Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Safwan
  4. Sindh Ka Pehla Dar Ul Hukumat Karachi: Sindh Ke Liye Bais e Sharaf o Iftikhar

Sindh Ka Pehla Dar Ul Hukumat Karachi: Sindh Ke Liye Bais e Sharaf o Iftikhar

پاکستان کا پہلا دارالحکومت کراچی: سندھ کے لیے باعثِ شرف و افتخار

بحیثیت پنجابی مجھے بہت فخر ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت پنجاب کی سرزمین کے اندر واقع ہے۔ یہ فخر مجھے اپنی انفرادی سطح پر بھی ہے اور اجتماعی طور پر بحیثیت پنجابی بھی۔ اس فخر میں باقی پنجابی بھی شامل ہیں۔ مگر جب میں دیکھتا ہوں کہ سندھی قومیت اور نسل پرست دوست اب تک اِس بات پر ناراض رہنے پر مصر ہیں اور اِس ناراضی کو اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کے "مقدس" کام کو بڑی تندِہی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں کہ کراچی کو قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کا دارالحکومت کیوں بنایا گیا، تو مجھے حیرت ہوتی ہے اور ساتھ ہی افسوس بھی۔

یہ تو بڑی عزت اور فخر کی بات تھی کہ ملک کے قیام کے بعد آپ کے صوبے سے ایک شہر کو اُس کا دارالحکومت بنانے کے لیے چنا گیا۔ لیکن ہمارے یہ دوست نہ صرف اِس کو عزت اور فخر کی چیز نہیں سمجھتے بلکہ اِس بات پر باقاعدہ اور مستقلًا ناراض ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ یہ دوست عزت اور فخر کی اِس چیز پر ناراض ہیں؟ یہ مضمون میں نے اِس موضوع پر لکھا ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت کیوں بنایا گیا تھا۔

میں اِن دوستوں سے درخواست کروں گا کہ وہ اِس موضوع پر میرا موقف بھی سنیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا کراچی کو سندھ سے الگ کرکے پاکستان کا دارالحکومت بنانا قصداً سندھ کے ساتھ زیادتی یا بدنیتی تھی؟

ہم سب اِس بات کو مانتے ہیں کہ سندھ کی ایک طویل تاریخ اور بہت ہی شاندار ثقافت ہے جس پر اِس کے باشندے بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔ اب جون سے اگست 1947ء کی صورتِ حال پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ یہ ایک عبوری دور تھا۔ برطانوی راج ختم ہو رہا تھا اور ایک نیا دور شروع ہونے والا تھا۔ اُس دور میں آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن جلدی میں تھے۔ وہ 22 مارچ 1947ء کو ہندوستان پہنچے تھے اور اُنھیں ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ جون 1948ء تک ہندوستان کے مستقبل کے لیے ایک قابلِ عمل اور سب کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کریں، اقتدار کو جانشینِ ریاست یا ریاستوں کو منتقل کر دیں اور وہاں موجود تمام برطانوی نظام کو لپیٹ کر ہندوستان چھوڑ دیں۔ اُنھوں نے اپنی آمد کے فوری بعد ہندوستان میں موجود قطبی تقسیم کی شدت کا اندازہ لگا لیا اور اقتدار منتقل کرنے کی تاریخ کو قریب لانے کا فیصلہ کیا اور اِس کے لیے 15 اگست 1947ء کی تاریخ مقرر کی۔ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے تین ماہ کے اندر اُنھوں نے ایک اور فیصلہ کیا کہ ایک بہت بڑی خانہ جنگی اور اُس کے نتیجے میں برپا ہونے والے ناقابلِ تصور خون خرابے سے بچنے کا واحد راستہ دو ملک بنانا ہے۔

یہ اعلان 3 جون کو کیا گیا اور اِسی تاریخ کے حوالے سے یہ "3 جون پلان" کہلایا۔ اِس کے تحت اِس اعلان کے صرف 72 دن کے عرصے میں دو نئے ملک ایک ہی دن بنائے جانے تھے۔

اگرچہ دونوں ملک ایک ہی دن (یا ایک دن کے وقفے سے) بنائے جانے تھے، لیکن دونوں میں ایک بڑا فرق تھا: بھارت میں کلکتہ اور دہلی کی شکل میں ایک چھوڑ دو دو دارالحکومت موجود تھے، جہاں سے برطانوی راج، مغل سلطنت اور دہلی سلطنت کا نظام چلایا جاتا تھا۔ اِن شہروں میں کسی بھی سلطنت، بادشاہت یا جدید ریاست چلانے کے لیے درکار تمام بنیادی ڈھانچہ اور ریاستی ساز و سامان موجود تھا اور دارالحکومت سے آنے اور جانے والی مواصلات کے تمام نظام اور پروٹوکول موجود تھے۔ نیز تمام صوبے بڑی مدت سے اِن نظاموں کے تحت اِن صوبوں سے جڑے ہوئے تھے۔

اِس کے برعکس پاکستان کی ریاست پہلی بار بنائی جا رہی تھی۔ اِس میں شامل ہونے والے چار صوبوں (اور پانچ آزاد علاقوں کو ایک انتظامی علاقہ قرار دے کر اِس موقع پر صوبہ بلوچستان قرار دینے یعنی پانچواں صوبہ بنانے) کی ایک دوسرے کے ساتھ پاکستان کی طے کی جانے والی سرحدوں کے اندر ایک ریاست کے طور پر رہنے کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔ اِن پانچوں صوبوں کے مواصلات کے نظام اور کنٹرول اب تک انفرادی طور پر براہِ راست دہلی سے چلتا رہا تھا۔

لہٰذا، پاکستان کی تشکیل کے وقت اِس میں صوبائی نظام اور ساز و سامان تو موجود تھا، لیکن ریاست چلانے کا نظام موجود نہیں تھا۔ اِس میں کوئی دارالحکومت نہیں تھا جس سے پانچوں صوبے پہلے سے جڑے ہوئے ہوں۔

چنانچہ، پاکستان کو ایک نیا دارالحکومت درکار تھا۔ یہاں ساز و سامان، بنیادی ڈھانچہ، سول سروس، عدلیہ، پارلیمنٹ اور ملک کو ملک کے اندر سے چلانے کے طریقِ کار اور پروٹوکول کو صفر سے بنانے کی ضرورت تھی۔

اِس سلسلے میں پہلا کام ایک ایسے شہر کا انتخاب کرنا تھا جسے دارالحکومت کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ تین ماہ کے اندر ایک نئے شہر کی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور تعمیر کرنے کا وقت نہیں تھا۔ لہٰذا، کسی پہلے سے موجود شہر کا ہی انتخاب کرنا تھا۔ اِس شہر کو اِتنا بڑا اور جدید ہونا ضروری تھا کہ وہ ایک ملک کے دارالحکومت کے طور پر کام کرسکے۔

دارالحکومت کے لیے چاہے ایک نیا شہر بسایا جاتا، یا پہلے سے موجود کسی شہر کا انتخاب کیا جاتا، اُسے پاکستان میں موجود پانچ صوبوں میں سے کسی ایک کے علاقے کے اندر واقع ہونا تھا۔ دارالحکومت کے لیے منتخب ہونے کے بعد اُس شہر کو اپنے صوبے سے جدا کرکے دارالحکومت کا علاقہ قرار دیا جانا تھا۔

تاریخی طور پر ایک اہم بات جسے ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے اور جس پر بہت کم لوگ غور کرتے ہیں، یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کا قیام 14/15 اگست کو ہوا تھا، لیکن اپنے قیام کے وقت دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کا اعلان نہیں ہوا تھا اور اِن کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا، قیام سے پہلے تو بالکل بھی نہیں۔ ریڈکلف ایوارڈ کا اعلان 17 اگست 1947ء کو ہوا یعنی دونوں ملکوں کی تشکیل کے 2 دن بعد۔

ایک اور اہم نکتہ جو ہمیں مدِنظر رکھنا چاہیے وہ اپنے قیام کے وقت پاکستان کا عجیب جغرافیہ تھا۔ یہ ملک دو خطوں پر مشتمل تھا جو برِصغیر کے الگ الگ کونوں میں واقع تھے اور اِن کے درمیان 1000 میل کا فاصلہ تھا۔ بیچ میں بھارت واقع تھا اور اِن کے دونوں حصوں کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہیں تھا۔ لہٰذا ایسے ملک کے دارالحکومت کے لیے یہ بات ضروری تھی کہ دونوں بازوؤوں کے عوام کی اُس تک رسائی ہوسکے۔

اِس پس منظر کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ کراچی کے معاملے میں کیا ہوا۔

چونکہ اقتدار کی منتقلی 14 اگست کو ہوئی اور 17 تاریخ تک یہ اعلان نہیں کیا گیا تھا کہ لاہور پاکستان میں شامل ہوگا یا بھارت میں، اِس لیے اُسے آزادی کے دن دارالحکومت نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ لاہور کے انتخاب کے خلاف ایک اور بات یہ جاتی تھی کہ یہ سرحد کے بہت قریب تھا اور اِس لیے ملک کے دارالحکومت کے طور پر محفوظ نہیں تھا۔

مغربی ونگ کے دیگر بڑے شہر یعنی راولپنڈی، پشاور، لائل پور اور کوئٹہ وغیرہ مغربی بازو کے کافی اندر واقع تھے اور وہ مشرقی بازو کے لوگوں کے لیے بہت دور پڑتے تھے۔

اگلی بات یہ ہے کہ دارالحکومت کے لیے چاہے جو بھی شہر منتخب کیا جاتا، چاہے وہ ڈھاکہ، راجشاہی یا ملتان ہوتا، اُسے اس صوبے سے لینا پڑتا جس کا وہ حصہ تھا۔ اگر تمام صوبے اپنے علاقے میں واقع کسی شہر کو ملک کے لیے دارالحکومت بنانے سے انکار کر دیتے تو ملک کو دارالحکومت بنانے میں جدوجہد کرنی پڑتی۔

پوری دنیا میں کثیرالقوم اور کثیراللسان ریاستیں پائی جاتی ہیں۔ اِن کے باشندے اپنی بنیادی شناخت اپنی زبان، قوم یا علاقے، یا اپنے صوبے کے حوالے سے رکھتے ہیں جو انسانی فطرت کے مطابق ہے کہ آدمی خود کو پہلے اپنے آبائی علاقوں کی زمین کے ساتھ جوڑتا ہے جس میں اُس کے آبا و اجداد دفن ہوتے ہیں اور پھر اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ جو اُس کی آبائی/مادری زبان بولتے ہیں اور جن کی ثقافت اور تاریخ ایک ہو۔ لیکن وہ ساتھ ساتھ خود کو اپنے ملک کا شہری سمجھتے ہوئے اپنی ریاستی شناخت کو بھی خوشی خوشی اپناتے ہیں۔ وہ اپنی زبان، قوم، علاقے اور صوبے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کو بھی اپنا مانتے ہیں، اُس سے وفاداری استوار کرتے ہیں اور ریاست کے حوالے سے اپنے فرائض خوش دلی سے سرانجام دیتے ہیں۔

پاکستان میں علاقائی اور لسانی قوم پرستوں کی سوچ عجیب ہے۔ وہ اپنی بنیادی شناخت صرف اپنی زبان، قوم، آبائی علاقے اور صوبے سے استوار کرتے ہیں، جو کہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ لیکن وہ سختی، بلکہ شدت کے ساتھ ریاست کے حوالے سے شناخت سے انکار کرتے ہیں۔ مسئلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے صوبے سے محبت میں اپنی ریاست سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ ایک کثیرالقوم اور کثیراللسان ریاست کو اپنی تمام اکائیوں اور اُن میں رہنے والی تمام قوموں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے اِس لیے اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی درمیانی راستہ اپنایا جائے اور ساتھ ساتھ دنیا میں خود کو ایک ریاستی اکائی کے طور پر پیش کیا جائے۔ اِس کے لیے اُسے کچھ سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔

ہمارے قومیت پرست دوست اِن درمیانی راستوں اور اِن کی وجہ سے پاکستان سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ وہ "ریاست" کی اصطلاح کو گالی سمجھتے ہیں اور اُسے ظلم کا اوزار قرار دیتے ہیں۔ وہ برملا کہتے اور اِس کی تشہیر کرتے ہیں کہ ریاست اُن کی زبان اور ثقافت کو تباہ کرنے اور اُن کی "سچی (ان کے صوبے یا زبان سے جڑی ہوئی) شناخت" کو مٹانے کے لیے "جبری یکسانیت" تھوپ رہی ہے۔ وہ ہر اُس چیز کی شدید مخالفت کرتے ہیں جو قوم سازی کی طرف لے جائے۔ وہ ریاستی ضرورات اور مجبوریوں کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں اور اپنی ریاست کو وہی رعایت اور شک کا فائدہ نہیں دیتے جو وہ اپنے صوبے کو دیتے ہیں۔ وہ اپنے صوبے اور ریاست کو حریف بناکر پیش کرتے ہیں۔ اِس کے بعد ہر ممکن طریقے سے وہ اپنے نظریات اور ریاست سے نفرت کو ذاتی ملاقاتوں، دعوتوں، تقریبات، تربیتی نشستوں اور سوشل میڈیا پر پوری شدت سے مشتہر کرتے ہیں۔

قومیت پرستوں کا یہی وہ رجحان ہے جو کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے پر اِس شدید غصے اور مذمت کا سبب ہے۔

میں اِن لوگوں کے غصے کو سمجھتا ہوں۔ لیکن برائے مہربانی آپ اِس حقیقت پر غور کریں کہ نئے ملک کو کافی بڑے اور جدید دارالحکومت کی ضرورت تھی، جسے دارالحکومت اور صوبوں کے درمیان مواصلات کا مرکز بنایا جاسکتا ہو اور جو ملک کے دونوں بازوؤوں کے درمیان ایک پل ثابت ہوسکے اور وہ واحد شہر جو اُس وقت اِن سب شرائط پر پورا اترتا تھا وہ سندھ کے پاس کراچی کی صورت میں موجود تھا۔ یہ حقیقت اِس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کے ٹوٹنے کی وجوہات میں سے ایک دارالحکومت کراچی سے راولپنڈی/اسلام آباد منتقلی بھی تھی۔

میں اِن دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ کراچی 1947ء میں سندھ سے لے کر پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا تھا، لیکن یہ بہت زیادہ عرصے تک دارالحکومت رہا نہیں۔ 1956ء میں "ون یونٹ" بننے کے بعد رفتہ رفتہ پاکستان کے دارالحکومت کو راولپنڈی/اسلام آباد منتقل کیا جانا شروع کر دیا گیا تھا۔

جب ون یونٹ یکم جولائی 1970ء کو تحلیل ہوا تو کراچی سندھ کو لوٹا دیا گیا اور اُسے سندھ کا دارالحکومت بنا دیا گیا اور یہ تب سے سندھ کا دارالحکومت ہے۔

پاکستان تقریبًا 78 سال سے موجود ہے اور اِس دوران میں کراچی سندھ سے تقریبًا 15 سال دور رہا ہے۔ باقی تمام وقت یہ سندھ کا دارالحکومت رہا ہے۔ اِس کی سندھ کو واپسی کے بعد تین نسلیں پیدا ہوچکی ہیں جنھوں نے اِس کو سندھ کا حصہ ہی دیکھا ہے اِس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اِس معاملے پر غصے کو تھوک دیں اور مستقبل کی طرف دیکھیں۔ ہمیں چاہیے کہ پرانی باتوں کو بھلا کر اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے تعمیری کام کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم طالع آزما لوگوں کے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اُن کے آلہائے کار نہ بنیں۔ اِسی میں ہماری اور ہماری نسلوں کی بہتری پوشیدہ ہے۔

Check Also

Har Mard Doosri Shadi Kyun Nahi Kar Sakta?

By Hafeez Babar