Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. Navadarat Khalifa Mansoor Abbasi

Navadarat Khalifa Mansoor Abbasi

نوادرات خلیفہ منصور عباسی

عبداللہ سفاح پہلا عباسی خلیفہ تھا، وہ اپنی قتل و غارت گری کی عادت سے بھی مشہور ہوا، اس کے مرنے کے بعد اس کا سگا بھائی ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا، ابو جعفر منصور عمر میں سفاح سے بڑا تھا لیکن خلافت بعد کو ملی، بعض تاریخی خامیوں کے باوجود منصور سے کچھ عجیب باتیں وقوع پذیر ہوئیں، مثال کے طور پر جب حضرت ابراہیم بن عبداللہ نے اس کے خلاف خروج کیا تو وہ کوفہ میں مقیم تھا، اس نے شہر میں کرفیو نافذ کیا اور تمام اہل شہر کو حکم دیا کہ سیاہ لباس پہنیں، لوگوں کی یہ حالت ہوئی کہ سیاہی سے کپڑے رنگ کر پہننے لگے۔

153 ہجری میں جب منصور حج سے فارغ ہو کر بصرہ آیا تو تمام شہر والوں کو اونچی ٹوپیاں پہننے کا حکم دیا، لوگوں نے ٹوپی کا طول نمایاں کرنے کے لیے اندر سرکنڈے رکھنے شروع کر دیے، اس پر ابو دلامہ نے طنزیہ شعر کہا:

(ترجمہ) "ہم اپنے امام سے کچھ اضافہ چاہتے تھے پس ہمارے برگزیدہ امام نے ٹوپیوں میں زیادتی کر دی، اب وہ اس قدر طویل ہوگئی ہیں کہ لوگوں کے سروں پہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہودیوں کے شراب کے مٹکے رکھے ہوں"۔

دو برس بعد منصور کو کوفہ و بصرہ کے چہار طرف فصیل و خندق کھدوانے کا خیال ہوا، اس کا طریق یہ رکھا کہ پہلے دونوں شہروں کے باشندوں پہ پانچ درہم عائد کیے، جتنے انہوں نے یہ درہم جمع کرائے اتنے میں سرکاری کارندوں نے تمام آبادی کا شمار کر لیا، چناں چہ بعد ازاں ہر شخص سے چالیس درہم وصول کیے، اس پہ کسی دل جلے نے شعر کہا: (ترجمہ) "امیر المومنین نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا کہ پہلے تو ہم پر پانچ پانچ درہم عائد کیے اور پھر چالیس چالیس وصول کیے"۔

ایک روز جی میں کیا آئی کے تمام فوج کا معائنہ کیا لیکن اس حالت میں کہ سپاہی مسلح تھے، منصور فوجی لباس میں تھا اور تمام اعزا، اقرباء، مصاحبین، دوست اور درباری بھی سپاہیانہ سج دھج میں تھے، یہ شغل دریائے دجلہ کے کنارے ایک درے کی بیٹھک میں ہوا اور سال تھا 157 ہجری کا۔

منصور کے پاس ایک پٹارہ تھا جس میں اس کے علم کا سارا دفتر محفوظ تھا، وہ اپنے سوا کسی کو اسے کھولنے نہ دیتا اور کنجی بھی جیب میں خاص طریقے سے محفوظ رکھتا، جب مرض الموت واقع ہوا تو اپنے بیٹے مہدی کو بلایا اور پٹارہ حوالے کرکے نصیحت کی "اس کی اچھی طرح حفاظت رکھنا کیوں کہ اس میں تمہارے آباء کا تمام علمی ذخیرہ محفوظ ہے، جو واقعات ہو چکے اور جو آئندہ قیامت تک پیش آئیں گے وہ سب اس میں درج ہیں، اگر کسی معاملہ میں دشواری ہو تو اس کے متعلق پہلے بڑے دفتر (رجسٹر) میں دیکھنا، حل معلوم ہو جائے تو ٹھیک ورنہ دوسرے میں تلاش کرنا، یہاں تک کہ ساتوں دفتر ختم ہو جائیں، اگر ان میں سے کسی میں بھی وہ بات معلوم نہ ہو تو پھر چھوٹی بیاض دیکھنا، اس میں ضرور معلوم ہو جائے گی، مگر مجھے اندیشہ ہے تم اس پر عمل نہ کرو گے"۔

میں نے یہ حکایت "تاریخ الامم والملوک" میں پڑھی اور حیرت انگیز کہ اگر میں اتنی عظیم و ضخیم کتاب میں یہ نہ دیکھ لیتا تو کبھی یقین نہ کرتا۔ تاریخ الامم وہ معتبر اور ثقہ کتاب ہے کہ بعد کے تمام مورخین نے استفادہ کیا ہے، اس سے بھی بڑھ کر آئینہ منصور کی روایت ہے جو عبید اللہ بن محمد سے مروی ہے، منصور کے پاس ایک ایسا آئینہ تھا جس سے وہ مخالف و موافق میں تمیز کر لیتا تھا، میں نے جب یہ روایت پڑھی تو عمرو عیار کی زنبیل، طلسم ہوش ربا کی کہانیاں اور الف لیلی کی داستانیں یاد آنے لگیں۔

ستم ظریفی ہوگی کہ اگر میں آئینہ منصور کا اختصاریہ قارئین کو نہ سناؤں۔

راوی کہتا ہے: "جب اللہ تعالی نے حضرت آدمؑ کو جنت سے اتار کر جبل ابو قیس پر کھڑا کیا تو تمام سطح زمین ان کے سامنے آیا، اللہ نے فرمایا یہ ساری زمین تمہارے لیے ہے، آدم نے کہا اے میرے پروردگار! میں کیوں کر جان سکوں گا کہ اس زمین میں کیا ہے؟ چناں چہ اللہ تعالی نے آسمان سے ایک آئینہ نازل فرمایا جس میں وہ تمام زمین کے واقعات دیکھ لیتے تھے، ان کے انتقال کے بعد قفطس شیطان نے اس آئینہ پر قبضہ کرکے اسے توڑ ڈالا اور بعد ازاں سرزمین مشرق میں ایک شہر جابرت نام بسایا، حضرت سلیمانؑ نے جب اس آئینہ کو دریافت کیا تو لوگوں نے کہا کہ وہ قفطس لے گیا، آپ نے اسے بلا کر پوچھا، اس نے کہا وہ شہر جابرت کی بنیادوں میں موجود ہے، آپ نے کہا کہ وہ لے کر آ، اس نے کہا مگر ان بنیادوں کو کون منہدم کر سکے گا، لوگوں نے آپ سے کہا کہ آپ اس شیطان سے کہیے کہ تو ہی یہ کام بھی کر، چناں چہ وہ شیطان اس آئینہ کو حضرت سلیمانؑ کے پاس لے آیا، حضرت سلیمان نے اس کے ٹکڑوں کو جوڑ کر چاروں طرف تسمے باندھے، اب وہ تمام جہان کی سیر اس میں کرنے لگے، آپ کے انتقال کے بعد بہت سے شیطان اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے لے گئے، ایک ٹکڑا بچ گیا جو بنی اسرائیل میں متوارث ہوتا ہوا قبیلہ جالوت کے سردار کے پاس آیا، وہ اسے مروان بن محمد کے پاس لایا، اس نے اسے رگڑ کر ایک دوسرے ائینہ پر چڑھا کر جب دیکھا تو اس میں سے اپنے متعلق خلاف منشا واقعات نظر آئے، مروان نے اسے پھینک دیا اور بنی جالوت کے سردار کو قتل کرا دیا پھر آئینہ اپنی ایک جاریہ کو دے دیا، اس نے ایک تھیلی میں بند کرکے کوٹھڑی میں مقفل کر دیا، ابو جعفر نے خلیفہ ہونے کے بعد دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ فلاں عورت کے پاس ہے، چناں چہ اس کی تلاش ہوئی اور مل گیا، ابو جعفر بھی یہ کرتے کہ اسے رگڑ کر صاف کرکے دوسرے آئینہ پر رکھتے اور اس میں تمام زمین کی سیر کر لیتے تھے"۔

یہ روایت تاریخی ہے، قدیم ہے، قدرے مبالغہ آمیز بھی ہو سکتی ہے، اس کے باوجود تھوڑی دیر کے لیے دل پہ چپکتی ضرور ہے۔

Check Also

Naseeb Ki Makhi

By Javed Chaudhry