Thursday, 02 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Jab Qaum Sawal Karna Chor De

Jab Qaum Sawal Karna Chor De

جب قوم سوال کرنا چھوڑ دے

میں نے اپنی اس طویل زندگی میں حکومتیں بدلتے دیکھی ہیں، نظام بدلتے دیکھے ہیں، چہرے بدلتے دیکھے ہیں۔ مگر ایک چیز کم ہی بدلی: اقتدار ہمیشہ چند ہاتھوں میں رہا اور اکثریت نے اسے تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا۔

وقت نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ قومیں صرف طاقت کے زور پر محکوم نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت جب وہ سوال کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔

ہم یہ مان کر مطمئن رہتے ہیں کہ ہم پر حکومت وہی کرتے ہیں جنہیں ہم نے چنا، یا جنہوں نے اپنی قابلیت سے یہ مقام حاصل کیا۔ لیکن عمر بھر کا تجربہ، زندگی اور تاریخ کے اوراق ایک اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اکثر اُن راستوں سے منتقل ہوتا ہے جن میں عام آدمی کی نہ تو کوئی رائے شامل ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت۔

سوال یہ نہیں کہ ایسا ہوتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے اتنی آسانی سے قبول کیوں کر لیتے ہیں۔

میں نے زمانے بدلتے دیکھے ہیں۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی دیکھی ہیں۔ چہرے بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، پر ایک چیز کبھی نہیں بدلی: اقتدار ہمیشہ چند ہاتھوں میں گھومتا رہا اور باقی لوگ ہر نئے منظر کے ساتھ خود کو سمجھا لیتے رہے کہ شاید یہی نظامِ دنیا ہے۔

اقتدار صرف طاقت کے زور پر قائم نہیں رہتا۔ اس کی اصل طاقت لوگوں کی عادت میں چھپی ہوتی ہے۔ جب ایک ہی انداز بار بار دہرایا جائے تو وہ ہمیں غیر معمولی نہیں لگتا، بلکہ معمول بن جاتا ہے۔ پھر ہم یہ سوچنا بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ کیا کوئی دوسرا راستہ بھی ہو سکتا تھا۔

ہر معاشرے میں بااثر لوگ ہوتے ہیں۔ کہیں انہیں سیاست دان کہا جاتا ہے، کہیں اشرافیہ، کہیں مقتدر حلقے، کہیں سرمایہ دار۔ نام بدل جاتے ہیں، مگر کردار وہی رہتے ہیں۔

اصل حیرت اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ طاقتور لوگ موجود ہیں۔ حیرت اس بات پر ہونی چاہیے کہ کروڑوں لوگ ان کے فیصلوں کو اپنی تقدیر سمجھ کر خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں۔

شاید یہ انسانی فطرت بھی ہے۔ انسان استحکام چاہتا ہے۔ وہ ہنگامے سے گھبراتا ہے۔ اسے جو نظام ورثے میں مل جائے، وہ آہستہ آہستہ اسے فطری اور ناگزیر سمجھنے لگتا ہے۔ پھر انصاف اور عادت کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔

ایک اور چیز بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔

بعض قومیں رفتہ رفتہ یہ یقین کر لیتی ہیں کہ قیادت صرف کچھ خاص خاندانوں، طبقوں یا لوگوں کا حق ہے۔ عام آدمی خود ہی اپنے آپ کو اس مقام کے قابل نہیں سمجھتا۔ جب کوئی قوم یہ سوچنے لگے تو پھر کسی کو اسے محکوم بنانے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ہر حکمران برا ہوتا ہے، نہ یہ کہ ہر ادارہ بد عنوان ہوتا ہے۔ میں نے دیانت دار لوگ بھی دیکھے ہیں اور ایسے لوگ بھی جو اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھ کر نبھاتے رہے۔

لیکن ایک بات ضرور سیکھی ہے۔

جس قوم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ اقتدار کس طرح حاصل ہوا، وہ ایک دن یہ پوچھنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتی ہے کہ اقتدار جواب دہ کس کے سامنے ہے۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت ایک مسلسل احساسِ ذمہ داری ہے۔ یہ یقین کہ اقتدار میں بیٹھا ہر شخص عوام کو جواب دینے کا پابند ہے۔ جب شہری سوال پوچھنا چھوڑ دیں تو ان کے حقوق ایک ہی دن میں نہیں چھنتے، بلکہ آہستہ آہستہ ان کے ہاتھوں سے پھسلتے چلے جاتے ہیں۔

حکمرانوں سے سوال کرنا بغاوت نہیں ہوتا۔ سوال تو دراصل اعتماد کی بنیاد ہوتا ہے۔ جو حکومت اپنے فیصلوں کی وضاحت کر سکتی ہے، وہ احترام بھی حاصل کرتی ہے اور جو صرف اطاعت چاہتی ہے، وہ خوف تو پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔

وطن سے محبت اور بات ہے اور اقتدار سے بے چون و چرا وفاداری اور بات۔ وطن ہمیشہ باقی رہتا ہے، حکمران آتے جاتے رہتے ہیں۔

میری عمر کا حاصل اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید میں یہی کہوں گا کہ قوموں کی تقدیر حکمرانوں سے کم اور شہریوں کے مزاج سے زیادہ بنتی ہے۔

جس دن عام آدمی نہائیت ادب و احترام کے ساتھ، لیکن صاف صاف، دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں یہ پوچھنا شروع کر دے کہ "یہ فیصلہ کس نے کیا؟ کس اختیار سے کیا؟ کس کے فائدے کے لیے کیا؟ اور اگر یہ غلط ہو تو اسے بدلنے کا راستہ کیا ہے؟" اُس دن جمہوریت صرف آئین کی کتاب میں لکھی ہوئی بات نہیں، بلکہ لوگوں کی زندگی کا حصہ بن جائے گی۔

اقتدار ہمیشہ رہے گا، طاقتور لوگ بھی ہمیشہ رہیں گے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم ہمیشہ تماشائی بنے رہیں گے، یا اپنے حصے کی ذمہ داری بھی قبول کریں گے۔

میں نے اپنی زندگی میں یہی دیکھا ہے کہ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان پر طاقتور لوگ حکومت کرتے ہیں۔ وہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کی آواز سے کچھ بدل نہیں سکتا۔

Check Also

Rangers Ki Shahadat, Afridi Ki Rehlat Aur Dil Kharash Qatal

By Abdul Hannan Raja