائی مل جاتی ہے، اگر نیتیں صاف ہوں تو۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک معصوم بچی کو نہایت سفاکی سے شہید کر دیا۔ اس نے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا۔ جب بچی اپنی زندگی کے آخری لمحات میں تھی تو اس نے قاتل کی نشاندہی کر دی۔
اس کے بعد اس یہودی کو گرفتار کیا گیا۔ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پھر رسول کے حکم کے مطابق جس طرح اس نے ظلم کیا، اسی طرح اس پر بھی وہی سزا نافز کی جائے۔ چنانچہ اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔
یہ انتقام نہیں، عدل تھا۔
یہ جزبات کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ شریعت کا فیصلہ تھا۔
جب تک قانون کی بالادستی نہیں ہوگئی تب تک جرائم ہوتے چلے جائیں گئے۔
انسانوں کا نافذ کردہ قانون حق کے مطابق فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ہر ریاست چاہے وہ ہندوستان کی ہو، اسرائیل کی یا کسی اور ملک کی، سب کا قانون اپنے مفاد کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور بے گناہ انسان انسانوں کے ظلم کا نشانہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ قانون حق اور سچ پر مبنی ہونا چاہیے اور حق اور سچ پر مبنی قانون وہی بنا سکتا ہے جس میں انسانی جزبات کی آمیزش نہ ہو اور یہ صرف کائنات بنانے والے رب کا کام ہے جو اپنے قانون کی بھی خلاف ورزی نہیں کرتا اگر اس کا قانون ہے کہ آگ میں انگلی جل جاتی ہے تو یہ قانون ہر انسان، امیر، غریب، کالے، گورے سب پر لاگو ہوتا ہے، اگر انسان کے بس میں ہو تو غریب کی جھونپڑی میں سورج کی کرن نہ پہنچ پائے لیکن یہ تو کائنات بنانے والے کا قانون ہے جو سب کے لئے یکساں ہے۔
ایک دفعہ ایک قاتل کا سر قلم کرنے کا حکم حضور نے جلاد کو دیا تو اسی وقت ایک بچی دوڑی ہوئی آئی اور حضور سے چمٹ گئی اور اپنے باپ کی زندگی کی التجا کرنے لگی۔ حضور نے اسیے اپنے سینے سے لگا لیا اور آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ سب نے خیال کیاکہ حضور اس قاتل کو معاف کر دیں گئے لیکن یہ کیا؟
حضور نے بچی کو سینے سے لگا یا اور جلاد کو ہاتھ کے اشارے سے سر قلم کرنے کا حکم دیا۔ آنکھوں سے آنسوں رواں تھے۔
سب نے حضور سے پوچھا کہ یہ کیا تھا؟
حضور نے جواب دیا کہ محمد کی آنکھ رو رہی تھی اور انگلی اپنے رب کے حکم کی اطاعت کر رہی تھی۔
یہ تھا وہ قانون جو جزبات کی رو میں نہیں بہتا۔
رب کے قانون میں جزبات کی گنجائش نہیں اور اس کے نام پر حکومت قائم کرنے والا بھی جزبات کو ایک طرف رکھ کر اس رب کے حکم کے مطابق فیصلے دیتا ہے اور پھر اس وقت اللہ کی حکومت قائم ہوتی ہے۔

