Zindagi Aik Mojzati Safar
زندگی ایک معجزاتی سفر

اس سفر میں ہم زندگی کو مختلف حصوں میں بانٹ کر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ انسان کا پیدا ہونا ایک معجزے سے کم نہیں۔ آج تک دنیا میں جو بھی شخص پیدا ہوا ہے، وہ ایک حیرت انگیز، غیر یقینی اور معجزاتی عمل کا نتیجہ ہے۔ عالمِ ارواح سے جسم اور روح کے ملاپ تک کا یہ سفر ایسا مرحلہ ہے جس کا طے ہونا اور پروان چڑھنا خود ایک معجزہ ہے۔ اس دنیا میں پہلی سانس لینا انسان کی پہلی بڑی کامیابی ہے، جو رب کی عطا کردہ نعمت ہے۔
Population Reference Bureau (PRB) کے مطابق اب تک تقریباً 117 ارب انسان اس دنیا میں آ چکے ہیں اور ہر انسان مکمل طور پر منفرد ہے۔ یعنی آپ جیسا کوئی دوسرا انسان ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ہر شخص اپنی ذات میں نایاب اور بے مثال ہے۔
تحقیقی مطالعے Volk and Atkinson 2013 کے مطابق قدیم انسانی معاشروں میں تقریباً 25 سے 30 فیصد بچے ایک سال کی عمر سے پہلے وفات پا جاتے تھے، جبکہ آج کے دور میں یہ شرح کم ہو کر تقریباً 2.7 فیصد رہ گئی ہے۔ اس سے ہماری خوش نصیبی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رب نے ہمیں کب، کیوں اور کیسے چُنا۔ ہم ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے ہیں جہاں صحت کی سہولیات موجود ہیں اور ہمارے زندہ رہنے کے امکانات کو بڑھا رہی ہیں۔
پیدائش کے بعد سب سے بڑی نعمت صحت ہے۔ یہ بھی رب کے انعامات میں سے ایک عظیم نعمت ہے، جو ہر انسان کو میسر نہیں ہوتی۔ خوش نصیب لوگوں کے حصے میں یہ دولت آتی ہے۔ WHO کے مطابق تقریباً 6 فیصد، یعنی لگ بھگ 80 لاکھ بچے پیدائشی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پرانے نہیں بلکہ جدید طب کے دور کے ہیں۔ ہم رب کی کس کس نعمت کو جھٹلا سکتے ہیں؟
انسان کی فطرت یہ ہے کہ جب اسے کوئی نعمت مل جاتی ہے تو اس کی توجہ اس سے ہٹ جاتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ کس معجزاتی انداز میں اس پر رحمتیں برس رہی ہیں۔ انسان مزید کی تلاش میں موجود نعمتوں کی قدر کم کر دیتا ہے اور چند خواہشات کی خاطر گِلے اور شکووں کا سہارا لینے لگتا ہے۔
اگرچہ اس انداز کے پیچھے صرف انسان کی اپنی غلطی نہیں، بلکہ ہمارا ماحول اور ثقافت بھی اسے اس رویّے پر مجبور کرتے ہیں۔ یوں نہ چاہتے ہوئے بھی محرومی کے جذبات اسے جکڑے رکھتے ہیں۔
پھر زندگی کا ایک اہم مرحلہ آتا ہے جسے بچپن کہا جاتا ہے۔ یہ دور ذہنی سکون کا سنہری زمانہ ہوتا ہے۔ جہاں دنیا فتح کرنے سے لے کر ستاروں تک کے سفر صرف چند لمحوں کے خواب محسوس ہوتے تھے۔ ہر انسانی جذبہ اپنی پوری آزادی سے ظاہر ہو سکتا تھا۔ اچھے اور برے کی سیکھ میں ہر دن ایک نئی مہم کی طرح گزرتا تھا۔ نیند اور کھیل زندگی کے بہترین ساتھی ہوتے تھے۔ مگر یہ سہولتیں، یہ سکون اور یہ لمحے بھی رحمت اور معجزات ہی ہیں۔
WHO کے مطابق بچوں کے بچپن کے منفی تجربات (Adverse Childhood Experiences) میں تقریباً 60 فیصد بچوں نے تشدد، والدین سے علیحدگی، نظراندازی، بیماری یا دیگر تلخ حالات کا سامنا کیا۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ ان حالات نے انہیں وقت سے پہلے دنیا کی مشکلات میں دھکیل دیا اور وہ بچپن ہی میں ذہنی تناؤ اور اضطراب جیسے مسائل میں گرفتار ہو گئے۔
زندگی کا اگلا مرحلہ تعلیم اور جوانی سے منسلک ہوتا ہے۔ اس دور میں دنیا کو سمجھنے اور اپنے خاندان کو سنبھالنے کی جدوجہد شروع ہو جاتی ہے۔ زندگی کی خوشیاں اور سختیاں ایک ساتھ لے کر چلنے کی تربیت ملتی ہے۔
مگر تعلیم کی نعمت بھی ہر انسان کو نصیب نہیں ہوتی۔ UNESCO کے مطابق 1820 سے پہلے صرف 12 فیصد لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، جبکہ آج یہ شرح بڑھ کر تقریباً 87 فیصد ہو چکی ہے۔ ہمارا اس دور میں پیدا ہونا کوئی عام بات نہیں۔ ان تمام سہولیات کو استعمال کرنا، جن کا شاید پرانے لوگ تصور بھی نہ کر سکتے تھے، ایک بڑی نعمت ہے۔
موبائل، انٹرنیٹ، بجلی، ہوائی سفر، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI) اور بے شمار ایسی چیزیں جو 1800 اور 1900 سے پہلے لوگوں کے علم میں بھی نہ تھیں، آج ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
اسی دور کا ایک اور اہم پہلو جسمانی اور جنسی نشوونما ہے، جو معاشرتی لحاظ سے بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ مردوں کی مردانگی اور عورتوں کی عزت و وقار پر معاشرہ خاص زور دیتا ہے، مگر رب کی رضا کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔
WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق آج بھی تقریباً 7.8 فیصد لڑکیاں اور 3.9 فیصد لڑکے بلوغت سے متعلق مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر ان مسائل کا حل نہ ہو تو یہ صرف طبی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ معاشرتی لحاظ سے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں اور بعض اوقات عمر بھر کے طعنوں اور احساسِ محرومی کا سبب بن جاتے ہیں۔
ان تمام حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نعمت ایک معجزہ، ایک رحمت اور ایک انفرادیت رکھتی ہے، جنہیں ہم اکثر بھلا بیٹھتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ کسی نے ہمیں کبھی ان نعمتوں کی اصل قدر سمجھانا ضروری ہی نہیں سمجھا۔
انسانی زندگی کا یہ وہ دور ہے جہاں انسان کبھی صرف اپنے لیے نہیں جیتا۔ یہاں جذبات، رشتے، روزگار اور نئی نسل کی نشوونما جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ انسان کی خاندانی زندگی کے پھلنے پھولنے کے اعتبار سے نہایت نازک ترین دور ہوتا ہے۔ یہاں چند فیصلے زندگیاں بدلنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ اسی مرحلے میں بے روزگاری، مہنگائی، سیاست، زندگی، موت اور اِن سے نمٹنے کی کشمکش انسان کو آزماتی ہے۔ سختیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک معجزاتی عمل ہے۔
عالمی بے روزگاری کی شرح (Global Unemployment Rate) موجودہ دور (2026) میں تقریباً 4.9% ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 186 ملین (18.6 کروڑ) افراد بے روزگار ہیں۔
عالمی سطح پر نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 12.4% ہے۔
جدید تاریخ میں شادی کے رجحان میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ترقی یافتہ (OECD) ممالک میں شادی کی شرح سن 2000 میں فی 1000 افراد 5.1 تھی، جو آج کم ہو کر تقریباً 3.8 رہ گئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر 6 میں سے 1 شخص بانجھ پن (Infertility) کا شکار ہے۔ اِس لیے ہر اُس شخص کو، جسے اولاد کی نعمت حاصل ہے، رب کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ والدین کی سب سے بڑی، اہم اور فطری خواہشات میں سے ایک اولاد کی خواہش بھی ہے۔ یہ تمام حقائق انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں۔ کہ وہ ایک معجزاتی اور حیرت انگیز سفر طے کر رہا ہے۔
یہاں تک پہنچنا قدیم دور سے 1800ء تک ایک خواب تھا، جو انتہائی کم خوش نصیب لوگوں کے حصے میں آتا تھا۔ کیونکہ تحقیق کے مطابق 1800ء سے قبل اوسط عمر صرف 25 سے 40 سال کے درمیان ہوتی تھی، جو اب جدید طریقۂ علاج کی بدولت بڑھ کر تقریباً 70 سال تک پہنچ گئی ہے۔
یہ مرحلہ ایک بونس کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جہاں انسان اپنی زندگی میں لگائے ہوئے بیجوں کو پھلتے پھولتے دیکھ سکتا ہے۔ یہ مرحلہ صرف چنندہ لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔
ان سب مراحل کے بعد انسان اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملتا ہے، جس نے اسے تمام تر معجزات سے نوازا تھا اور ایک نئی مگر مستقل زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ°
ترجمہ: "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"
اور صرف شکر، شکر اور شکر کو اپنا شیوہ بنائیں۔

