Youm e Ilhaq e Pakistan: Tareekh Ke Aaine Mein Aik Ehad Ki Tajdeed
یومِ الحاقِ پاکستان: تاریخ کے آئینے میں ایک عہد کی تجدید

تاریخ کبھی محض واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ قوموں کے شعور، فیصلوں اور مستقبل کا تعین بھی کرتی ہے۔ 19 جولائی کا دن ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اسی روز 1947ء میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سری نگر میں ایک تاریخی اجلاس منعقد کرکے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد برصغیر کی تقسیم سے تقریباً ایک ماہ قبل منظور ہوئی اور اس نے واضح کر دیا کہ ریاست کے مسلمانوں کی ایک بڑی سیاسی قیادت اپنے مستقبل کو پاکستان کے ساتھ وابستہ دیکھتی تھی۔
اس قرارداد کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے اوراق چند برس پیچھے پلٹنا ہوں گے۔ 1846ء میں معاہدۂ امرتسر کے تحت برطانوی حکومت نے جموں و کشمیر کا وسیع خطہ ڈوگرہ حکمران مہاراجہ گلاب سنگھ کے حوالے کیا۔ یوں ایک ایسی ریاست وجود میں آئی جس میں مسلمان آبادی اکثریت میں تھی، مگر اقتدار ایک ہندو ڈوگرہ خاندان کے ہاتھ میں رہا۔ تقریباً ایک صدی تک جاری رہنے والی اس حکمرانی کے دوران متعدد مؤرخین نے مسلمانوں کی سیاسی اور معاشی محرومیوں کا ذکر کیا ہے، جس کے باعث عوام میں سیاسی بیداری بتدریج فروغ پاتی رہی۔
1931ء کو کشمیر کی جدید سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ 13 جولائی 1931ء کے واقعات نے ریاست میں عوامی سیاسی تحریک کو نئی زندگی بخشی۔ اسی سیاسی شعور کے نتیجے میں 1932ء میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس قائم ہوئی جس کی قیادت چوہدری غلام عباس اور شیخ محمد عبداللہ جیسے رہنماؤں نے کی۔ 1939ء میں شیخ محمد عبداللہ نے مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی قیادت سنبھالی، جبکہ چوہدری غلام عباس کی قیادت میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے اپنی الگ سیاسی شناخت برقرار رکھی۔ بعد ازاں اسی مسلم کانفرنس نے 19 جولائی 1947ء کو پاکستان سے الحاق کی تاریخی قرارداد منظور کی۔
1940ء میں قراردادِ لاہور کی منظوری نے برصغیر کی سیاست کا رخ بدل دیا۔ دو قومی نظریے کے تناظر میں ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں میں بھی یہ احساس مضبوط ہوا کہ مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے ان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے۔ یہی سوچ 19 جولائی 1947ء کی قرارداد میں پوری قوت سے سامنے آئی۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے منصوبے کے مطابق ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے یا مخصوص حالات میں اپنا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت، پاکستان کے ساتھ زمینی راستے، دریاؤں کا قدرتی نظام، راولپنڈی اور سیالکوٹ کے ساتھ تجارتی روابط اور آبادی کی مسلم اکثریت وہ عوامل تھے جنہوں نے پاکستان سے الحاق کے حق میں مضبوط دلائل فراہم کیے۔
19 جولائی 1947ء کو منظور ہونے والی قرارداد میں مسلم کانفرنس نے باضابطہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس تاریخی اجلاس کی صدارت سردار محمد ابراہیم خان نے کی، جو بعد میں آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کے پہلے صدر بھی بنے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ہر سال اس دن کو قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔
تقسیمِ ہند کے بعد اکتوبر 1947ء میں حالات نے تیزی سے رخ بدلا۔ 24 اکتوبر 1947ء کو آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کے قیام کا اعلان کیا گیا، جبکہ یکم جنوری 1948ء کو پاکستان نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش کیا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں کشمیری عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا حق دینے کی بات کی گئی۔ انہی قراردادوں کا حوالہ پاکستان آج بھی اپنے سفارتی مؤقف میں دیتا ہے۔
بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ جنوبی ایشیا کے امن، سلامتی اور ترقی سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ بن گیا۔ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں کے دوران متعدد جنگیں، سرحدی کشیدگیاں اور سیاسی بحران اس مسئلے کے گرد گھومتے رہے، مگر اس کا مستقل حل ابھی تک سامنے نہیں آسکا۔
یومِ الحاقِ پاکستان مناتے ہوئے ہمیں صرف ماضی پر فخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ حال اور مستقبل کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی نئی نسل کو تاریخ کے مستند حقائق سے روشناس کرا رہے ہیں؟ کیا ہماری جامعات اور تعلیمی ادارے تحقیق اور علمی مکالمے کو فروغ دے رہے ہیں؟ کیا نوجوانوں کو صرف جذبات نہیں بلکہ آئینی، تاریخی اور سفارتی پہلو بھی سکھائے جا رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس خلا کو پُر کریں۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ قربانی، ثقافت، مذہب، زبان اور مشترکہ تاریخ کا بھی رشتہ ہے۔ لاکھوں کشمیری خاندانوں کے خونی رشتے پاکستان کے مختلف شہروں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 19 جولائی کو منایا جانے والا یومِ الحاقِ پاکستان دونوں خطوں کے عوام کے درمیان اس تاریخی تعلق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، سفارت کاری کے انداز تبدیل ہو رہے ہیں اور معلومات کی جنگ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو تحقیق، دلیل اور ذمہ داری کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جذبات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر قومی بیانیہ ہمیشہ مستند تاریخ، آئینی دلائل اور علمی تحقیق کی بنیاد پر زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
19 جولائی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں اپنے تاریخی فیصلوں کو فراموش نہیں کرتیں۔ یہ دن ایک قرارداد سے بڑھ کر ایک سیاسی عہد، ایک تاریخی حوالہ اور ایک نظریاتی وابستگی کی علامت ہے۔ نئی نسل کا فرض ہے کہ وہ اپنی تاریخ کو پڑھے، سمجھے اور تحقیق کی روشنی میں آگے بڑھائے، کیونکہ مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر حال کو سنوارتے ہیں۔
پاکستان زندہ باد، کشمیر پائندہ باد۔

