Friday, 19 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. Toheed Ka Aik Qurani Khutba

Toheed Ka Aik Qurani Khutba

توحید کا ایک قرآنی خطبہ

آج کل میرے مطالعہ میں سورہ نمل ہے، نمل عربی میں چیونٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورت میں ایک چیونٹی، ایک ھدھد، ملکہ سبا، شاہی تخت اور حضرت سلیمانؑ کا واقعہ بیان ہوا ہے، کچھ اور پیغمبران کا تذکرہ بھی آیا ہے۔

سورۃ نمل کے آخر میں رب العزت نے ایک عظیم الشان بلکہ فقید المثال خطبہ دیا ہے جو تین رکوع تک چلا گیا ہے، اس خطبے میں ساری کائنات کے مالک نے ساری کائنات ہی کو مخاطب کیا ہے اور خود توحید کے دلائل دیے ہیں لیکن بڑی عظمت کے ساتھ اور بڑے وقار کے ساتھ، ہر بات اپنی جگہ جچی تلی اور مکمل ہے اور اگلی بات سے متصل بھی ہے البتہ مرکزی خیال توحید ہی ہے۔

اس طرح یہ خطبہ دماغ کے لیے عقل بخش، دل کے لیے حرارت خیز اور روح کے لیے روح افزا ثابت ہوا ہے۔ یہاں پہنچ کر اپنی عربی کی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہوتا ہے کیوں کہ اصل لذت و تاثیر عربی ہی میں ہے، کسی دوسری زبان میں اس بلاغت کا ترجمہ کرنا از حد دشوار ہے، بس ترجمے سے صرف مفہوم ہی ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کے کلام کی خاص صفت ہر قسم کے اثر سے آزاد ہونا ہے، حضرت ﷺ کے کلام (حدیث) پر اللہ تعالی کے رعب اور ڈر کا اثر صاف محسوس ہوتا ہے کیوں کہ ساری مخلوق میں آقاؑ سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا اور کون ہو سکتا ہے، البتہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے جس میں بے نیازی اور بڑائی اور شان ایک ہی وقت میں عروج پہ نظر آتی ہیں۔

خطبہ ملاحظہ فرمائیے لیکن اس سے قبل یہ یاد رہے کہ چوں کہ یہ خطاب حضرت ﷺ کے ذریعے کیا جا رہا ہے اس لیے شروع میں اللہ کی حمد اور اس کے برگزیدہ بندوں پہ سلام بھیج کر گویا یہ ادب سکھایا جا رھا ہے کہ کسی بھی تقریر و وعظ کی ابتدا اللہ تعالی کی حمد اور اس کے پیغمبروں پہ درود و سلام بھیج کر کی جائے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں:

(اے پیغمبر! ) آپ کہہ دیجئے: " تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے! بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے؟ بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا؟ پھر ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے، تمہارے بس میں نہیں تھا تم ان کے درختوں کو اگا سکتے کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ نہیں بلکہ ان لوگوں نے راستے سے منھ موڑ رکھا ہے۔

بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور اس کے بیچ بیچ میں دریا پیدا کیے اور اس (کے ٹھہرنے) کے لیے (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور دو سمندروں کے درمیان ایک آڑ رکھ دی؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ نہیں! بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔ بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بے قرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ نہیں! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں تمہیں راستہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے جو تمہیں (بارش کی) خوش خبری دیتی ہیں؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ (نہیں، بلکہ) اللہ اس شرک سے بہت بالا و برتر ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔ بھلا وہ کون ہے جس نے ساری مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق فراہم کرتا ہے؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ (اے محمد! ) آپ کہہ دیجئے " لاؤ اپنی کوئی دلیل اگر تم سچے ہو"، (اے محمد! ) آپ کہہ دیجئے کہ " اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا " بلکہ آخرت کے بارے میں ان (کافروں) کا علم بے بس ہو کر رہ گیا ہے، بلکہ وہ اس بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بلکہ اس سے اندھے ہو چکے ہیں۔

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ "کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادے مٹی ہو چکے ہوں گے تو کیا اس وقت واقعی ہمیں (قبروں سے) نکالا جائے گا؟ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے اس قسم کے وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے (لیکن) ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ قصہ کہانیاں ہیں جو پرانے زمانے کے لوگوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں"، (اے محمد! ) آپ کہہ دیجئے "ذرا زمین میں سفر کرکے دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا ہے " اور (اے محمد! ) آپ ان لوگوں پر غم نہ کیجئے اور یہ جس مکاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے گھٹن محسوس نہ کیجئے یہ (آپ سے) یوں کہتے ہیں "یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو"، کہہ دیجئے " کچھ بعید نہیں ہے کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے بالکل پاس آ لگا ہو " اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار وہ ساری باتیں بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور وہ باتیں بھی جو وہ اعلانیہ کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو، واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن بنو اسرائیل کے سامنے اکثر ان باتوں کی حقیقت واضح کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے تھے اور یقیناََ یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے اور آپ کا پروردگار یقیناََ ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا اور وہ بڑا اقتدار والا، بڑا علم والا ہے، لہذا (اے پیغمبر! ) آپ اللہ پر بھروسہ رکھیے، یقیناََ آپ ہی کھلے کھلے حق پر ہیں، یاد رکھیے آپ مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راستے پر لا سکتے ہیں، آپ تو ان ہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر وہی لوگ فرماں بردار ہوں گے۔

اور جب (ہماری) بات پوری ہونے کا وقت ان لوگوں پر آ پہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اس دن کو نہ بھولو جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی پوری فوج کو گھیر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کی جماعت بندی کی جائے گی، یہاں تک کہ جب سب آ جائیں گے تو اللہ کہے گا " کیا تم نے میری آیتوں کو پوری طرح سمجھے بغیر ہی جھٹلا دیا تھا یا کیا کرتے رہے تھے " اور انہوں نے جو ظلم کیا تھا اس کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہو جائے گی، چناں چہ وہ کچھ بول نہیں سکیں گے، کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے رات اس لیے بنائی ہے کہ وہ اس میں سکون حاصل کریں اور دن اس طرح بنایا ہے کہ اس میں چیزیں دکھائی دیں، یقیناََ اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

اور جس دن صور پھونکا جائے گا، تو آسمانوں اور زمین کے سب رہنے والے گھبرا اٹھیں گے، ۔۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا اور سب اس کے پاس جھکے ہوئے حاضر ہوں گے، تم (آج) پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو کہ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں، حال آں کہ (اس وقت) وہ اس طرح پھر رہے ہوں گے جیسے بادل پھرتے ہیں، یہ سب اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مستحکم طریقے سے بنایا ہے، یقیناََ اسے پوری خبر ہے کہ تم کیا کام کرتے ہو، جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو منھ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا، تمہیں کسی اور بات کی نہیں ان ہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔ (اے پیغمبر! ان سے کہہ دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو حرمت بخشی ہے اور ہر چیز کا مالک وہی ہے اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداروں میں شامل رہوں اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں"، اب جو شخص ہدایت کے راستے پر آئے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے راستے پر آئے گا اور جو گمراہی اختیار کرے تو کہہ دینا کہ: "میں تو بس ان لوگوں میں سے ہوں جو خبردار کرتے ہیں"، (اے محمد! ) کہہ دیجیے کہ "تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، پھر تم انہیں پہچان بھی لو گے اور تمہارا پروردگار تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں ہے"۔

(آیت 59 تا 93)

اللہ تعالی سب کو عمل کی توفیق بخشیں، آمین۔

Check Also

Aalmi Tanhai Se Aalmi Salisi Tak

By Muhammad Riaz