1.  Home
  2. Blog
  3. Hasnain Haider
  4. Iran Ne Falasteen Ke Liye Kiya Hi Kya Hai?

Iran Ne Falasteen Ke Liye Kiya Hi Kya Hai?

ایران نے فلسطین کیلٸے کیا ہی کیا ہے؟

جہاں عربوں نے اپنی غیرت و دین قربان کردیا وہیں ایران نے کیا انجام دیا ہے؟ ایران امریکہ و اسرائیل سے اندر سے ملا ہوا تو نہیں؟ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران خطے کی ساری مزاحمت کار تنظیموں اور عسکری ملیشیاٶں کو حمایت و ہتھیار فراہم کرتا ہے، سماجی و سیاسی اور معاشی سپورٹ دیتا ہے تاکہ وہ اسرائیل سے رومانس کر سکیں۔

ایران کی حمایت یافتہ لبنانی سیاسی وعسکری تنظیم حزب اللہ ڈائریکٹ صیہونی حکومت کے کنٹرول علاقوں میں حملہ نہیں کر رہی، کیوں؟ کیونکہ جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیل جاتا جبکہ لبنان گزشتہ کئی سالوں سے معاشی و سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ جو اعتماد حزب اللہ کا اپنی عوام میں ہے وہ کھو دینگے، البتہ گوریلا اسٹائل اور شارٹ ٹمپرڈ حملوں سے اسرائیل کو بہت بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ لبنانی سرحد مکمل طور پر خالی ہوچکی ہے، تنصیبات و آلات مکمل مفلوج کر دیئے گئے ہیں۔ مقبوضہ فلسطین کا شمالی حصہ مکمل طور پر 8 اکتوبر سے خالی ہوچکا ہے اور حزب اللہ کے 270+ جوان شہید ہوچکے ہیں، یہ اعتراض یہیں دم توڑ جاتا ہے کہ حزب اللہ تو اسرائیل سے جنگ سے کی ہی نہیں۔ پھر جولائی 2006 کی جنگ کیا تھی؟

ایران کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ داعش و بوکو حرام جیسی سلفی و تکفیری وہابی تنظیموں سے شام و عراق میں برسرِ پیکار رہا ہے جو ہزاروں میل دور روس و فرانس اور افریقہ میں تو حملے کر سکتی ہیں لیکن شام پر قبضے کے بعد اسرائیل کی طرف ایک پتھر تک نہیں پھینکتیں۔ تاہم ایران کو اسلامی جھاد فلسطین، حماس، حزب اللہ، عراق کی حشد الشعبی، یمن کے حوثیوں کو مضبوط کرکے مقبوضہ فلسطین کی آزادی کیلئے صیہونی حکومت کو مکمل گھیر چکا ہے۔ کیونکہ ایک طاقتور انسان کو مارنے کیلئے پہلے اس کو زخمی و کمزور کرکے اسکا سر اڑانا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

یہاں پہ ایک بنیادی سوال ہے کہ ایران اسرائیل پر ڈائریکٹ حملہ کیوں نہیں کرتا؟ صیہونی مغربی عوام میں اپنا اور اپنی اتحادی حکومتوں کا امیج خراب ہوتا دیکھ کر اول روز سے ہی جنگ پھیلانا چاہتے تھے تاکہ ایران مخالف محاز کھڑا کرکے مغربی فوجی اتحاد بنا کر ایران پہ حملہ کرکے بات ختم کردیں۔ لیکن ایسا ایران نے موقع نہ دیا۔۔ تاہم یہی کوشش انکی یمن کے خلاف نظر آئی جوکہ اتحاد بنانے کے معاملے میں کمزور رہی۔ لیکن یمانیوں پہ ثانوی نوعیت کا حملہ کیا گیا۔

جبکہ مشرقِ وُسطیٰ میں امریکہ بہادر بھی موجود ہے جو کسی بھی اگریشن کی صورت میں اپنے اتحادیوں کو ایران مخالفت کا چورن پیش کرکے مسئلہِ فلسطین سے دنیا کی نظر گھما کر گلف وار شروع کردے گا۔ اسکا نقصان فلسطین کو ہوگا۔ کیسے؟ یوکرین جنگ شروع ہوئی تو دنیا و مغرب کی نظر وہیں ٹکی تھی۔ اقدار و تہذیب اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ پھر آ گیا سات اکتوبر 2023، مغربی افکار و اقدار اور انسانی حقوق کے کھوکھلے نعرے بےنقاب ہو گئے، پوری دنیا یوکرین کو چھوڑ کر اسرائیلی حملوں کے خلاف باہر نکل کھڑی ہوئی۔ اسی تناظر میں اگر ایران یا حز ب اللہ کوئی غلطی کرتی تو یہ جنگ اپنی نوعیت اور مقصد دونوں کھو دیتی۔

البتہ یمن کے حوثی ایک الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ وہ انٹرنیشنل سسٹم میں recognized نہیں۔ لبنان و ایران انٹرنیشنل سسٹم اور UN میں اہم ترین ممالک ہیں۔ انکی جنگ میں ڈائریکٹ شرکت پر مغرب نے جو دوغلہ پن کرنا تھا وہ الگ تھا جبکہ یمن کے حوثی چونکہ باقاعدہ تسلیم شدہ مملکت و حکومت نہیں رکھتے لہذا وہ ایک ثانوی عسکری قوت کے عنوان سے ہیں۔

اب دمشق پر سفارتخانوں و قونصلیٹ پہ حملہ عالمی قوانین کی واضح خلاف ورزی تھی جس پر ایران نے فوری طور پر UN سے احتجاج کیا جس پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اب ایران جوابی حملے کا حق محفوظ کر چکا تھا اس سب سے۔ لہذا اب کی بار ایرانی حملہ جنگ کو پھیلا کر اپنے ہی حق میں کرے گا۔ فقط اس ایک جوابی کارروائی کے ص کی وجہ سے صیہونی (اسرائیلی) قابض حکومت دنیا کے 28 سے 30 ممالک میں اپنے سفارتخانے بند کرکے عملہ واپس بلوا چکی ہے۔ جبکہ ایران نے اپنی ملٹری انسٹالیشنز کو ایران سے باہر شام میں اور شام کے رستے لبنان میں حزب اللہ تک منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔

عربوں سمیت ترکیہ و آزربائجان جو فقط سیاسی بیانات کی حد تک اسرائیل سے سیزفائر کا مطالبہ کرتے رہے، اسرائیل کو توانائی کی رسائی و کھپت فراہم کرتے رہے، کسی تکفیری و ناصبی نے اعتراض نہیں کیا۔ لیکن اِن کے مطابق ایران نے فلسطین کیلئے کچھ نہیں کیا۔ جبکہ حماس، اسلامی جھاد فلسطین، حزب اللہ لبنان، انصار اللہ یمن، حشد الشعبی عراق سب مزاحمت کی تنظیمیں ایران کی مشکور و ممنون ہیں۔ ایران نے عملاً سلطنتِ عمان کے زریعے امریکہ بہادر کو پیغام بھیجا ہے کہ ہم اسرائیلی قابض حکومت پر اس شرط پر محدود حملہ کرینگے کہ وہ فوراً سیز فائر کرکے غزہ کی پٹی خالی کر دے۔

Check Also

Phoolon Aur Kaliyon Par Tashadud

By Javed Ayaz Khan