Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Hannan Sher
  4. Sindoor Aur Deewar

Sindoor Aur Deewar

سندھور اور دیوار

سندھور اور دیوار کو جاننے سے پہلے ہمیں زیادہ دور نہیں جانا چاہیے، بلکہ 22 اپریل 2025 کے واقعات پر غور کرنا ہوگا، جس دن بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کے علاقے بیساران ویلی میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جسے آج پہلگام اٹیک کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ ایک انتہائی گھناؤنا واقعہ تھا، جس میں وہ لوگ جو سیاحتی مقام پر اپنے دکھ درد بھلانے کی غرض سے پہنچے تھے، اپنی زندگی کا درد لے کر واپس گئے۔ رپورٹس اور عینی شاہدین کے مطابق پہلا فائر تقریباً دوپہر 1:50 بجے کیا گیا، جبکہ کچھ کے مطابق حملہ دوپہر 1:00 بجے سے 3:00 بجے کے درمیان ہوا، جب وادی میں سیاحوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس دوران انسانیت کو شرمندہ کر دینے والا ایک باب شروع ہوا۔ اندھا دھند فائرنگ سے 26 افراد جاں بحق ہوئے۔ کئی ماؤں کی اولادیں، بہنوں کے بھائی اور خاندانوں کے کفیل اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک بار پھر انسانی جانیں سیاست کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

بھارت نے اپنا روایتی انداز اپنایا اور واقعے کا سارا ملبہ پاکستان کے سر ڈال دیا۔ اس سازش کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں اور پاکستان کے نام پر اپنی سیاست کو چمکانا تھا۔ اس کے سیاسی اثرات درج ذیل ہیں:بہار اسمبلی انتخابات (نومبر 2025) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات (مئی 2026) دہلی اسمبلی انتخابات (فروری 2025/2026) اور دیگر انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرنا۔ اگر دیکھا جائے تو پہلگام واقعہ بھارت کا ایک بڑا انٹیلیجنس فیلیر تھا، مگر مودی نے چالاکی سے پہلے ہی عوام کا ذہن بنا رکھا تھا، جس کا ثبوت اس کی انتخابی کامیابیوں کی صورت میں سامنے آیا۔ مودی نے عوام کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس حملے کا بدلہ ضرور لے گا، جس کے نتائج ہم نے 7 سے 10 مئی 2025 کے درمیان ایک جنگ کی صورت میں دیکھے۔

(پاکستانی موقف) پہلا اسٹرائیک:آپریشن کا باقاعدہ آغاز 7 مئی 2025 کو صبح 1:05 بجے ہوا۔ ابتدائی فضائی حملے تقریباً 25 منٹ تک جاری رہے، یعنی 1:30 بجے تک۔ یہ آغاز اس انجام کا تھا جس کا بھارت نے نہ کبھی سوچا تھا اور نہ سمجھا تھا۔ بھارت کے مطابق یہ دہشت گردی کے خلاف ایک بڑا آپریشن تھا، مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا، خاص طور پر ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک پر، کتنی بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ بھارت نے اپنی فضائیہ اور میزائلوں کے ذریعے کل 9 مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ، مظفرآباد، کوٹلی، شکر گڑھ، گول پور، برنالہ اور تہرہ کلاں کے علاقے شامل تھے۔ جن گروپس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ان میں لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، حزب المجاہدین اور ٹی آر ایف شامل تھے۔

پاکستان نے بھارت کی اس جارحیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا۔ (پاکستانی افواج کے دعوے کے مطابق) پاکستان نے اپنے JF-17 تھنڈر، J-10C اور F-16 جنگی طیارے فضا میں بلند کیے اور بھارتی 6 طیاروں کو مار گرایا، جن میں شامل تھے 4 رافیل 1 Su-30 1 میراج طیارہ اس نقصان نے بھارت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ ایک طرف فضائی نقصان اور دوسری طرف سرحدی گولا باری نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویشناک صورتحال پیدا کر دی۔

بھارت نے ہوش کے ناخن لینے کے بجائے جنگ کو مزید طول دیا اور پاکستان کے فضائی اڈوں پر حملے شروع کر دیے، جن کے لیے اس نے اپنے براہموس میزائل استعمال کیے۔ ان حملوں کو پاکستان نے کامیابی سے روک کر بھارت کو پیغام دیا کہ ہم ہر وقت اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان ڈرونز کا بھی تبادلہ ہوا، جو جدید جنگوں میں استعمال ہونے والا ایک اہم ہتھیار ہے۔ یہ سلسلہ 9 سے 10 مئی 2025 تک جاری رہا۔ پاکستان نے متعدد بار بھارت کو وارننگ دی، مگر بھارتی قیادت کے سر پر جنگ کا جنون سوار تھا اور پاکستان کے لیے سندھور کا جواب دینا ایک اہم ضرورت بن چکا تھا۔

(بھارتی موقف) بھارت کا مؤقف اس نوعیت کا تھا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان کی افواج لاہور، بندرگاہ اور دیگر پاکستانی علاقوں پر قبضہ کر چکی ہیں اور کسی بھی وقت پاکستان بھارت کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر ملکی تفریق کو ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو بھی یہ مؤقف کسی مذاق سے کم نہیں تھا۔

پاکستان کا جواب، جیسے بنیان المرصوص کا نام دیا گیا (اس تحریر میں دیوار سے تشبیہ دی گئی ہے)۔ (پاکستانی موقف کے مطابق) آپریشن کا باقاعدہ آغاز 10 مئی 2025 کی صبح (فجر کے وقت) ہوا، جب پاکستان نے بھارت کی 26 اسٹریٹجک فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں شامل ہیں پٹھان کوٹ ایئر بیس، ادھم پور ایئر بیس، آدم پور ایئر بیس، بیاس (براہموس میزائل سائٹ)، نگروٹا (کمانڈ سینٹر اور میزائل سائٹ)، سری نگر (ناردرن کمانڈ ہیڈ کوارٹر)، اکھنور ایوی ایشن بیس، بھٹنڈہ ایئر فیلڈ، سرسا ایئر فیلڈ، حلواڑہ ایئر بیس، جالندھر ایئر بیس، صورت گڑھ ایئر بیس، مامن ایئر بیس، برنالہ ایئر بیس، بھوج (S-400 سائٹ)، اڑی سپلائی ڈپو، راجوری کمانڈ سینٹر، نوشہرہ ملٹری سائٹ۔ ان حملوں نے بھارت کا جنگی جنون پست کر دیا۔ پاکستانی افواج نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک کے دفاع کو یقینی بنایا۔ جیسے پاکستانی قوم آج "یومِ معرکہ حق" کے نام سے جانتی ہے۔

(بھارتی موقف) "میں نہ مانوں" کی رٹ کے سوا کچھ نہ تھا۔ بھارت نے پاکستان کے دعوؤں کو مسترد کر دیا اور عوام کو یقین دلایا کہ بھارت کی برتری واضح ہے۔ ہم نے اپنے اہداف کو مکمل کیا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ بھارت کے مطابق آپریشن سندھور اب بھی جاری ہے۔

تمام نقصانات اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ممالک کے ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنز (DGMOs) کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا، جس میں تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا گیا۔ اب تک یہ فیصلہ قائم ہے۔

Check Also

Reham o Hamdardi Insan Ki Asal Azmat

By Aftab Alam