Sunday, 01 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imtiaz Ahmad
  4. Anees Ashfaq Ka Novel Heech

Anees Ashfaq Ka Novel Heech

انیس اشفاق کا ناول "ہیچ"

انیس اشفاق کا ناول ہیچ ان کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لکھنوی تہذیب، امام باڑے، مجالس، شیعہ سنی فسادات، برصغیر کی تقسیم اور اس تقسیم سے پیدا ہونے والا کرب، مرد کے شانہ بہ شانہ چلتی، بھاگتی ہوئی عورت شہلا کے روپ میں قاری کو متاثر کرتی ہے۔ انیس اشفاق جو غالباً ناول میں کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ دینے میں مہارت رکھتے ہیں، اپنے جذبات کو مچلنے نہیں دیتے ہیں۔ کہتے ہیں ادیب کسی سرحد کا پابند نہیں ہوتا، وہ جو محسوس کرتا ہے، جس کا مشاہدہ کرتا ہے یا جسے دل کی آنکھ سے دیکھتا ہے اسے خاموشی سے کاغذ پہ اتار دیتا ہے۔

ادب سے درست طور پر وابستہ شخصیت میں علاقائی رنگ کے بجائے اس کی سرشت میں عالمگیریت رکھی گئی ہوتی ہے۔ برصغیر کی تقسیم پر وہ افسردہ ہیں۔ انہوں نے جو درد قاری کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کی ہے وہ دونوں اطراف کا دکھ ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں حکومتوں کے حصول کے لیے کی جانے والی سازشوں سے وہ آزردہ نظر آتے ہیں۔ لکھنؤی تہذیب کے اجڑنے پر بھی وہ ماتم کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ناول میں تقسیم کے بعد دونوں اطراف میں پیدا ہونے والا اضطراب، ہجرت کی ہولناکیاں، آہ و بکا، کرب، ماتم، افسردگی، موت، اپنوں کو گھر چھوڑ کے جاتے ہوئے آخری بار دیکھنے کا رنج جس انداز میں بیان کیا گیا ہے وہ قابل دید ہے۔

شہلا کا کردار انتہائی جاندار ہے۔ اس کردار نے ثابت کیا ہے کہ عورت مرد کے شانہ بہ شانہ چل سکتی ہے بلکہ بعض موقعوں پر وہ مرد سے بھی سبقت لے جاتی ہے۔ کچھ کر گزرنے کی تڑپ لیے شہلا کا کردار ناول میں تانیثی رنگ کو ابھارتا ہے۔ جنگ، کرفیو، فاقہ کشی، ہجرت، فسادات، تنہائی جیسے مناظر گویا قاری کو بار بار اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اسے کچوکے لگاتے ہیں۔ مصنف نے بڑی نفاست اور مہارت سے دونوں اطراف کے ادیبوں سے ان کے قلم کی آزادی کے چھن جانے کا نوحہ بیان کیا ہے۔ فوجی آمروں اور ان کی قائم کردہ خود ساختہ حکومتوں سے بھی وہ نالاں دکھی ہیں۔

زرد صحافت پر بھی انیس اشفاق خاموش نہیں رہے، ان کا اعتقاد ہے کہ ایک صحافی کی زبان اور ہاتھ بکے ہوئے نہ ہوں اور نہ کسی حکم کے پابند۔ مجموعی طور پر ناول کا پلاٹ چست اور اسلوب جاندار ہے۔ انیس اشفاق وسیع ڈکشن رکھتے ہیں۔ ناول کے نسائی کردار زیادہ متحرک اور آزاد معلوم ہوتے ہیں۔ مکالمے معیاری اور زبان سلیس ہے جس سے قاری کی توجہ اور انہماک مسلسل بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ انیس اشفاق نے ہیچ میں بھی جادوئی حقیقت نگاری اور مکتوب نگاری کی تکنیک کو بڑی نفاست اور شائستگی کے ساتھ برتا ہے۔ منظر نگاری، تمثال نگاری نے ناول کی فضاء کو مزید معطر کیا ہے۔ ناول کے جملے انتہائی سادہ اور چھوٹے ہیں جنہیں قاری کو سمجھنے میں دقت محسوس نہیں ہوتی۔

کہانی کا بیان کنندہ شہنو اپنے لیے واحد متکلم کا صیغہ منتخب کرکے بڑی بے باکی سے اپنی دلی کیفیات (آپ بیتی) سناتا ہے، جس کا غم دوراں قاری محسوس بھی کرتا ہے اور اسے نظر بھی آتا ہے۔ برصغیر کی تاریخ کو قرات العین حیدر، عبداللہ حسین، مستنصر حسین تارڑ اور شوکت صدیقی نے بھی بیان کیا ہے لیکن جو باتیں رہ گئی تھیں انہیں انیس اشفاق نے "ہیچ" میں بیان کر دیا ہے۔ بلاشبہ انیس اشفاق اردو ادب میں بلند قد و قامت اور الگ شناخت رکھتے ہیں۔

جنم بھومی سے محبت انسانوں اور حیوانوں کے لیے ایک فطری عمل ہے۔ ہیچ میں خاندان کے مختلف لوگوں کا گھر چھوڑ کر جانا اور اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جانا کسی قیامت سے کم نہیں۔ پرندوں اور درختوں سے محبت یہ بتائی ہے کہ ادیب معاشرے کے حساس لوگ ہوتے ہیں۔ انیس اشفاق کی آپ بیتی (ہیچ) کا مطالعہ کریں تو حرف حرف لہو کی زیر زبر کے ساتھ اپنی نوک پلک سنوارے ہوئے ہے۔

Check Also

Sajdon Ki Roshni Ya Screen Ki Chamak?

By Komal Shahzadi