Tuesday, 09 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. Muash e Nabvi (1)

Muash e Nabvi (1)

معاش نبوی ﷺ (1)

عام مسلمان سمجھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی ساری زندگی فقر، فاقے، غربت اور تنگی میں گزاری۔ یہ خیال مکمل درست نہیں اگرچہ آپؑ کی حیات میں اکثر ایسا ہوا بھی کہ فقر و فاقہ ہی زندگی کا ہم دم تھا۔ اللہ کے آخری نبی کے پاس سونا چاندی، درہم و دراہم اور دنیاوی دولت و ثروت بھی خوب تھی جیسا کہ آنے والی سطور سے ظاہر ہوگا، بلاشبہ مال اگر جائز ذرائع سے حاصل ہو تو اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے اور اللہ تعالی نے ہر خیر کی طرح اس سے بھی محبوب کو بہ کثرت نوازا تھا

دیر و حرم میں روشنی شمس و قمر سے ہو تو کیا
مجھ کو تو تم پسند ہو اپنی نظر کو کیا کروں

نبوت سے پہلے آپؑ ہر سال رمضان میں غار حرا میں مراقبہ و عبادت کرتے اور اس کے اختتام پہ بلا ناغہ مساکین کو کھانا کھلاتے۔

آپؑ کی پہلی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی، اس نکاح میں حضرت خدیجہ کا مہر بیس پلی ہوئی اونٹنیاں تھا، آپ نے یہ مہر ادا بھی کیا، (آج کل کے اعتبار سے قیمت لاکھوں میں بنتی ہے)، اس کے علاوہ ولیمے میں کھانے پینے کا انتظام کیا اور سسرالی رشتہ داروں کو اعزاز و اکرام کے طور پر حلہ (ایک لباس) بھی پہنایا۔

حضرت خدیجہ ہی سے نکاح کے بعد کسی وقت آپؑ نے حضرت علیؓ کا بار کفالت کندھوں پہ لے لیا جس سے آپ کے محسن چچا ابو طالب کو سہارا ملا۔

مکی زندگی میں حضرت زید بن ثابتؓ آپ کے غلام تھے جنہیں آپ نے حضرت خدیجہ سے مانگ لیا تھا اور پھر آزاد کر دیا۔ حضرت زید، ان کی اہلیہ حضرت ام ایمن اور ان کے صاحب زادے حضرت اسامہ تینوں آپؑ کے زیر کفالت زندگی گزارتے۔ دیگر غلاموں میں حضرت ابو کبشہؓ، حضرت انسہؓ، حضرت صالح شقرانؓ اور حضرت سفینہؓ کے نام مشہور ہیں۔ یہ سب آپ کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن سب آپ ہی کے زیر کفالت رہتے یعنی آپ ان کا خرچ اٹھاتے۔

سورہ شعراء کی جب یہ آیت کہ "اے محمد! اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ تعالی سے ڈرائیے" نازل ہوئی تو آپؑ نے حضرت علی کے ذریعہ ایک صاع (تقریبا تین کلو) کھانے کا انتظام کیا، پھر اس پہ ایک سالم پکی ہوئی بکری رکھوائی اور ساتھ ہی دودھ کی بھری لگن (پرانت) رکھی، پھر بنو عبدالمطلب کو خورد و نوش کی دعوت دی، چالیس آدمی اکٹھے ہوئے، جی بھر کے کھایا پیا لیکن ابو لہب نے مجلس بہکا دی اور آپ بات پیش نہ کر سکے، اگلے دن پھر خورد و نوش کا انتظام کیا اور اپنی تبلیغی دعوت پیش کی، دونوں ضیافتوں پر ذاتی مال سے خرچ کیا۔

ابن اسحاق نے ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ آپؑ نے اپنی برادری، اپنی بیٹی اور پھوپھی سے مخاطب ہو کر فرمایا "تم لوگ اپنے کو اللہ تعالی کی پکڑ سے بچاؤ کیوں کہ میں تمہیں اللہ تعالی کی گرفت سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا، البتہ میرے مال میں سے تم جو چاہو مجھ سے مانگ سکتے ہو"، روایت کے آخری حصے پہ غور کیجئے مال دینے کی پیشکش کوئی ایسا ہی شخص کر سکتا ہے جس کے پاس مال ہو۔

سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ آپؑ سخی، فیاض، مہمان نواز، ناداروں کی مدد کرنے والے اور اجنبیوں، مسافروں کو مادی راحت پہنچانے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ غار حرا میں جب پہلی وحی نازل ہوئی تو گھبراہٹ کے عالم میں گھر تشریف لائے، حضرت خدیجہ نے مذکورہ بالا صفات یاد دلا کر ڈھارس بندھائی۔

مولانا حالی اس کی شہادت یوں دیتے ہیں:

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماوی
یتیموں کا والی غلاموں کا مولی

ہجرت کا سفر جس اونٹنی پہ کیا وہ چار سو درہم قرض پہ خریدی تھی، آپ کے جتنے بھی نکاح ہوئے ان سب میں ازواج مطہرات کو مہر دیا، ولیمے اور کفاف کا انتظام بھی کیا، آپ کو اللہ تعالی نے جتنے بھی شاہ زادے اور شاہ زادیاں عطا کیں سب کا عقیقہ کیا، جتنی بھی شاہ زادیوں کا نکاح کیا سامان نکاح کے علاوہ کھانے پینے کا اہتمام کیا، ہم جانتے ہیں ان امور کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔

حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن تبلیغ تھا، اس کے لیے آپ نے بہت سے افراد اور جماعتوں کی ضیافت کی، تفصیل بڑی کتابوں میں ہے، ضیافتوں پر مال کا خرچ ہونا ظاہر ہے۔

Check Also

Maholiyati Bohran: Khamosh Tabahi Aur Ijtemai Zimmedari

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi