Epstein Files, Aalmi Ashrafia Aur Pakistani Liberals Ki Khamoshi
ایپسٹین فائلز، عالمی اشرافیہ اور پاکستانی لبرلز کی خاموشی

ایپسٹین فائلز کے حالیہ انکشافات محض ایک اور بین الاقوامی اسکینڈل نہیں بلکہ یہ جدید دنیا کے اخلاقی دعووں، طاقت کے مراکز اور نام نہاد انسانی اقدار کے کھوکھلے پن پر ایک کاری ضرب ہیں۔ جیفری ایپسٹین کا نام اب کسی فردِ واحد تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے عالمی نظام کی علامت بن چکا ہے جہاں دولت، اختیار اور تعلقات قانون، انصاف اور انسانی وقار کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔
یہ فائلز بتاتی ہیں کہ کس طرح عالمی سیاست، سرمایہ داری، میڈیا اور اشرافیہ کے بااثر چہرے برسوں تک کم سن بچیوں کے استحصال جیسے سنگین جرائم پر پردہ ڈالے رکھتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سب ہوا کیسے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے برسوں تک سب جانتے ہوئے بھی خاموش کیوں رہے؟ اور اس سے بھی زیادہ تشویشناک سوال یہ ہے کہ آج بھی بہت سے ضمیر کیوں سوئے ہوئے ہیں۔
یہاں بات صرف مغرب کی منافقت تک محدود نہیں رہتی، بلکہ نگاہ خود بخود پاکستانی لبرل طبقے کی طرف بھی اٹھتی ہے، جو عمومی طور پر انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور اخلاقی اقدار کے سب سے بڑے علمبردار بن کر سامنے آتا ہے۔ مگر ایپسٹین فائلز جیسے معاملات پر ان کی خاموشی ایک گہرا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
پاکستان میں لبرل بیانیہ اکثر انتخابی اخلاقیات (Selective Morality) کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اگر کسی مذہبی شخصیت، مدرسے، یا مقامی سماجی ڈھانچے پر الزام ہو تو فوراً تنقیدی مضامین، ٹاک شوز، سوشل میڈیا مہمات اور عالمی مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ مگر جب معاملہ مغربی طاقت کے مراکز، معروف عالمی رہنماؤں یا "ترقی یافتہ دنیا" کے بااثر افراد تک پہنچ جائے تو یہی آوازیں یا تو خاموش ہو جاتی ہیں یا معاملے کو ثانوی بنا دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مخصوص ذہنی غلامی کی علامت ہے۔ پاکستانی لبرل طبقے کا ایک حصہ مغرب کو صرف ترقی، آزادی اور انصاف کا استعارہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی معیار (Moral Benchmark) سمجھتا ہے۔ اس سوچ کے تحت مغربی معاشروں کی برائیاں "سسٹم کی خرابی" کہہ کر نظر انداز کر دی جاتی ہیں، جبکہ مشرقی یا مذہبی معاشروں کی خامیوں کو پورے کلچر کا عیب قرار دیا جاتا ہے۔
ایپسٹین فائلز اس تصور کو جڑ سے ہلا دیتی ہیں۔ یہ فائلز واضح کرتی ہیں کہ اخلاقی زوال کسی ایک مذہب، تہذیب یا جغرافیے کا مسئلہ نہیں بلکہ طاقت کے بے لگام ارتکاز کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جہاں جواب دہی ختم ہو جائے، وہاں استحصال جنم لیتا ہے، چاہے وہ نیویارک ہو، لندن ہو یا پیرس۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کا مسئلہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔ اگر پاکستانی لبرلز واقعی خواتین کے استحصال کے خلاف ہیں تو انہیں ایپسٹین جیسے اسکینڈلز پر بھی اسی شدت سے آواز اٹھانی چاہیے۔ ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا چلا جائے گا کہ ان کا احتجاج اصولوں پر نہیں بلکہ شناختوں پر مبنی ہے۔
خاموشی بذاتِ خود ایک سیاسی اور اخلاقی عمل ہوتی ہے۔ جب باخبر لوگ خاموش رہتے ہیں تو وہ لاشعوری طور پر ظالم کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز پر خاموشی دراصل اس عالمی نظام کی توثیق ہے جو طاقتور کو تحفظ اور کمزور کو انصاف سے محروم رکھتا ہے۔
یہ کالم کسی فرد یا پورے طبقے کو مطعون کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک فکری محاسبے کی دعوت ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ، باوقار اور اخلاقی دنیا کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنے پسندیدہ بیانیوں سے باہر نکل کر بھی سچ بولنے کی جرات پیدا کرنا ہوگی۔ اصول وہی معتبر ہوتے ہیں جو سب کے لیے یکساں ہوں۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ: کیا ہمارا ضمیر واقعی آزاد ہے؟ یا ہم بھی طاقت کے عالمی بیانیے کے خاموش قیدی بن چکے ہیں؟
ایپسٹین فائلز صرف مغرب کا آئینہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے فکری تضادات، تعصبات اور منافقت کا عکس بھی ہیں۔

