Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Ismail
  4. Dehshat Gardi Ke Khilaf Faisla Kun Hikmat e Amli Waqt Ki Zaroorat

Dehshat Gardi Ke Khilaf Faisla Kun Hikmat e Amli Waqt Ki Zaroorat

دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمتِ عملی وقت کی ضرورت

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، کٹھن اور خونریز جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول سے لے کر مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، سکولوں اور عوامی مقامات تک، دہشت گردی نے ملک کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہو جس نے اس جنگ کی تلخیاں کسی نہ کسی صورت میں نہ دیکھی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کا معاملہ محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال بن چکا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں ایک مرتبہ پھر پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف مواقع پر پاکستانی حکام کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض دہشت گرد گروہ سرحد پار محفوظ ٹھکانے استعمال کرتے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستان بارہا اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر چکا ہے اور اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب، قومیت یا انسانیت نہیں ہوتی۔ ان کا مقصد صرف خوف پھیلانا، ریاستی اداروں کو کمزور کرنا اور عوام میں بے یقینی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ایسے عناصر سے مذاکرات، نرمی یا وقتی مفاہمت اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک وہ ہتھیار چھوڑ کر ریاست کے آئین اور قانون کو تسلیم نہ کریں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مستقل مزاجی، مضبوط انٹیلی جنس، مؤثر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور واضح قومی پالیسی ہی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردوں اور عام شہریوں میں واضح فرق رکھا جائے۔ کوئی بھی کارروائی ہمیشہ قانون، بین الاقوامی اصولوں اور انسانی جان کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ عام شہری، خواہ وہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں، دہشت گردی کے سب سے بڑے متاثرین ہوتے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کا تحفظ ہر ذمہ دار ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے تعلیمی اصلاحات، معاشی استحکام، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، مؤثر بیانیہ اور قومی یکجہتی بھی ناگزیر ہیں۔ جب نوجوانوں کو تعلیم، امید اور ترقی کے مواقع میسر ہوں گے تو شدت پسند تنظیموں کے لیے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اس جنگ میں ہمارے سکیورٹی اداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔ ان قربانیوں کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی میں کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔ ریاست کو اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے ہر وہ قانونی اور مؤثر قدم اٹھانا چاہیے جو عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اس کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو ایسے مؤثر تعاون کی ضرورت ہے جس کے ذریعے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ اگر دونوں ممالک اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف تعاون کریں تو نہ صرف خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام بھی بہتر مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا ایک قوم کا مسئلہ نہیں۔ خیبرپختونخوا کا پشتون، پنجاب کا پنجابی، سندھ کا سندھی، بلوچستان کا بلوچ، گلگت بلتستان کا شہری، آزاد کشمیر کا کشمیری یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں رہنے والا فرد، سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور سب کی جان یکساں قیمتی ہے۔ دہشت گرد جب حملہ کرتا ہے تو وہ کسی زبان، نسل یا مسلک کو نہیں دیکھتا، بلکہ پاکستان کی سلامتی کو نشانہ بناتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مسئلہ سمجھیں۔ ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف تقسیم نہیں بلکہ اتحاد ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔

امن یقیناً ہر قوم کی خواہش ہوتا ہے، لیکن امن صرف خواہش سے قائم نہیں رہتا۔ امن کے لیے طاقتور ریاستی ادارے، مؤثر قانون، بروقت فیصلے، مضبوط انٹیلی جنس نظام اور واضح قومی عزم ضروری ہوتے ہیں۔ اگر کوئی گروہ ہتھیار اٹھا کر معصوم شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنائے تو ریاست کے پاس اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے قانونی اور مؤثر اقدامات کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔

آج کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مستقل مزاجی، حکمت، اتحاد اور قومی مفاد کے تحت آگے بڑھایا جائے۔ جذبات وقتی ہو سکتے ہیں، مگر قومی سلامتی مستقل ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کرنی ہے جہاں بچے خوف کے بغیر سکول جائیں، مساجد میں عبادت سکون سے ہو، بازار آباد رہیں اور ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔

یہی وہ پاکستان ہے جس کے لیے ہمارے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ کامیابی ہوگی، کیونکہ امن ہی ترقی، خوشحالی اور قومی استحکام کی بنیاد ہے۔

Check Also

Zindagi Kitni Haseen Hai

By Aftab Alam