Jadu Aur Tibb
جادو اور طب

اسلام کے ابتدائی دو سو سال میں دو بغاوتیں ایسی بھی ہوئیں کہ جن میں فنون کا سہارا لیا گیا۔ 119 ہجری میں مغیرہ بن سعید نے کوفہ میں خروج کیا، یہ شخص سحر اور جادو سیکھا ہوا تھا، کہا کرتا "اس فن سے قوم عاد و ثمود کے مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہوں"، یہ قبروں پہ جا کے عجیب کلمات کہتا جن سے ان پہ ٹڈیوں جیسے جان دار نظر آتے، اپنے پاس آنے والوں کو بتا دیتا کہ تم گھر میں اپنی خادمہ کو کیا کہہ کر آئے ہو یا تمہارے والدین نے یہ نام کیوں رکھا ہے، وغیرہ۔ جب اس نے بغاوت برپا کی تو سات آدمی ساتھ تھے، کوفہ کے عامل (گورنر) نے گرفتار کرکے پھانسی دے دی۔
دوسری مثال ابن المقنع کی ہے، یہ شخص طبیب تھا، خراسان کے کسی گاؤں میں پیدا ہوا، بچپن ہی سے بدصورت تھا، پستہ قد اور یک چشم بھی، لوگ قریب نہ آنے دیتے، اس نے فیصلہ کیا کہ جو دور ہٹاتے ہیں ان ہی پر حکم رانی کروں گا، بستی سے نکل گیا اور طب و کیمیا گری سمیت فنون سیکھتا رہا، واپس آیا تو سونے کا نقاب اوڑھ کر نبوت کا دعوی کر دیا، معجزے کے طور پہ عجیب عجیب کرتب دکھاتا، کچھ عرصہ بعد خدائی کا دعوی کردیا اور یہ عقیدہ پھیلایا کہ میرے اندر خدا کی روح سمائی ہے، سینکڑوں خراسانی مرید ہوگئے، سجدہ کرنے لگے، ابن المقنع نے نشانی کے طور پر نخشبت کا چاند چڑھایا، نخشب ایک علاقے کا نام ہے، وہاں ایک کنواں تھا، جس سے اندھیری راتوں میں ایک چاند طلوع ہوتا اور چھ میل تک بلند ہو جاتا، تقریباً پندرہ میل تک اس کی روشنی پھیلتی، یہ چاند پارے اور چاندی کی آمیزش سے تیار کیا گیا تھا اور اس زمانے کی سائنس کا کرشمہ تھا۔
ابن المقنع کی سرکوبی کے لیے کئی مہمات بھیجی گئیں لیکن وہ قابو نہ آیا، آخر 163 ہجری میں ایک قلعے میں محسور ہوگیا، جب اسے یقین ہوگیا کہ شاہی فوج اب آ دبوچے گی تو خودکشی کر لی، اس کے ساتھ ہی چاہ نخشب اور ماہ نخشب کا قصہ بھی تمام ہوا۔
جادو ناپسندیدہ بلکہ حرام ہے البتہ لحاظ کے قابل یہ ہے کہ بارہ سو سال قبل ہمارے کیمیا گر اس مقام پہ پہنچ چکے تھے کہ مصنوعی چاند بنا کر کام لے لیں۔
ماخذات: اطبا کے حیرت انگیز کارنامے (پروفیسر عبدالناصر فاروقی)، اسلامی طب شاہانہ سرپرستیوں میں (مولانا معین الدین احمد)، تاریخ الامم والملوک (امام طبری)، تاریخ الکامل (علامہ ابن اثیر)۔

