Naat Ka Daira e Kar
نعت کا دائرہ کار

نعت ایسی صنف سخن ہے جو کسی بھی ہیئت کی پابند نہیں ہے۔ نعت کا اگر سیدھا سا مفہوم لیا جائے یا لفظی مطلب اخذ کیا جائے تو ایسی نظم ہے جس میں تعریف بیان کی جائے۔ ہم اصطلاحاً اس نظم کو آنحضرت ﷺ سے منسوب کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے علاوہ اگر کسی بزرگ یا شخص کی تعریف بیان کی جائے تو وہ منقبت کہلائے گی۔ ایک اور بہت اہم بات یہ ہے کہ ہم نعت سے مراد صرف شاعری ہی لیتے ہیں، جبکہ آقائے دو جہاں ﷺ کی تعریف (شاعری یا نثر) جس انداز میں بھی کی جائے وہ نعت ہی کہلائے گی۔ آپ چند اشعار خلق کریں یا نثر کے چند جملے تحریر فرمالیں وہ نعت کے درجے پر فائز ہو جائیں گے۔ اس طرح یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ نعت کا کسی بھی ہیئت سے تعلق مخصوص نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ نعت کے موضوع کے ساتھ بھی بہت نا انصافی کی جاتی ہے۔ اس میں صرف حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور ان کی آل کا ذکر کرکے کام چلا لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ موضوع بہت ہی وسیع تر ہے۔ بعض شعراء نے محض حضور اکرم ﷺ کے حلیہ اقدس، واقعہ معراج اور معجزات ہی کو اپنا مرکز بنایا ہے لیکن نعت کا موضوع اور اس کا دائرہ کار اس سے بہت وسیع ہے۔ اس میں شمائل و فضائل کے ساتھ ساتھ معمولات نبوی، غزوات نبوی، عبادات نبوی، آدابِ مجالس نبوی، حسن عمل، حسن سلوک، حسن خیال، حسن بیان اور حسن معاملہ سے لے کر عدل وانصاف، ایثار و قربانی، سادگی و بے تکلفی، شرم و حیا، شجاعت و دیانت، عزم و استقلال، مہمان نوازی اور ایفائے عہد، زہد و قناعت، عفو و رحم، شفقت و محبت، عبادت و تعزیت اور انسانی ہمدردی وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے انداز ہوتا ہے کہ نعت کا موضوع متنوع ہے تنگ نہیں۔ ہم نے اس موضوع کو تنگ بڑی محنت سے بنایا ہے، لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں کہ ہمارے یہاں نعتیہ شاعری، کلام و نثر وغیرہ کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا ہے۔ نوجوان نسل تو خاص طور پر اس صنف سے کوسوں دور چلی گئی ہے۔
بہر حال موضوع اپنی نوعیت کے اعتبار سے بے حد وسیع ہے۔ اسی طرح نعت ایسی صنف سخن ہے جو کسی بھی ہیئت میں لکھی جا سکتی ہے۔ مثنوی قصیدہ، غزل، رباعی، قطعہ یا مسدس و مخمس وغیرہ میں سے کسی بھی ہیئت کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
فارسی، عربی اور اردو میں جس قدر نعتیہ کلام محفوظ ہے دنیا کی کسی اور زبان میں ہر گز نہیں ہے۔ لیکن بد قسمتی سے جب اسلامی اقدار اور روایات کی بات آتی ہے یا اسلامی تاریخ ورق پلٹتی ہے تو ہم بحیثیت قوم اور اُمت اس سے روگردانی کر جاتے ہیں۔ نظام اور سہولیات نے ہمارے اذہان کو مصروف اور پر گندہ کر دیا ہے۔ موجودہ مشینی اور سوشل میڈیائی دور نے ہمیں ناچ گانے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پھر ایسی قوموں کا حشر نشر ایک طرح سے طے ہوتا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ان روایات کو جانچیں اور پرکھیں بلکہ زندہ کریں۔
ایک مسلمان کے لیے توحید اور رسالت ہی وہ دو ایسے راستے یا ستون ہیں جو کامرانی کی طرف جاتے ہیں۔ توحید اور رسالت دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ٹھہرتے ہیں۔ رسالت کے معاملے میں ہم کسی قدر سست روی کا شکار ہیں۔ شاید زمانے کی افراتفریوں نے ہمیں بوجھل کر دیا ہے۔ آئیں عہد کریں کہ نعت کو ہر ایک صنف سخن کے اندر لکھیں اور نثر کے دائرہ کار کے اندر بھی اس کو جگہ دیں۔ یہی دو راستے ہیں کہ جو ہماری اسلامی اقدار و روایات کو زندہ کر سکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

