Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Fatima Ka Mujh Se Istafsar

Fatima Ka Mujh Se Istafsar

فاطمہ کا مجھ سے استفسار

ڈاکٹر ماہ نور والے کالم میں مجھ سے فاطمہ نے کافی سوالات کئے کیونکہ یہ کالم میں نے رمشاء اور فاطمہ کی فرمائش پر ہی لکھا تھا۔ فاطمہ کا کہنا تھا کہ آپ تو خود ہمیں بتاتی ہیں کہ حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ اگر عمر کی ریاست میں دجلہ کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے اس کی بھی باز پرس ہوگئی اور ڈاکٹر ماہ نور اور اس طرح کے بہت سے واقعات کے سلسلے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان واقعات کی روک تھا م کی ذمہ داری اٹھائے اور ایسے واقعات کو روکے۔

حضور ﷺکے بارے میں وہ کہہ رہی تھی کہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے کس طرح انھوں نے سادہ زندگی بسر کی اور اس سے پہلے کس طرح اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی عورت کو معاف کر دیا گیا۔

ایسے بہت سے سوالات ہیں جو بہت سے نوجوانوں کے ذہین میں اٹھتے ہیں۔

ہمارے نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ ہر نوجوان کے سوال کا جواب اس کو ملنا چاہیے اور ہر نوجوان کو سوچنا چاہیے۔

حضور ﷺنے ان تھک محنت سے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا، لیکن پھر بھی جنھوں نے نہیں ماننا تھا وہ نہیں مانے۔

حضور ﷺ نے سب لوگوں کو جمع کیا اور ایک بات کہی کہ میں اتنا کچھ آپ لوگوں سے کہہ چکا ہوں اب صرف دو لفظ کہنا چاہتا ہوں وہ سن لیں۔

لوگوں نے سوچا کہ دو لفظ سننے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن ان دو لفظوں میں نفسیات کے ان گنت پہلو چھپے بیٹھے تھے تو حضور ﷺنے جو دو لفظ کہے وہ یہ تھے۔

ثم تتفکر (سوچا کرو)

جب آپ سوچ کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں اور اللہ کی کتاب آپ کے ساتھ ہو تو اللہ آپ کے تمام سوالات کے جواب دیتا چلا جاتا ہے۔

فاطمہ کا کہنا تھا کہ میرا سوفٹ کارنر شاید حکومت کے لئے ہے اس لئے میں اپنے موضوع سے ہٹ گئی ہوں۔ فاطمہ کے مطابق یہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ اپنے افراد کی حفاظت کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائے۔

فاطمہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی یہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔

وہ اس پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ کیوں ارباب اختیار سادہ زندگی بسر نہیں کرتے۔ کیوں پروٹوکول استعمال ہوتا ہے؟

فاطمہ کے یہ سوالات بالکل درست ہیں۔ یہ سوال میرا چھوٹا بھائی بھی کرتا ہے۔ وہ یہ سوالات عمران خان کی محبت میں سر شار ہو کر بھی کرتا ہے۔

سوال بالکل درست ہیں اور مییری یہ خواہش ہے کہ پا کستان قائداعظم اور اقبال کے تصور کا پاکستان بن جائے۔ وہ پاکستان جس میں سب انسان برابر ہوں اور وہ پا کستان جس مقصد کے لئے اللہ نے ہمیں زمین کا یہ ٹکرا تحفتاََ دیا ہے۔

یہ سب چیزیں ضروری ہیں۔ لیکن ابھی ہم اسلامی ریاست کے قریب تک نہیں پہنچے۔ ابھی کچھ عرصے پہلے تو ہماری بقا کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ اس ملک کے ڈیفالٹ کی باتیں ہو رہیں تھیں اور اب اللہ نے اس ملک کے حصے میں عزت ڈال دی۔

پاک بھارت جنگ کے بعد اب دنیا ہمیں مختلف نظر سے دیکھنے لگی ہے۔ اب بھی بے تحاشا مشکلات ہیں۔ ریاست مدینہ قائم ہونے سے پہلے مسلمانوں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا اور ثابت قدم رہے۔ ہمیں تو قائداعظم نے پلیٹ میں رکھ کر یہ ملک دے دیا۔

اب بہت کچھ کرنے کا کام باقی ہے۔ ہمیں اپنے حصے کا کام تو کرنا ہے۔ والدین کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے کیونکہ ارسطو کا یہ قول مشہور ہے کہ مجھے بچے کے ابتدائی پانچ سال دے دو جس طرح کا بچہ چاہتے ہو میں بنا دو نگا۔

یہ بات تو اکثر کہی جاتی ہے کہ پہلی درسگاہ بچے کے لئے ان کا گھر ہوتا ہے۔ گھر میں موجود تمام افراد سے بچہ کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے، پھر جب وہ باہر قدم نکالتا ہے تو معاشرہ بھی اس کو بہت کچھ سیکھاتا ہے۔ سکول مں قدم رکھتا ہے تو اساتذہ اس کا رول ماڈل ہوتے ہیں۔ پھر یہ میڈیا۔

اور یہ ریاست جس پر ہر فرد کی حفاظت، تربیت اور ہر طرح کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اب ہر فرد کو ہر نوجوان کو اپنے حصے کا کام کرتے چلے جانا ہے۔ اس وقت تک جب تک ہمارے خوابوں کا پا کستان نہیں بن جاتا۔ اقبال کو تو اپنے نو جوانوں سے بڑی امیدیں تھیں۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنے کشت ویراں سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Check Also

Rishton Ki Bujhti Hui Aanch

By Sher Azam